Monday, July 22, 2019

جنسی عدم فعّالیت کے بارے میں بات کس طرح کی جائے

اپنے ڈاکٹر یا حکیم سے جنسی عدم فعّالیت کے بارے میں بات کس طرح کی جائے۔
ایسے مرد حضرات جو کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ساتھ کال پر بات کرنے سے شرماتے ہے وہ اس پوسٹ کا ایک بار ضرور مطالعہ کریں۔
جنسی عدم فعّالیت کے اثرات تباہ کُن ہو سکتے ہیں۔اس کے حوالے سے کون بات کرنا چاہتا ہے؟
بعض مَرد تو اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے بھی اس موضوع پر بات کرنا نہیں چاہتے لیکن اس مسئلے کو نظر انداز کرنے کی صورت میں نہ صِرف آپ کی جنسی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ مجموعی زندگی پر بھی اس کے اثرات واقع ہوتے ہیں۔جنسی عدم فعّالیت، صحت سے متعلق کسی چُھپے ہوئے مسئلے کی بھی علامت ہوسکتی ہے۔، جس کا علاج نہ کرنے کی صورت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور بعض صورتوں میں موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
ذیابطیس اور دِل کا مرض ایسے ہی دَو مسائل ہیں۔
بعض دواؤں سے بھی جنسی عدم فعّالیت پیدا ہوسکتی ہے مثلأ دِل کے مرض کی ادویات یا بعض نفسیاتی کیفیتوں مثلأ ڈپریشن سے متعلق ادویات بھی جنسی عدم فعّالیت پیدا کرتی ہیں۔ تا ہم بعض اوقات اپنے ڈاکٹر سے بات کرنے یا دوا میں تبدیلی لانے یا طرزِ زندگی میں تبدیلی لانے سے ہی مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔تاہم کسی گہرے مسئلے کی صورت میں، جنسی عدم فعّالیت کے حوالے سے مشورہ لینے کی وجہ سے،صحت کے مزید سنگین مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
تو اپنے ڈاکٹر سے جنسی عدم فعّالیت پر بات کس طرح کی جائے.
پہلی بات یہ ہے کہ دِل جمعی رکھئے۔ یہ بات سمجھ لیجئے کہ یہ ایک عام مسئلہ ہے جس سے بہت سارے مَرد دَوچار ہوتے ہیں۔ میسا چو سیٹس کی حالیہ تحقیق کے مطابق، 40سے 70سال کی عمر والے مَردوں کی نصف سے زائد تعداد میں افراد، کسی نہ کسی قِسم کی جنسی عدم فعّالیت سے دَوچار ہوتے ہیں۔ مَردوں کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بڑی شکایت عضو تناسل میں تسّلی بخش تناؤ پیدا نہ ہونے سے متعلق ہوتی ہے جس علاج ڈاکٹروں کو کرنا ہوتا ہے۔
اس کے بعد اپنے طریقہ کار یا انداز کے بارے میں سوچئے۔ آپ اس موضوع کو اپنے ڈاکٹر کے سامنے کس طرح اُٹھائیں گے؟ جب آپ ڈاکٹر سے وقت لینے کے لئے کال کرتے ہیں تو آپ کو فون پر یہ نہیں بتا نا ہوتا ہے کہ آپ کی کال کا مقصد کیا ہے۔آپ صِرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جنسی صحت کا کوئی مسئلہ ہے یا شاید اس بھی بہتر یہ رہے گا کہ یہ مَردوں کی صحت سے متعلق کوئی مسئلہ ہے۔
– جب آپ معائنے کے کمرے میں صِرف اپنے ڈاکٹر کے ساتھ ہوتے ہیں تو بات کو اپنے دِل میں نہ رکھئے۔ اپنے معالج کو پوری دیانت داری سے اپنا مسئلہ بتا ئیے۔متعقلہ صورت حال کے تمام پہلوؤں کے بار ے میں سوچئے تا کہ آپ اپنے ڈاکٹر کو ممکنہ طور پر مفید تمام معلومات فراہم کر سکیں۔آپ نے یہ مسئلہ پہلی بار کب محسوس کیا؟ کیا یہ صورت حال خود لذّتی کے دوران پیش آئی یا اپنے ساتھی کے ساتھ جنسی ملاپ کے دوران پیش آئی؟ – اپنی صحت سے متعلق دِیگر مسائل ہونے کی صورت میں ان کے بارے میں بھی بتائیے۔ ڈاکٹر آپ سے غالبأ الکحل، تمباکو نوشی، منشّیات کے استعمال کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ معالج کو اپنے جوابات درست طور پر دیجئے۔ اس طرح ہی مسئلے کی جڑ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ماضی میں،اپنے عضو تناسل میں تناؤ حاصل کرنے کے لئے آپ ان مسائل سے کس طرح نمٹتے رہے ہیں؟ کیا آپ نے حال ہی میں خود کو تشویش یا ڈپریشن میں مبتلا پایا ہے؟ دباؤ کے حوالے سے آپ کی کیفیت کیا رہی ہے؟ سوچئے اور دیکھئے کہ آیا کوئی اور باتیں بھی ایسی ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہو رہا ہے
اس کے علاوہ اپنے ڈاکٹر سے پوچھنے کے لئے سوالات کی ایک فہرست تیار کیجئے۔ معلوم کیجئے کہ آپ کی عمر کے حوالے عضو تناسل میں تناؤ کی کون سی سطح معمول شمار ہوگی۔ دیکھئے کہ آیا آپ کے ڈاکٹر کے خیال میں اس مسئلے کی بنیاد کوئی اور سنگین مسئلہ ہے۔معلوم کیجئے کہ مسئلہ جسمانی ہے یا نفسیاتی ہے۔ سوالات پوچھتے رہئے اور زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کیجئے۔اِن مراحل پر عمل کرنے کے ذریعے آپ اور آپ کے ڈاکٹر اس صورت حال کو ختم کرنے کے قریب پہنچ جائیں گے۔

