Friday, July 26, 2019

اور یہ مقرر شعلہ بیان صاحب

*یہ خطیب بے باک صاحب،*
آپ تو بے باک ہیں، نڈر ہیں، آپ تو کسی سے نہیں ڈرتے، آپ تو اسٹیجوں پر شیر ببر کی طرح دھاڑتے ہیں،
آپ تو یوں چیختے ہیں کہ لگتا ہے ابھی کائنات میں انقلاب برپا کردیں گے،
تو پھر آپ کچھ کیوں نہیں کرتے، آپ ہی اس امت کا سہارا کیوں نہیں بن جاتے،
آپ ان ظالم کافروں کے خلاف کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟
آپ کیسے بے باک ہو، امت کو لڑانے میں بے باک ہو؟ جھوٹ بولنے میں بے باک ہو؟
ترک صلاۃ میں بے باک ہو؟ جہنم کے عذاب سے نڈر ہو؟
تمہیں اللہ کا خوف نہیں یہ ہے تمہاری بے باکی؟ امت کو لوٹنے میں بے باک ہو؟
پھر تو تم اصلا ڈاکو،چور، فاسق، مردود، شیطان ہو، تم سے اللہ کی پناہ،
ظالموں اہلسنت کو لڑانے، خانقاہوں میں اختلاف پیدا کرنے کے لیے چیختے ہو، ہم مسلمانوں کے درمیان کتوں کی طرح چلا کر ہم ہی سے پیسے اور نذرانے لیتے ہو،
تم جوتوں کے حقدار ہو، امت کا بیڑا تم ہی نے تو غرق کیا ہے، وہ دن بہت قریب ہے جب نوٹوں کی جگہ جوتوں کی بارش ہوگی،

No comments:

Post a Comment

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...