Islamic Culture is a platform of interpersonal intelligence. Valuable articles, scientific research and valuable words for great researchers, multilingual writers and thinkers. A collection of articles on humanity and socialism, and how Islam leads towards peace and satisfaction.
Monday, July 22, 2019
حضرت ازہری میاں کے بعد
نقلی نقوی اصلی اندھا
*"مختار عباس نقوی: آنکھوں والا اندھا"*
*ہندو انتہا پسند اور ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ملک کی مختلف ریاستوں میں ہجومی تشدد (Mob Lynchings) جنہیں اب ہم پولیٹیکل مرڈر یا پھر مسلمانوں کا جدید شکل میں انکاؤنٹر کرنا کہہ سکتے ہیں۔ جس کی بازگشت ہمارے ملک کی سرحدوں سے نکل کر اب عالمی سطح پر پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے اور جس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے ملک اور بیرون ملک میں کیے جارہے ہیں۔ عالمی برادری اور ہر انصاف پسند برادران وطن (غیر مسلم) مسلمانوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہوکر ہجومی تشدد کے واقعات کے خلاف اپنا احتجاج درج کرا رہا ہے۔*
*ہمارے ملک میں حکمراں پارٹی کا ایک ایسا لیڈر بھی ہے جس نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اور وہ مسلمانوں کے مسائل کو سنگھی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس بہادر کا نام ہے مختار عباس نقوی جو مودی کی کابینہ میں اقلیتی بہبود کے مرکزی وزیر ہیں۔ انہوں نے ہجومی تشدد (پولیٹیکل مرڈر اور مسلمانوں انکاؤنٹر)کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موب لینچگ کے زیادہ تر کیس من گھڑت اور جھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موب لینچگ کے جتنے واقعات پورے ملک میں رونما ہورہے ہیں اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سرخیوں کی زینت بن رہے ہیں وہ فرضی اور جھوٹے ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس کے خلاف ملک و بیرون ملک احتجاج، دھرنے اور مظاہرے بےمعنی ہیں۔*
*بھاجپائیوں نے مختار عباس نقوی کو یونہی داماد نہیں بنایا ہے انہیں حق وفاداری بھی تو ادا کرنا ہے اور اس کام کو بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں اور ان کا حالیہ بیان بھی اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے مختار عباس نقوی وشو ہندو پریشد کے صدر رہے مرحوم اشوک سنگھل کے داماد ہیں ان کی بیٹی سیما سنگھل کے شوہر ہیں۔*
*پوری دُنیا میں ہجومی تشدد (موب لینچگ پولیٹیکل مرڈر اور مسلمانوں کا انکاؤنٹر)کا شور بپا ہے اور جس کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند ہورہی ہے اور ہر شخص اپنی سر کی آنکھوں سے اس ظلم وتشدد کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن اقلیتی بہبود کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو دن کے اجالے میں بھی ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں انجام پانے والے ہجومی تشدد ذریعے کے مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات انہیں اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آرہے ہیں۔ اس پس منظر ان کے تعلق سے یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ"اگر ہمارے ملک میں آنکھوں والے اندھے کو دیکھنا ہے تو وہ مختار عباس نقوی کو دیکھ لے۔"*
*محمد خالد داروگر، دولت نگر، سانتاکروز، ممبئی*
إتحاد کرو تو صحیح پارٹ 2
Sajid Ali
شاید اتحاد کی یہ صورت ہو اور ہاں مذکورہ تمام نام اہلسنت ہی کے ہیں.
