Thursday, July 31, 2025

کیا علماء کا وقار انحطاط پذیر ہے

 *کیا علماء کا وقار انحطاط پذیر ہے؟* 

(تیسری اور آخری قسط)

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں

خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں

اپنے ایک دیئے کو چاند بتانے کے لیے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

دُنیا اور دُنیا کے لوگوں سے ڈر اور خوف جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خود غرضی یہ سب انسانیت اور انسانوں کے لیے ہلاکت خیز بیماریاں ہیں۔ جس کی تباہی و بربادی سے دو چار ہو کر ہم *انحطاط پذیر* ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے زخموں اور مجروح اعضاء پر یہ کہہ کر نمک پاشی کی جاتی ہے کہ یہ ہمارے رہبر اور رہنما ہیں۔ ہمارے امام ہیں اور مدارس کے معلمین ہیں۔ دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور کیسے کر رہے ہیں؟


وہ ذوی الاحترام عہدے، منصب اور القابات جو ہمارے اسلاف کے لیے کبھی شان و عظمت کی علامتیں ہوا کرتی تھیں، آج ہمارے لیے طعن و تشنیع اور ضرب المثل کے الفاظ ہو گئے ہیں۔ مثلاً:


1۔اسٹیج سے لڑائی جھگڑے کے انداز میں ناسمجھ میں آنے والی گرجدار اور کریہہ آواز جب شریفوں اور بیماروں کے کانوں سے ٹکراتی ہیں۔تو بس صرف ان کی آه ہی نکلتی ہے اور طنز سے کہتے ہیں کہ وہ دیکھو یہ فلاں علامہ ہیں جو قوم و ملت کو دھوکا دے رہے ہیں۔


2۔رنگ برنگ کی ٹوپی اور کرتا کے ساتھ جب گویوں اور جوکروں کی ٹولی جو کسی نہ کسی مدرسے کی علامتی تخلص کے ساتھ گھنٹوں ممبر رسول کی حرمت پامال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی تعلیم یافتہ شریف لوگ اور دین و سنت کو سیکھنے کی نیت سے آنے والے حضرات یہ کہہ کر رخصت ہونے لگتے ہیں کہ جو وعظ و نصیحت سننے کا وقت تھا وہ تو برباد ہو گیا، اب یہاں کیا رکھا ہے؟


3۔کيا، یہ صحیح نہیں ہے؟ کہ ہم اپنی غلط روی کی وجہ سے منزل سے بہت دور ہو گئے ہیں؟ ہاں، یہ بھی صحیح ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کی دنیا چمک رہی ہے، لیکن آخرت کے لیے ان کے پاس بھی کچھ نہیں ہے ۔وہ کون سی عبادت و ریاضت اور دین و سنت کی خدمات ہیں جو ریا و سمہ سے پاک ہیں؟ جو خالصتاً لوجہ اللہ ہے؟


واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی


برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی


رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی نہ رہی


فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی


جلسوں کی روحانیت ختم ہو گئی۔ صرف تماشہ، ریاکاری، مکاری رہ گئی ہے، العیاذ باللہ۔ الا ماشاء اللہ۔


اپنے ایک دیئے کو چاند بتانے کے لیے


بستی کا ہر ایک چراغ بجھانا پڑا ہمیں


جلیل ہادی صاحب کا یہ شعر جب میں پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ شعر ہم لوگوں کے لیے ہی لکھا تھا۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے ؟کہ ہم صرف اپنے ایک مدرسہ کو عظیم جامعہ (یونیورسٹی) اور بین الاقوامی سطح کا ادارہ بتانے کے لیے سینکڑوں مدارس کے پڑھائے ہوئے بچوں کو ہائی جیک کر کے داخلہ لیتے ہیں اور پھر ان بچوں کو اپنا پڑھایا ہوا طالب علم کہہ کر قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارا اور ہمارے ادارے کی شہرت و نامواری ہو۔ شاید ہم ایسا کر کے ان سيکروڑوں مدارس کا گلا گھوٹ رہے ہوتے ہیں، جو سو دو سو روپے کا چندہ کر کے انتہائی جانفشانی کے ساتھ کم وسائل میں بھی دین و سنت کی خدمت کر رہے ہیں۔


اور ٹھیک ایسا ہی ہم میں سے جو بڑے ہیں، خواہ وہ بڑے علمائے کرام، مدارس کے معلم ہوں یا شاعر و خطیب ہوں یا امام مسجد۔ ہم صرف ایک اپنی ذات کو چمکانے کے لیے اور خود کو فقیہ اعظم، مرشد اعظم یا شاعر اسلام اور خطیب اعظم بنا کر پیش کرنے کے لیے کبھی کسی کے جاسوسی کرتے ہیں، عیب جوئی کرتے ہیں اور پھر غیبت اور بہتان تراشی کر کے، کسی کو صلح کلی، کسی کو فاسق، گمراہ اور کافر و مرتد تک کہہ دیتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ، العیاذ باللہ۔


علامہ اقبال کے یہ اشعار بھی شاید ہمارے لیے ہی ہے۔


گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا


کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ


اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک


نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ


یا اللہ! اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے ہم سب کو ان موذی اور مہلک امراضِ ہوا و ہوس سے شفاء عطا فرما۔ ہم سب کو اخلاص و لِلّٰہیت کے ساتھ دین و سنت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بے شک تو ستار و غفار ہے اور کارساز و مالک ہے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔


 *محمد شھادت حسین فیضی* 

                              +91 94315 38584

No comments:

Post a Comment

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...