خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے
ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ناکامی کا سامنا کرنے کے بجائے ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی فرد یا جماعت ملت کی بہتری کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھاتی ہے تو ہم اس پر فرقہ وارانہ لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ ہم کسی کی نیت، اخلاص، یا جدوجہد پر غور کرنے کے بجائے اسے مسلکی اور گروہی خانوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔
یہی رویہ ہماری اجتماعی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اتحاد و یکجہتی کے اصول پر کاربند رہے تو دنیا پر حکمرانی کی، مگر جب فرقہ واریت، حسد، اور الزام تراشی نے ہمارے رویوں کو جکڑ لیا تو ہم مغلوب ہو گئے۔
*الزام تراشی کی روایت اور اس کے نقصانات*
آج ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ اگر کوئی مسلمان قوم و ملت کے لیے اچھا کام کرتا ہے تو ہم بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے، اس پر مسلکی یا نظریاتی لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی اصلاحی تحریک چلتی ہے تو ہم اسے ایک خاص طبقے یا گروہ سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے ہمیں علمی، معاشی اور سیاسی میدان میں کمزور کر دیا ہے۔
ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے جھوٹے نعرے بلند کرتے ہیں اور جن لوگوں کو حقیقتاً امت کی رہنمائی کرنی چاہیے، انہیں مسلکی تعصبات میں الجھا دیتے ہیں۔ ایسے نام نہاد قائدین کو ہم "شیر ببر" قرار دیتے ہیں جو صرف الفاظ کی گرج رکھتے ہیں لیکن عمل سے خالی ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جو لوگ واقعی ملت کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں، انہیں ہم اپنے بے بنیاد الزامات کا نشانہ بنا کر راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔
*تاریخ سے سبق*
تاریخ میں جب بھی مسلمانوں نے خوداحتسابی کی روش کو ترک کر کے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا، زوال ان کا مقدر بن گیا۔ خلافتِ عباسیہ کا زوال، اندلس کی بربادی، اور برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ، یہ سب اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ جب مسلمان خود کو دھوکہ دینے لگتے ہیں اور اصل مسائل سے منہ موڑ لیتے ہیں، تو ان کی عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔
ہمیں مذکور امور پر سو فیصد عمل کرنے کی ضرورت ہے؛
*خوداحتسابی پر عمل*
ہمیں اپنی ناکامیوں کا سبب خود تلاش کرنا ہوگا اور اپنی اصلاح کی طرف بڑھنا ہوگا۔
*فرقہ واریت اور مسلکی تعصب سے دوری*
اگر ہم اتحاد کے اصول پر عمل کریں اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے ان کے اچھے کاموں کو سراہیں، تو ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔
*عملی اقدامات*
صرف نعروں اور الزامات سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں عملی طور پر تعلیمی، سیاسی، سائنسی، اور اقتصادی ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔
*حقیقی قیادت کو پہچان*
ہمیں جھوٹے نعروں کے پیچھے جانے کے بجائے ان لوگوں کی قیادت قبول کرنی چاہیے جو واقعی ملت کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کے پلان پر چلنے کی ضرورت ہے جو محنت اور تجربے سے مسائل کی جڑ تک پہنچ کر اس کا حل اور پلان پیش کرتے ہیں نہ ان کی جو اسٹیج پر پان جباتے جباتے پلان بناکر پیش کرتے ہیں اور نعروں کی گونج ختم ہوتے ہی سرد ہو جاتے ہیں۔ یعنی ہمیں سنجیدہ اور ریسرچ و تحقیق پر مشتمل پلاننگ کی ضرورت ہے نہ کہ لفاظیوں کی۔
اگر ہم نے اپنا طرزِ فکر تبدیل نہ کیا اور الزام تراشی کی روایت کو جاری رکھا، تو مزید پستی میں چلے جائیں گے۔ ہمیں ایک متحد امت بننے کے لیے خوداحتسابی کی راہ اپنانا ہوگی، تعمیری سوچ کو فروغ دینا ہوگا، اور ایک دوسرے کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ہمیں بھی ان قوموں کی فہرست میں شامل کر دے گی جو اپنی نادانی کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے مٹ گئیں۔
محمد شہادت حسین فیضی


