Saturday, July 27, 2019

نظم مولوی کی فریاد

نظم مولوی کی فریاد
*ملے  خشک  روٹی  جو آزاد رہکر*
*وہ ہے مکتبوں میں پڑھانے سے  بہتر*
*مدرسوں کےناظم ہیں کچھ اس طرح کے*
*سمجھ تے ہیں خود کو منسٹر سے بڑھ کر*
*اگر کوئی  تعليم  دیتا وہاں  ہے*
*ہے ان کی نظر میں غلاموں سے بدتر*
*شب و روز رہتی ہے خواہش یہ ان کی*
*معلم  کی  تنخواہ  ہو  کم سے کم تر*
*پڑھائیں وہ طفلان سے عالمانہ*
*ہو مضمون بچوں کا ہر ایک ازبر*
*نکل کر یہاں سے ہر ایک گھر کا بچہ*
*علیگڑھ میں داخل ہو یا جامع ازہر*
*بھکاری کے مانند در در پھرے وہ*
*کرے جی حضوری وہ ہر روز جھک کر*
*اڑائیں  اراکیں   مرغ  و  مسلم*
*معلم گدائی کرےجاکے در در*
*ٹہل گھوم کر ہم نے دنیا ہے دیکھی*
*یہی حال پایا مدرسوں کا اکثر*
*ہے شاہد کے دل کی یہی التجا بس*
*سنائیں مری نظم جلسوں کے اندر*

No comments:

Post a Comment

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...