یونہی ہی بات چل رہی تھی کہ بات نکلی اگر اتفاق اور اتحاد کرنا ہی ہے تو پہل وہاں سے کی جائے جس نے جماعت اہلسنت کو الگ الگ فرقوں میں بانٹ دیا ہے پھر سوال ہوا کہ یہ کس نے کیا جواب آیا ایک ہی خانقاہ ہے جس نے متعدد مشائخ کی دل آزاری کی ہے میں نے حیرت سے پوچھا "متعدد خانقاہوں کے مشائخ کی دل آزاری"؟
جواب ملا ہاں! الیاس عطار قادری کو گمراہ کہا،
حضرت سید اشرف میاں کے بارے میں اول جلول باتیں کی گئیں،
سجادگان چشتیہ کو بھٹکا ہوا کہاگیا،
ڈاکٹر طاہرالقادری کو کافر بنادیاگیا اور پادری کہا گیا،
حضرت ثقلین میاں کو کافر قرار دیا،
خانقاہ کچھوچھہ کے بارے میں کیا نہ کثر اٹھا رکھی ہے،
حضرت سالم میاں پر کفر کا فتوہ لگایا گیا،
مداریوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور بریلی میں ان کے جلسے کو ناکام کرنے کی کوشش کی گئی
غرض یہ کہ نہ جانے کس کس صوفی و شیخ بزرگ کے خلاف کیا کیا افواہیں فتووں کے ذریعے نہ پھیلائی گئیں اب جن لوگوں نے یہ سب کیا ہے انہیں ان تمام مشائخ و صوفیہ سے معافی مانگنی چاہیئے تبھی اتحاد ممکن ہے.
میں اور حیرت زدہ ہوا اور پھر میں نے سوال کیا آخر ایسا کون کرسکتا ہے؟ وہ بھی کوئی خانقاہ! نہیں ممکن نہیں!
مجھے پھر جواب ملا کہ ہاں یہ سب سچ ہے اور ہندوستان کی ایک بڑی خانقاہ سے یہ سب ہوا ہے میں نے تعجب سے پوچھا وہ خانقاہ کونسی ہے جس نے یہ سب کرکے مسلک اہلسنت کو ہی کافر قرار دے ڈالا اور امت مسلمہ کو تقسیم کردیا؟
جواب بہت حیرت انگیز ملا کہ یہ سب خانقاہ رضویہ کی کرامت ہے............
طالب علی "شیدا"
کھلا خط
*ایک مظلوم کاچیرمین مدرسہ بورڈ کے*
*نام کھلا خط*
___________________________________
چیرمین محترم ! بہار مدرسہ بورڈ پٹنہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شاید آپ بھی سکون کی نیند نہیں سو پارہے ہونگے، اس لئے نہیں کہ آپ کے پاس سونے کے کمرے اور آرام دہ گدہ نہیں ہے، حشم و خدم کی کمی ہے، یا پھر تیز جھلسا دینے والی گرمی سے بچنے کے لئے کولر یا اے سی کی سہولت نہیں ہے،
حضور! آپ کے پاس سارے انتظامات ہیں، لیکن ان بچوں کی آہ جو رات کو بھوکے سو جاتے ہیں، جسے صبح تعلیم گاہ تک بھوکا جانا پڑتا ہے، جس نے عید پرانے کپڑے میں کئے ہیں، رمضان میں افطاری اور سحری میسر نہیں ہو ئے نے سونے نہیں دیا،
میں آپ کے کئے کاموں پر تنقید نہیں کر رہا ہوں بلکہ جو طریقہ کار آپ نے اپنایا وہ اچھا نہیں ہے، جو کام مسلم دشمن عناصر سالوں میں نہیں کرپاتے وہ آپ نے مسلمانوں کا مسیحا کہلا کر چند ماہ میں کر دیئے، اگرآپ کے پیش نظر مدارس کی اصلاح ہی مقصود ہے تو اس کے طریقہ کار بہتر ہونے چاہئے تھے،
آپ کے کاموں سے ایسا احساس ہوتا ہے کہ آپ کی تربیت اس گود نے نہیں کیا ہے جو گود گذشتہ زمانے کے انقلابی شخصیتوں کو میسر ہوئے تھے، آپ نے انقلاب لانے کی کوشش تو کی ہے لیکن ایسے انقلاب کے آپ داعی محسوس ہوتے ہیں جس میں تعمیر کے بجائے تخریب کا عنصر زیادہ نظر آتا ہے،
محترم چیرمین صاحب شاید ہماری یہ بات آپ کے دل کو چوٹ پہونچا رہی ہو لیکن میرا مقصود آپ کے دل کو دکھ دینا نہیں ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تاریخ کا پنہ جب آپ کو کوس رہا ہوتو ہماری یہ باتیں سامنے رہے،
آپ سے بات کرتے ہوئے مجھے ایسا لگ رہا ہے ہمیں کم سے کم اس طرح کی باتیں آپ سے نہیں کرنی چاہئے لیکن مجبور ہوکر کر رہا ہوں،
محترم چیرمین صاحب !