صبح کی سیر کے فوائد

صبح کی سیر دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کر دیتی ہے . یہ خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے . واک اچھا کولیسٹرول ہے اور ایل ڈی ایل کی سطح ( خراب کولیسٹرال ) کم جس یچڈییل سطح کو بڑھاتا ہے کے علاوہ اس کے دل کے پٹھوں کو مضبوط اور خون کی وریدیں پھیل جاتی ہے .
• صبح کی سیر ذیابیطس کے خطرے کو کم کر دیتی ہے
• صبح کی سیر پھیپھڑوں کی سانس لینے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے . یہ آپ کے پھیپھڑوں کے کام سمیت کئی جسمانی افعال کے لئے ضروری ہے جس میں تازہ آکسیجن دیتا ہے.
• صبح کی سیر کشیدگی کے انتظام میں مدد ملتی ہے . واک کشیدگی کی سطح کو کم کر دیتا ہے جس میں ہارمون کی پیداوار کو فروغ ملتی ہے . یہ بھی دماغ کو تازہ آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ کر سوچ کی سطح کو بڑھاتا ہے اور اس شخص کی زندگی کے بارے میں مزید مثبت دیکھ سکتے ہیں .
.صبح کی سیر ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں مدد ملتی ہے . یہ خون کی وریدوں کی دیواروں میں چربی جمع روکتا ہے اور اس طرح جسم کے بلڈ پریشر کو برقرار رکھتا ہے . چربی خون کی وریدوں کی دیواروں میں جمع ہہیںاتا ہے تو یہ خون کی وریدوں کی قطر محدود کر سکتے ہیں اور جو جسم کے بلڈ پریشر میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

