دین اسلام میں ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اعتدال کو بنیادی صفات قرار دیا گیا ہے۔ شریعت نے ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں کو اہمیت دی ہے، لیکن بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی عمل کی اصل قدر و قیمت اس کی نیت، اخلاص اور ترجیحات میں توازن کے ساتھ ہے۔ یہی اصول مساجد کی تعمیر و تزئین اور دیگر دینی امور میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔
حسنِ تعمیر اور زیبائش خود شریعت میں ممنوع یا ناپسندیدہ نہیں، بلکہ جب معاشرہ اپنے فرائض، دین کی ضروریات اور اصل تقاضوں کی تکمیل کر رہا ہو تو ایسے مستحب اور تزئینی کام باعثِ اجر و سعادت ہیں۔لیکن یہ اس وقت متوازن ہے جب کمیونٹی کی اصل دینی فرائض ،اخلاقی اور تعلیمی ضروریات اور ترجیحات پسِ پشت نہ ڈال دی جائیں۔ مثال کے طور پر، اگر نمازیوں کی تعداد کم ہے، ائمہ و مؤذنین کی ضروریات اور حقوق پورے نہیں ہو رہے، غریب و نادار مسلمانوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا، دینی تعلیمات کمزور ہیں اور اصلاحِ اخلاق پر محنت نہیں ہو رہی تو محض ظاہری خوبصورتی پر زور دینا ہرگز مناسب نہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ پر غور کریں تو یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ تشکیل دیا تو سب سے پہلی توجہ شخصیت سازی، عدل و انصاف کے قیام اور اخلاق کی اصلاح پر دی۔ حضورِ اکرم ﷺ کو اقتدار و اختیار ملا، مگر آپ نے نہ کبھی عالی شان محل بنایا، نہ شاہی انتظامات قائم کیے، نہ حکومتی اندازِ حکمرانی کے دنیاوی پیمانے اپنائے۔ مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر بھی سادگی کا نمونہ تھی، اور اس کی چھت کھجور کی پتیوں سے بنی تھی۔ سہولت اور سادگی کا یہ منظر خود احادیث میں محفوظ ہے۔
عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قال:
جَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ حَتَّى سَالَ السَّقْفُ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ
(صحيح البخاري: ٦٣٨)
ترجمہ: ایک بادل آیا اور بارش ہوئی، حتی کہ مسجد کی چھت (جو کھجور کی شاخوں کی بنی تھی) ٹپکنے لگی۔ نماز قائم ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا، حتی کہ آپ کی پیشانی پر کیچڑ کا نشان دیکھا۔
عن عبدِ اللهِ بنِ أنيسٍ رضي الله عنه قال:
أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأُرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ
(صحيح مسلم: ١١٦٨)
قال أبو سعيد:
فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ
(السُّنن الكبرى للبيهقي: ٢٦٥١)
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی، اور اس کی صبح میں مجھے پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تیئسویں رات بارش ہوئی، آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، اور جب واپس لوٹے تو پیشانی اور ناک پر پانی و کیچڑ کے نشان تھے۔
بابُ تَرْكِ مَسْحِ الْجَبْهَةِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
(السُّنن الكبرى للنسائي: ١١٣٦)
ان تمام روایات سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اصل توجہ ظاہر پر نہیں، بلکہ عبادت میں خشوع، سادگی اور اخلاص پر دی۔ مسجد کی ظاہری تزئین اگر اصل مقصد اور ضرورتوں کے بعد ہو تو باعثِ اجرہے؛ بصورتِ دیگر یہ ترجیح دینا باعثِ نقصان و محرومی بھی بن سکتا ہے۔
حالاتِ حاضرہ خصوصاً بھارتی دیہی مسلمانوں کے ماحول میں مشاہدہ کیا جائے تو تعمیراتِ مساجد، مینار و محراب کی زیبائش اور دوسری طرف دین کے نام پر بے سود جلسے اور اعراس پر بہت مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں؛ جبکہ راست دینی اور اصلاحی مقاصد اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔مستحب امور پر اس قدر زور و شور ہے کہ فرائض اور ضروریات کمزور یا نظرانداز ہو چکے ہیں۔