جب آپ بہترین اے سی گاڑی پر جمعرات اور جمعہ کو جو مدارس ملحقہ کے لئے چھٹی کے دن ہوتے ہیں پہونچ کر کمیاں نکال کر اس کے الحاق کو ختم کردیتے ہیں تو آپ کو بہت خوشی ہوتی ہے، آخر کیا وجہ ہے آپ چھٹی کے دنوں میں آتے ہیں؟ اساتذہ کے سامنے آتے ہوئے کیوں گھبراتے ہیں؟ شاید اس کا جواب آپ کے پاس نہ ہو؟ کتنے دنوں آپ اس عہدے پر براجمان رہیں گے؟ کیا مل جائے گا آپ کو کسی کے چولھے میں پانی ڈالنے سے؟ کسی کو بے ستر کرنے سے؟ کسی معصوم بچے کے منہ سے نوالہ چھین لینے سے؟ اور کتنے دنوں نتیش جی کی حکومت رہے گی؟
یاد رکھئے اس عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ پھر اسی بستی، مجلس اور دوستوں کے بیچ آئنگے جن کے ساتھ آپ نے پہلے وقت گذارا تھا، لیکن جانتے ہیں یہ لوگ آپ سے محبت کے بجائے نفرت کریں گے، استقبال کے بجائے آپ کو رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، جو بچے آپ کی ان اوچھی حرکتوں کی وجہ سے رات کو بھوکے سوئے ہونگے وہ آپ کے سہارے کو کھیچ لیں گے، آپ سے ہی نہیں بلکہ آپ کی نسلوں تک سے یہ نفرت کریں گے، آپ کے بچے اگر کہیں کھاتے ہوئے ملیں گے تو ان کے سامنے سے پلیٹ چھین کر اس کے منہ پر ماردیں گے، اسکولوں اور کالجوں سے دھکے دے کر بھگا دیں گے، اسے سر عام بیچ چوراہے پر ننگا کریں گے اور لوک آپ کی نسلوں پر لعنت بھیجیں گے،
محترم چیرمین صاحب!
تلخ باتوں کو برداشت کرنے کا بہت شکریہ ،میں محسوس کرسکتا ہوں کہ آپ اس تحریر کو پڑھ کر آگ بگولہ ہونگے، چونکہ آپ تلخ نوائی کے خوگر نہیں ہیں،
مجھے جاننے کی کوشش کریں گے، تو مجھے بھی آپ جانئے میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہے جس کے مدرسے کو چھٹی کے دن عین جمعہ سے قبل جاکر یہ کہتے ہوئے رد کردیا کہ اس مدرسے میں صرف چار کمرے ہیں، بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، اس لئے اسے رد کیا جاتا ہے، ویسے تو آپ مدرسہ بورڈ کے چیرمین ہیں لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ آپ نے ہمارے صدرمدرس اور سکریٹری صاحب کو ہندی میں نوٹس جاری کیا، ایسی کیا نفرت تھی آپ کو اردو سے؟ کیا کوئی ایسا آدمی آپ کو بورڈ میں نہیں ملا جسے اردو آتی ہو؟ویسے سنا ہے کہ آپ نے پوری زندگی اردو کے نام پر ہی اپنے شکم بھرے ہیں،
چیرمین محترم !