اماں بھائی کب مرے گا؟

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ کھانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے بار بار باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی چاپ آتی انھیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آ رہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔
ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے کچھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈھ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی "تلاش" کے بعد دو چار چیزیں نکل آئیں جنھیں کباڑیے کو فروخت کر کے دو چار وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے تو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچوں کی دکان پڑ جا کھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نا صرف صاف انکار کر دیا بلکہ دو چار باتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔
ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اور اوپر سے مسلسل فاقہ، آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بکھر میں مبتلا ہو کر چارپائی پر پڑ گیا۔ دوا دارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ نہی تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی
"اماں بھائی کب مرے گا؟"
ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا "میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟"
بچی معصومیت سے بولی
"ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!"
اگر ہم اپنے پاس پڑوس میں نظر دوڑائیں تو اس طرح کی ایک چھوڑ کئی کہانیاں بکھری نظر آئیں گی۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ہے۔ زندگی میں کوئی نہی پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔ غالبا منٹو نے لکھا ہے کہ ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا، لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہی دیا۔ بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پتہ پر پڑ گیا۔ صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔ اب "اہل ایمان" کا "جذبہ ایمانی" بیدار ہوا، بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں، یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا "ظالمو! اب دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تھ یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا"۔
کیا ہمارا "جذبہ ایمانی" صرف مردوں کے لیے رہ گیا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود زندوں کا خیال رکھیے۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یہ کام ہم سب کو مل کر کرنا ہے. ہم سب کے ارد گرد ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو مجبور ہیں، جو بےکس ہیں، جو غریب ہیں. جن پر ہم کبھی توجہ ہی نہی دیتے.
ایک منٹ کو رکیے. اور آنکھیں بند کر کے اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں. اپنے پڑوسیوں پر، اپنے رشتےداروں پر، جو آپ کی گلی میں ٹھیلے والا ہے اس پر، جو ایک مزدور آپ کے محلے میں کام کر رہا ہے اس پر. جو آپ کے ہاں یا اپ کے دفاتر میں چھوٹے ملازم ہیں ان پر.
یہ سب لوگ ہمارے کتنا قریب رہتے ہیں اور ہمیں معلوم بھی نہی ان کے ساتھ کیا کچھ بیت رہی ہے.... ہمیں اس لیے نہی معلوم کہ ہم ان کے قریب رہتے ہوئے بھی ان سے دور ہیں. ہم نے کبھی ان کا احساس کیا ہی نہی. کبھی ہم نے ان سے کچھ پوچھا بھی نہی.(بلکہ شائد ہمیں ان چھوٹے لوگوں سے بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے).
ان کو اپنے قریب کیجیے، ان کی جو ممکن ہو مدد کیجیے اور جو آپ کے بس میں نہ بھی ہو تو دل جوئی کیجیے ان کی.
کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہم "جوش ایمان" میں ایک ایک گلی میں تین تین، چار چار مساجد بنا دیتے ہیں انھیں خوب سجا دیتے ہیں(نمازی چاہے ہر ایک میں دو دو ہی ہوں) لیکن اسی گلی میں کئی غریب رات کو بھوکے سوتے ہیں ان کی طرف کوئی دھیان ہی نہی دیتا. کسی بیمار کے پاس دوائی خریدنے کے لیے پیسے نہی ہوتے، اس کی مدد کو کوئی "صاحب ایمان" آگے نہی آتا..
خدا کے بندوں کا بھی کچھ خیال کیجیے

شادی کی پہلی رات میاں بیوی

شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے.
ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں.
دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.

والدین ناکام واپس لوٹ گئے.
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں.
ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں. دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا.
باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا.
شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نا کہا خاموش رہا.
اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی.
شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں.
اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا.
شوہر مسکرایا اور بولا
یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی.
بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،

