ہندوستان میں سینکڑوں مذاہب و مسالک ہیں۔گوناں گوں تہذیب و ثقافت اور زبانیں ہیں۔ ان میں ہندو، مسلم، سکھ ،عیسائی اور جین یہ پانچ مذاہب مشہور و معروف ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے درجنوں اور سینکڑوں فرقے ہیں۔ چونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اس لیے ہر ایک کو یہاں اپنے اپنے مذہب و مسلک اور فرقے کی تبلیغ و اشاعت کا حق حاصل ہے اور دستور اس کی آزادی دیتا ہے۔ اس میں سب سے بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہے، جس میں ہزاروں ذات، برادریاں اور فرقے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی، متحرک اور جامع تنظیم آر ایس ایس ہے جو بادل ناخواستہ ہی سہی تمام ذات برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتی ہے اور کوشش بھی کرتی ہے۔ ان کا نقطہ اتحاد ہندوتواد، ہندوازم یا سناتن ہے۔ جس میں وہ آج کافی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ یہ جماعت آج بھاری اکثریت کے ساتھ سینٹرل حکومت میں بھی ہے اور راجدھانی کی ریاستی حکومت میں بھی۔ یہ عدلیہ اور انتظامیہ میں نیچے سے اوپر تک ہر عہدوں پر ہندوتوادی وچار دھارا کے ساتھ مضبوط گرفت بنائے ہوئے ہیں۔ موجودہ وقت میں وہ اس قدر حاوی ہیں کہ اپنی پسند کے مطابق قانون بھی بناتے ہیں اور انتظامیہ اور عدلیہ کے ذریعے اسے نافذ بھی کرتے ہیں بلکہ جمہوریت کے چوتھے کھمبے پر چڑھ کر اپنے نظریات کا برملا اظہار اور اس کا پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی بھی مفاد کی من مانی توضیح و تشریح کے ساتھ اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔ عدالتوں سے اس کو قانونی جامہ پہناتے ہیں۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ آج عدالتیں ان کے حساب سے فیصلہ سناتی ہیں اور ملک کی دونوں ایوانیں ان کے اشاروں پر ناچتی ہیں۔ یہ آج کے ہندستان کی وہ حقیقت ہے جسے سیکولر ملک کی حکومت خود ہی چینخ چینخ کر بڑی بے شرمی اور دیدہ دلیری کے ساتھ خود ہی بیان کرتی ہے۔ اس کی سیکڑوں مثالیں آپ کو صرف گزشتہ ایک دہائی میں ہی مل جائیں گی۔ میرے عزیزو ، 2011 کی مردم شماری کے مطابق اس ملک میں ہندو – تقریباً 79.8% (تقریباً 96 کروڑ) ہیں، مسلمان – تقریباً 14.2% (تقریباً 17 کروڑ) ہیں، عیسائی – تقریباً 2.3% (تقریباً 2.9 کروڑ) ہیں ، سکھ – تقریباً 1.7% (تقریباً 2 کروڑ) ہیں، بدھ مت کے پیروکار – تقریباً 0.7% (تقریباً 85 لاکھ)، جین مت کے پیروکار – تقریباً 0.4% (تقریباً 45 لاکھ) ہیں، جبکہ دیگر مذاہب اور غیرمذہبی لوگ – تقریباً 0.9% ہیں۔
ملک میں دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں ملک کی دوسری اور تیسری سب سے بڑی اقلیت عیسائیوں اور سکھوں کی ہے، جو مسلمانوں کے مقابلے میں تعداد میں بہت کم ہیں لیکن تعلیم و تجارت میں یہ لوگ بہت آگے ہیں۔
2019 کے عام انتخابات (17ویں لوک سبھا) میں مسلمان ایم پی 27 (تقریباً 5%)، جبکہ آبادی میں ان کا تناسب 14.2% ہے۔ عیسائی ایم پی 6-7 (تقریباً 1.2%)، جبکہ ان کی آبادی کا تناسب 2.3% ہے۔سکھ ایم پی 13 (تقریباً 2.4%)، جبکہ سکھ آبادی 1.7% ہے، اسی طرح ریاستی سطح پر دیکھیں تو ریاستی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی موجودگی مختلف ریاستوں میں مختلف ہے۔ لیکن ان میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔ اتر پردیش میں تقریباً 17% مسلمان ہیں، لیکن اسمبلی میں ان کا تناسب 6-8% کے قریب رہتا ہے۔بہار میں مسلم آبادی 16%، جبکہ نمائندگی 7-9%۔مغربی بنگال میں مسلم آبادی 27%، لیکن نمائندگی 15-18% کے درمیان ہے، گو کہ ہندوستان میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر کمیونٹیز کی سیاسی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے، لیکن ان میں مسلمانوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ عیسائیوں اور سکھوں کے پاس اپنی لیڈرشپ ہے اور ان کے ایم پی اور ایم ایل اے کافی مضبوط پاورفل ہیں۔ وہ انتظامیہ اور عدلیہ میں بھی اپنا بھاری وجود رکھتے ہیں۔ یہ لوگ مذہبی معاملات میں بھی میری ناقص رائے کے مطابق (باطل عقائد رکھنے کے باوجود) اپنے مذہب و کلچر کے حوالے سے مسلمانوں سے کہیں زیادہ پختہ ہیں اور اپنی مضبوط مذہبی شناخت بھی رکھتے ہیں۔ سکھ ہے تو سر پہ پگڑی ہوگی اور عیسائی ہے تو گلے میں نشان صلیب لازماً ہوگا۔ یہ اپنی شناخت کے ساتھ اس قدر منصف ہیں کہ رائٹ ونگ ہندوتوادی حکومت بھی ان کے پرسنل لاء اور مذہبی شعار میں مداخلت سے ڈرتی ہے ، ان کے خلاف یا ان کے مذہبی اداروں یا ثقافتی ورثوں کے خلاف کسی بھی طرح کا اقدام کرنے سے کوسوں دور رہتی ہے۔ ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ ہندؤں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آر ایس ایس اور ہندستان کی تین چھوٹی اقلیتیں سکھ عیسائی اور جین کے کامیابی کے راز کیا ہیں؟
No comments:
Post a Comment