کتنے مدرسے آپ نے بنائے ہیں، یا کم سے کم زمین دیا ہے، اس مدرسے کو ہم نے زمین دیا تھا، چار کمرے ہم نےاپنے پیسوں سے بنوائے تھے، سماج کے غریب بچوں کو ہم نے پڑھا کر اسکول، کالج اور بڑی دینی درسگاہوں میں بھیجا تھا، نہ جانے اس مدرسے سے پڑھے ہوئے کتنے بچے حافظ قرآن ہوئے،
تف اور افسوس ہے آپ پر، تاریخ آپ پر ہنسے گی، نسلیں لعنت بھیجے گی، آپ کے بعض تیور سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کسی خاص اشخاص سے بدلہ لینے کے لئے آئے ہوں،
ہمیں تو ایسا احساس ہوتا ہے کہ اس عہدے کے ملنے کے بعد آپ میں ایک قسم کی رعونت آگئی ہے، گویا کہ شاہ سے بادشاہ بن گئے ہوں، کاسہ گدائی کے بعد سونے کا تمغہ مل گیا ہو،
لوٹ جائیے اپنی حقیقت کی جانب ورنہ سب لوگ یہی کہیں گے، اب پچتاوت کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت "
وہ دن بہت جلد آنے والے ہیں جب آپ اپنے خاص انداز سے سر پر دوپٹہ لپیٹے سبزی باغ کے کسی ہوٹل میں سبزی بھات کھاتے نظر آئنگے
شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
مگر عاجز غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے
والسلام
آپ کے ظلم سے پریشان ایک مظلوم
حرب و ضرب کی تعلیم وتربیت
حرب و ضرب کی تعلیم وتربیت ھمیشہ سے انسانی زندگی کا لازمہ رہی ہے۔ ہاں زمانہ اور جگہ کے اعتبار سے اسکی نوعیت جداگانہ رہی ہے۔
چناں چہ وقت ضرورت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ صحابیات عظام رضی اللہ عنہن نے بھی اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے فنی تربیت کا مظاہرہ کیا ھے. پوری تاریخ اسلام اس کی گواہ ہے۔
حرب و ضرب کی تربیت یہ کھیل و تماشہ نہیں ہے بلکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی پرانی روایات کو زندہ کریں اور ملکی قانون کا لحاظ کرتے ہوئےآتشی اسلحہ چھوڑ دیں بقیہ ہر طرح کی تربیت حاصل کریں خواہ اس کا نام کچھ بھی ھو۔ مثلا لاٹھی، ڈنڈا،تلوار، بھالا تیر کمان بھوجالی۔ جسمانی کسرت مثلا جوڑو، کراٹا، اونچی چھلانگ، تیراکی،کمند ڈالنے کی تربیت مشکل حالات میں جان بچا کر بھاگنے کی ترکیب، تیز دوڑنے کا مشق، درختوں پر چڑھنے اور اترنے کا فن جنگلوں میں چھپ کر جنگلی جانوروں اور دشمنوں سے بچنےکی ترکیب وغیرہ وغیرہ الغرض یہ وہ سارے علوم و فنون ہیں جسکی شریعت نے بالکل اجازت دی ہے۔ موقع محرم الحرام شریف کا ھو یا کوئی اور تمام ائمہ مساجد سے اور سربراھان انجمن سے درخواست ہے کہ آنے والے دنوں میں خاموشی کے ساتھ میٹینگیں کرکے ہر گاؤں میں اسکی شروعات کریں چونکہ محرم الحرام کے موقع پر اس طرح کے مشقی پروگرام ھوتے تھے۔ اب اگر ہم اسی کو بہتر طور پر کریں گے تو غیروں کے ساتھ حکومت کو بھی انگشت نمائی کا موقع نہیں ملےگا۔
Mob:. 9431538584
اتحاد کرو تو صحیح
🎓 *_مفکر و مدبر عالم دین مفتی نثار احمد مصباحی لکھتے ہیں_* :
📌 *اہلِ سنت ہی امت کا سوادِ اعظم ہیں. پہلے امت کی سب سے بڑی جماعت (سوادِ اعظم اہلِ سنت) کے اتحاد کی کوششیں کر لیجیے. پھر دیگر شاذ مسالک کا رخ کیجیے گا.*
📌 *یہ عجیب و غریب منطق ہے اتحاد کے جھنڈا برداروں کی, اِن کا سارا زور دیگر مسالِک اور شاذ فرقوں سے ہی اتحاد پر ہوتا ہے. جب کہ قرینِ قیاس و عقل جو اتحاد ہے یعنی اہلِ سنت کا اتحاد, اس کے لیے کوشش نہیں کرتے.*
📌 *بدمذہبوں اور شاذ عقیدے والوں کی پیشوائی تو انھیں منظور ہوتی ہے مگر اہلِ سنت کی سرکردہ شخصیات کے سایے تلے ایک قدم چلنا گوارا نہیں کرتے. بلکہ ان کی تنقیص اور منفی تشہیر میں سرگرم رہتے ہیں.*
📌 *مسلمانوں کے داخلی اور خارجی حالات کے پیشِ نظر ہماری صفوں میں اتحاد یقینا ضروری ہے, مگر پہلے اہلِ سنت کا آپسی اتحاد زیادہ ضروری ہے. اگر یہ ہوجائے تو قوم کے اتحاد پر معلق اکثر فوائد اِسی سے حاصل ہو جائیں گے.*
📌 *یقینا اس کے لیے سعیِ بلیغ اور مثبت عملی اقدام ہونا چاہیے. اور اِس راہ میں اجتماعی مفاد پر انفرادی مفاد یا بڑی جماعت کے مفادات پر چھوٹی ٹولی کے مفادات قربان کرنے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے.*
🕯 *یہ اتحاد ضروری بھی ہے اور قابلِ عمل بھی.*
True Story (Must Read).
