وقف بل کے بعد جذباتی ردعمل اور حقیقی تجزیہ
1. جذباتی ردعمل:
- وقف بل کے پاس ہونے پر کئی افراد نے غصے، ناراضگی، اور سیاسی لیڈروں (نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو وغیرہ) پر الزامات کا اظہار کیا۔
- بعض افراد نے انہیں "غدار" تک کہا۔
2. سوال: اصل غدار کون؟
- اصل غدار وہ نہیں، بلکہ *ہم خود* ہیں، جنہوں نے اپنے وسائل کا مؤثر استعمال نہیں کیا۔
3. وقف: ایک عظیم وسائل، مگر غیر استعمال شدہ:
- *وقف کی کل اراضی:* تقریباً *6 لاکھ ایکڑ*
*(ماخذ: Sachar Committee Report, 2006)*
- *وقف جائیدادیں:* 5 لاکھ سے زائد
ہم وقف کی مدد سے بنا سکتے تھے:
- ہزاروں اسکولز
- سینکڑوں ہسپتال
- درجنوں یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز
- خواتین و بزرگوں کے لیے فلاحی مراکز
- ہاسٹلز اور ہنر سازی کے ادارے
4. تعلیمی و سماجی پسماندگی کے اعداد و شمار:
- *اعلیٰ تعلیم میں مسلم نمائندگی:* صرف *4 فیصد سے بھی کم*
*(ماخذ: Ministry of Education, GoI & NSSO)*
- *6-14 سال کے مسلم بچوں کی تعلیمی حالت:*
تقریباً *25 فیصد* بچے اسکول سے باہر یا اسکول چھوڑ چکے
*(ماخذ: Sachar Committee Report)*
- *مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ:* *3 فیصد*
*(ماخذ: Sachar Committee Report)*
- *شہری غربت کی شرح:* *38.4 فیصد*
جو کہ *SC/ST سے بھی بدتر* ہے
*(ماخذ: NSSO, 2011-12)*
5. تعلیمی اداروں کی موجودہ حالت:
- ہندوستان میں *ایک بھی وقف فنڈ سے چلنے والا* ایسا میڈیکل کالج نہیں جو غریب مسلم طلباء کو *سبسڈی کے ساتھ MBBS* تعلیم دے۔
- موجودہ مسلم پرائیویٹ کالجز عام کالجوں کی طرح *بھاری فیس* لیتے ہیں۔
- شمال و جنوب کے اکثر مسلم ادارے فیس کے معاملے میں قابل دسترس نہیں۔
6. ناکامی کی وجوہات:
- *70 فیصد وقف اراضی پر قبضہ یا غلط استعمال*
*(ماخذ: Times of India, 2021)*
- *وقف بورڈز میں بدعنوانی اور سیاسی اثرورسوخ*
- کوئی *اسٹریٹجک منصوبہ بندی* یا اجتماعی وژن موجود نہیں
- کوئی *احتساب* کا نظام نہیں
7. دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت:
- *عیسائی برادری:* CMC Vellore جیسا ادارہ - عالمی معیار اور کم خرچ
- *سکھ، جین کمیونٹیز:* ہاسٹل، تعلیمی ادارے، ہسپتال کامیابی سے چلاتے ہیں
8. ہماری حالت؟
- ہم بحث کرتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہیں کرتے۔
- ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہم پیچھے رہ گئے، مگر *اپنے ہی وسائل کو ضائع کر بیٹھے*
9. *وقف: ایک زمین نہیں، ایک لائف لائن، ایک امانت*
وقف صرف چند ایکڑ زمین یا جائیداد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی فریضہ، ایک سماجی لائف لائن، اور اللہ کی ملکیت ہے۔ اس پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل عالم اسلام کے ایک مقدس عمل پر حملہ ہے۔
آج، وقف کی اس قیمتی میراث پر اسلام دشمن اور ملک دشمن عناصر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جیسے بھارت کے بدھ مت کے ماننے والوں نے بدھ بہار کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی، ویسے ہی وقف کے تحفظ کی لڑائی بھی بین الاقوامی سطح پر لڑی جائے۔ کیونکہ یہ حملہ صرف ایک خاص قوم یا علاقے پر نہیں، بلکہ اللہ کی اس ملکیت پر ہے جو پوری امت مسلمہ سے جُڑی ہوئی ہے۔
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سیاسی، سماجی، اور عوامی ہر سطح پر اپنے وجود اور غیرت کا ثبوت دیں۔ نسل نو کو بیدار کرنا ناگزیر ہے۔ یہ لڑائی اگر قیامت تک بھی جاری رکھنی پڑے تو رکنی نہیں چاہیے، کیونکہ یہ کسی فرد کی ملکیت کی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی امانت کی بات ہے۔ اور اللہ کی امانت کے لیے اہل ایمان کو کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
*یہ وقت ہے خود احتسابی کا*
صرف کھانے، سونے اور شکایت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔
ہمیں سوچنا ہوگا، منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔
آئیے مل کر ملک کی دیگر اقلیتوں کی طرح ہم بھی اپنی لڑائی خود لڑیں اور بیساکھیوں کا سہارا لینا بند کریں۔
خیر اندیش ۔ محمد شہادت حسین فیضی۔
No comments:
Post a Comment