ایک بگڑے ہوئے نوجوان کی داستان

جوانی چڑھ گئی تو میں گھر دیر سے آنے لگا، رات دیر تک گھر سے باہر رہنا اور سارا سارا دن سوئے رہنا معمول بن گیا، 
امی نے بہت منع کیا لیکن میں باز نہ آیا۔ شروع شروع میں وہ میری وجہ سے دیر تک جاگتی رہتی بعد میں سونے سے پہلے فریج کے اوپر ایک چٹ چپک ا کر سو جاتی، جس پر کھانے کی نوعیت اور جگہ کے بارے میں لکھا ہوتاتھا۔ آہستہ آہستہ چٹ کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور "گندے کپڑے کہاں رکھنے ہیں اور صاف کپڑے کہاں پر رکھے ہیں" جیسے جملے بھی لکھے ملنے لگے، نیز یہ بھی کہ آج فلاں تاریخ ہے اور کل یہ کرنا ہے پرسوں فلاں جگہ جانا ہے وغیرہ وغیرہ ۔یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ۔ ۔ ۔
ایک دن میں رات دیر سے آیا، بہت تھکا ہوا تھا۔ حسب معمول فریج پر چٹی لگی ہوئی دیکھی لیکن بغیر پڑھے میں سیدھا بیڈ پر گیا اور سو گیا۔ صبح سویرے والد صاحب کی چیخ چیخ کر پکارنے سے آنکھ کھلی۔ ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے انہوں یہ اندوہناک خبر سنائی کہ بیٹا تمھاری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہیں ۔ میرے تو جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، غم کا ایک پہاڑ جیسے میرے اوپر آگرا۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو میں نے امی کے لئے یہ کرنا تھا ، وہ کرنا تھا۔ ۔ ۔ ابھی تو میں سدھرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو امی سے کہنے والا تھا کہ اب میں رات دیر سے نہیں آیا کروں گا ۔ ۔ ۔ تدفین وغیرہ سے فارغ ہو کر رات کو جب میں نڈھال ہوکر بستر پر دراز ہوا تو اچانک نجھے امی کی رات والی چٹی یاد آگئ، فورا گیا اور اتار کر لے آیا، اس پر لکھا تھا:"بیٹا آج میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے، میں سونے جا رہی ہوں ، تم جب رات کو آؤ تو مجھے جگا لینا، مجھے ذرا ہسپتال تک لے جانا ۔ ۔۔ "

گیرٹ ولڈرز ملعون کے الفاظ پڑھیں

ویسے آپ سب کو گیرٹ ویلڈرز ملعون سے لیکر امریکہ انڈیا اور اسرائیل سمیت سب دشمنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ وہ آپ کو جگانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، اس کے ساتھ جتنی لعن تعن آپ ان سب پہ کرتے ہیں اس میں سے تھوڑی سی نکال کر خود پہ بھی کر لیا کریں کہ آپ بالکل بھی جاگنا نہیں چاہتے ۔
سات فٹ سات انچ لمبا اور ساڑھے نو سو پاؤنڈ وزنی سی بی یو کلسٹر بم جب امریکی بی-ون بمبار طیارے سے ریلیز ہوکر نیچے کی طرف آتا ہے ، تو فری فال کرتے ہوے فضا ہی میں وہ کھل جاتا ہے اور اس میں سے سینکڑوں بمبلسٹس (سمارٹ بم) نکل کر پھیل جاتے ہیں اور وسیع علاقہ تباہی کی زد میں آجاتا ہے ۔
آپ کو بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان سینکڑوں بمبلسٹس اور سینکڑوں اقسام کے مخلتف پونڈز کے جتنے بھی امریکی بمب ہیں ان میں بالکل بھی قطعی طور پہ ایسا کوئی سینسر نہیں ہوتا جو بریلوی دیوبندی وہابی کا فرق کرکے کسی کو بائی پاس یا کسی کو مار سکتا ہوں ۔
میں نے کسی فرقے کا فلسطینی نہیں دیکھا جو اسرائیلی مظالم سے بچ نکلے، بھارت میں جب ڈنڈوں اور تلواروں سے مسلمانوں کے ٹکڑے کرنا شروع کئے جاتے ہیں تو مارنے والے جانتے تک نہیں ہوتے کہ مرنے والا بریلوی تھا یا دیوبندی یا اہلحدیث،
میں نے ابھی تک ایسا خودکش حملہ آور نہیں دیکھا جس کے دھماکے سے نکلے نٹ بولٹ اور بال بیرنگز ڈھونڈ ڈھونڈ کر کسی خاص مکتبہ فکر کے بندے کے پرخچے اُڑائیں
آپ پہ حملہ آور آپ کا دشمن آپ کا کوئی حریف آپ کے سنی دیوبندی وہابی سلفی یا آپ کے پنجابی پٹھان بلوچی کشمیری سندھی ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ، اسے ایک مسلمان کو مارنا ہوتا ہے وہ گیرٹ ویلڈرز جیسا ہو تو اسے بس ایک مسلمان کا دل دکھانا ہوتا ہے، وہ جارج بش ہو اوبامہ، مودی ٹرمپ یا نیتن یاہو ہو تو اس کو صرف مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانا ہوتی ہیں ، انہیں فرق نہیں پڑتا کسی کے گیارہویں منانے سے یا رفع الدین کرنے سے یا جماعت میں وقت دینے یا نا دینے سے،
یہ فرق یہ تفریقیں صرف آپ لوگ اہنے ذہنوں میں بٹھائے بیٹھیں ہیں۔
پھر بھی کتنے خوشنصیب ہیں آپ کہ آپ کو مارنے والے ابھی بھی آپ کو امت سمجھتے ہیں ۔
کلسٹر بم میں بند بمبلسٹس کی طرح ۔
ہیں نا
سالار عبداللہ 