۔
There was once a man who was an enemy to Islam. He had three famous questions that no person could answer. No Islamic scholar in Baghdad could answer his three questions...thus he made fun of Islam in public. He constantly ridiculed Islam and the Muslims. One day a small boy, who`s age was 10, came along and heard the man yelling and screaming at Muslims in the street. He was challenging people openly to answer the three questions.
The boy stood quietly and watched. He then decided that he would challenge the man. He walked up and told the man, "I will accept your challenge".
The man laughed at the boy and ridiculed the Muslims even more by saying, "A ten year old boy challenges me. Is this all you people have to offer!"
But the boy patiently reiterated his stance. He would challenge the man, and with Allah`s help and guidance, he would put this to an end. The man finally accepted.
The entire city gathered around a small "hill" where open addresses were usually made. The man climbed to the top, and in a loud voice asked his first question.
"What is your God doing right now?"
The small boy thought for a little while and then told the man to climb down the hill and to allow him to go up in order to address the question.
The man says "What? You want me to come down?"
The boy says, "Yes. I need to reply, right?"
The man made his way down and the small boy, age 10, with his little feet made his way up.
This small child`s reply was "Oh Allah Almighty! You be my witness in front of all these people. You have just willed that a Kafir be brought down to a low level, and that a Muslim be brought to a high level!"
The crowd cheered and screamed "Takbir"...."Allah-hu-akbar!!!"
The man was humiliated, but he boldly asked his Second question... "What existed before your God?"
The small child thought and thought.
Then he asked the man to count backwards. "Count from 10 backwards."
The man counted..."10, 9 ,8 , 7 , 6, 5, 4, 3, 2, 1,0"
The boy asked, "What comes before 0 ?"
The man: "I don`t know...nothing."
The boy: "Exactly. Nothing was before Allah, for He is eternal and absolute."
The crowd cheered again...."Takbir!"...."Allah-hu-akbar!!!!"
The man, now completely frustrated, asked his final question. "In which direction is your Allah facing?"
The boy thought and thought.
He then asked for a candle. A candle was brought to him. The blessed child handed it to the man and asked him to light it.
The man did so and remarked, "What is this supposed to prove?"
The young boy asked, "In which direction is light from the candle going?"
The man responded, "It is going in all directions."
The boy: "You have answered your own question. Allah`s light (noor) goes in all directions. He is everywhere. There is no where that He cannot be found.
"The crowd cheered again...."Takbir!"...."Allah-hu-akbar!!!"
The man was so impressed and so moved by the boy`s knowledge and spirituality, that he embraced Islam and became a student of the young boy.
So ended the debate.
Who was the young boy?
The young boy was one of our leaders and one of the greatest scholars, Imam Abu Hanîfa (May Allah bless him).
Your sincere :Dr Fatima Aliv Head of IT Department , Al-Azhari Community Support Team
https://www.facebook.com/Al-Azhari-Community-Support-Team-2264047293858500/
Featured Post
خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...
-
نظامت کے واسطے بہترین اشعار ایک موقع پر ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا کہ اگر خلاف ہے تو ہونے دو کوئی جان تھوڑئ ہے ...
-
جو ممالک اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، ان میں سب سے پہلا نمبر نیوزی لینڈ کا، دوسرا لکسیم برگ، تیسرا آئر لینڈ، چوتھا آئیس لینڈ...
-
کیا مشت زنی نقصان دہ ہے ؟ مادہ تولید کے خون یا ہڈیوں کے گودے سے بننے میں کتنی صداقت ہے؟ جواب : نہیں- مادہ تولید نہ تو خون سے بنتا ہے اور...