یہ صورتحال نبی اکرم ﷺ کے اس تربیتی اسلوب سے مختلف ہے جہاں مسجد کی تعمیر سے بڑھ کر نمازیوں کی تعمیر کو فوقیت دی گئی۔ روحانی صفائی، اجتماعیت، تعلیمِ قرآن، اخلاقِ فاضلہ ، قیام عدل و انصاف، تعلیم و تدریس اور تربیت کے شعبے ترجیحات میں رہے ہیں۔
اب اس ضمن میں علماء و مفتیان کرام سے نہایت ادب سے سوال ہے کہ
اگر کوئی ایک سادہ مٹی کی مسجد ہو، دوسری مضبوط سیمنٹ کی، تیسری عالی شان قالین و سنگ مرمر اور قمقموں سے آراستہ ہو، تو سب سے زیادہ فضیلت کس میں؟
ناچیز کی رائے میں تو اصل فضیلت اس جگہ ہے جہاں خلوص، عاجزی، جماعت کا اہتمام، قلبی خشوع اور فقر کا اثر ہو۔ جس جگہ سجدے کا نشان پیشانی پر باقی رہ جائے، جیسا کہ "من أَثَرِ السُّجود" سے بھی اشارہ ملتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ان نمازیوں کے لیے جن کی پیشانی پر سجدے کے غبار ہوں، جب تک غبار ہو، فرشتے ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔
*دوسری غلط ترجیح*
دوسری طرف، ہمارے معاشرے میں بے سود جلسے، جلوس اور اعراس جیسی رسوم زیادہ رائج ہو گئی ہیں بلکہ فرائض و ترجیحات پر غالب ہیں۔
ذرا اس عہدِ پر فتن کے رنگین دھوکے پر غور کیجیے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے علاقے میں ایک جلسہ ہوا، جس پر اندازاً دس لاکھ روپے بہا دیے گئے۔ غالباً یہ عظیم الشان منصوبہ اس طرح رچا گیا ہوگا کہ امام صاحب کے پاس ایک جوشیلے نوجوان نے آکر عرض کیا ہوگا: "حضور! ایک ایسا جلسہ ہونا چاہیے کہ پورے ضلعے میں گونج اٹھے، گاؤں کا نام روشن ہو جائے!" چنانچہ مقامی کمیٹی، امام صاحب، نوجوانانِ ملت اور قرب و جوار کے علما سب شریکِ مشورہ و مصرف ہوئے، طوعا کرھا ٹارگیٹڈ بجٹ سمیٹا گیا ہوگا۔ مقصد؟ بس نام، شہرت، تعریف اور داد! خطیب، نقیب، شاعر اور پیرانِ کرام ہر سُو سے آئے، لیکن نیتیں اکثراً "نذرانے" اور "لفافے" کی تھیں۔
سامعین بھی کچھ کم نہ تھے۔ مرد، عورتیں سب آئے، مگر جذبہ؟ صرف یہ کہ "فلاں صاحب کی تقریر سننی ہے"، یا "نعت کیسے پڑھتے ہیں دیکھیں!"
کاش کہ میرا یہ اندازہ غلط ہو! کاش کوئی ایک بھی ایسا نکلے جو اخلاص، للّٰہیت اور دین سیکھنے کے شوق سے آیا ہو۔ لیکن اگر یہ گمان درست ہے... تو پھر یاد رکھیے! وہ گھڑی قریب ہے جس کی خبر سرورِ کائنات ﷺ نے دی تھی *قیامت نزدیک ہے!*
*حدیث پاک:*
يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ
(شعب الإيمان: ٣/٣١٧)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا، قرآن میں صرف رسم و خط باقی رہ جائے گا، ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، انہی سے فتنہ پیدا ہوگا اور انہی میں واپس لوٹ آئے گا۔
اسی طرح:
السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ۔
(الکامل لا بن عدی)
سنت ان کے لیے بدعت اور بدعت ان کے لیے سنت بن جائے گی۔
ایک روایت ہے کہ؛
أَتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ هَمُّهُمْ بُطُونُهُمْ وَشَرَفُهُمْ مَتَاعُهُمْ وَقِبْلَتُهُمْ نِسَاؤُهُمْ وَدِينُهُمْ دَرَاهِمُهُمْ
(مسند الفردوس للديلمي)
یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگوں کی قدر و وقعت مال و دولت اور کھانے پینے تک محدود رہے گی، قبلۂ زندگی عورتیں ہوں گی اور دین فقط دنیاوی منفعت تک رہ جائے گا۔
ان سب مثالوں، احادیث اور معاشرتی پہلوؤں سے آج یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ
تزئینِ مسجد و دینی عمارت و اعراس وغیرہ کوئی حرام یا مطعون کام نہیں، بلکہ اگر اصل دینی ترجیحات مضبوط ہوں تو یہ بھی باعثِ اجر ہیں، لیکن اگر فرائض اور ضروری حقوق نظرانداز ہو جائیں تو پھر یہ ترجیحات تبدیلی کی متقاضی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم شریعت کی اصل روح کو سمجھیں، اپنی ترجیحات کو درست رکھیں اور ظاہری کاموں کے ساتھ اصل دینی ضرورتیں، ایمانی صفائی اور معاشرتی فلاح کو کبھی نہ چھوڑیں۔ آمین۔
محمد شہادت حسین فیضی
9431538584
No comments:
Post a Comment