عمدہ گفتگو

دنیا بھر میں اور خصوصاً جنوبی ایشیا میں کچھ عرصہ پہلے تک تقریباً سبھی مسلمان اچھی طرح جانتے تھے کہ اہلِ تصوف کا سماع نہ کوئی تفریحی سرگرمی ہے، نہ ہی کوئی ثقافتی مظاہرہ. اور یہ بھی واضح تھا کہ اس کا مقصد تفنن طبع بھی نہیں. اہل تصوف کے لیے سماع کی حیثیت وہ نہیں ہے جو مثلاً ایک عام باذوق شخص کے لیے محفل موسیقی کی ہوتی ہے. سماع حصولِ لذتِ ظاہر کا ذریعہ نہیں، ایک شیوہء طریقت ہے جس کی معنویت صوفیہ کے حلقوں میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے. سماع صوفیہ کے لیے اپنی کوتاہیوں اور محرومیوں پر نوحہ و زاری ہے. غم و اندوہ کے دنوں میں باطنی حزن و ملال کے اظہار کی ممانعت کیسے ہو سکتی ہے؟ اسی احترام اور باہمی محبت کی وجہ سے بہت سے دیگر مسالک کے سلجھے ہوئے افراد بھی محافل سماع میں شرکت کرتے تھے اور اب بھی بہت سے لوگ یہ عملِ خیر انجام دیتے ہیں، اگرچہ یہ تعداد روز بہ روز کم ہوتی جاتی ہے.
اگر صوفیوں میں سے کچھ لوگ سماع کو عام محفل موسیقی ہی سمجھتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں. انھیں اپنے فکر و عمل کی اصلاح کرنی چاہیے. اگر سماع کے آداب ملحوظ نہیں رکھے جاتے ہیں تو یہ بھی بالکل غلط ہے. آداب کے ساتھ ہو تو سماع ہے ورنہ عام محفل موسیقی سے بھی بد تر ہے. نیز اہل تصوف کو یہ ادراک، اعتراف اور اظہار بھی کرتے رہنا چاہیے کہ سماع کسی صوفی پر بھی فرض نہیں ہے اور نہ ہی دین کا حصہ ہے.
انگریزوں نے اپنے استعماری مقاصد کے حصول کے لیے مختلف اسلامی مسالک میں دوریوں کو فروغ دیا جس میں مختلف زمانوں میں مختلف عالمی چال بازیوں کی وجہ سے شدت آتی گئی. گزشتہ دو تین عشروں سے اہل تصوف اپنے بہت سے ہم دردی رکھنے والوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں. اب اہل تصوف کسی مسلمان کو مشرک لگتے ہیں، کسی کو بدعتی، کسی کو گمراہ، کسی کو اہل بیت کے غالی عقیدت مند، کسی کو غمِ حسین کا احترام نہ کرنے والے، کسی کو جاہل اور کسی کو بے عمل لگنا شروع ہو گئے ہیں. اہل تصوف کا دامن ان تمام تہمتوں سے بری ہے. البتہ صوفیہ کی صفوں میں بھی کم پڑھے لکھے اور عقائد و اعمال میں کوتاہی کرنے والے لوگ ہیں اور اس صورت حال سے کوئی مسلک بھی محفوظ نہیں ہے.
پروفیسر معین نظامی صاحب دام ظلہ

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...