Friday, July 19, 2019

حقائق ومعلومات عن العراق

حقائق ومعلومات عن العراق..
1- هل تعلم أن سيدنا إبراهيم عليه السلام ولد في العراق ببابل
2- هل تعلم بأن العراق له سبع إمبراطوريات عظمى في تأريخه و ما من بلد يمتلك كهذا
3- هل تعلم أن العراق هو أقدم دول العالم ؟
بلاد ما بين النهرين هي أقدم دول العالم وتعنى حرفيا “الأرض التى تقع بين نهرى دجلة والفرات” ويعود تاريخها إلى عام 5300 قبل الميلاد
4- هل تعلم بأنه في عام 1944 مطار شيكاغو ضم الدول التي تمتلك خطوط جوية مدنية عددهم 51 دولة كان العراق البلد الوحيد من ضمنهم.
5- هل تعلم بأنه يوجد في العراق أكثر من 36 مليون نخلة.
6- هل تعلم أنه في عام ١٩٧٧ أكدت اليونسكو على أن التعليم في العراق يوازي قرينه في الدول الإسكندنافية وأن الطالب العراقي هو أكثر الطلبة قبولا في الجامعات العالمية من دول العالم الثالث، ودعت العالم إلى أن يحذو حذو العراق لأنها مرسخ العلم
7- هل تعلم أن العراق أول بلد عربي سمح للمرأة فيه بمزاولة القضاء وأول قاضية عربية هي العراقية زكية حقي مارست مهامها كقاضي عام 1959.
8- هل تعلم أن أول قطر عربي أنشئت فيه محطة للبث التلفزيوني هو العراق.
9- هل تعلم بأن ‏أول مكتبة عامة عند العرب كانت في مدينة البصرة وكذلك اول مكتبة في العالم كانت في بابل.
10-هل تعلم أنه في عام ١٩٦٨ صدر العراق ألبسة ب 200 شاحنة نقل سعة 5 طن من إنتاج مصانع بابل إلى مصر كمساعدة بعد نكسة حزيران.
11- هل تعلم أنه في عام ١٩٧١ بلغ عدد السياح العراقيين في أوروبا ولبنان ٧٠ ألف مقارنة بعدد السكان آنذاك والبالغ ٨ مليون ونصف المليون نسمة.
12- هل تعلم أنه في عام ١٩٥٦ بلغ حجم الصادرات العراقية من القمح إلى بريطانيا و فرنسا وإيطاليا ٣ مليون طن.
13- هل تعلم أن بغداد تعني مدينة السلام.
14- هل تعلم أن أول تشريع قانوني كان في العراق وقد وضعه الملك حمورابي.
15- هل تعلم مقدار الجهد الذي بذلناه في جمع هذه المعلومات لك؟ كافئ جهودنا بإعجاب وتعليق

आज रात से बड़ी बेचैनी महसूस कर रहा हूँ

बड़ी मुश्किल से दो तीन घंटे ही सो पाया हूँ .....कल एक फ़ेस्बुक पोस्ट में एक बच्चे की तस्वीर ने दिल व दिमाग़ को विचलित कर दिया .....मासूम की अकड़ी हुई लाश ने कुछ देर के लिए ज़िंदा लाश बना दिया.....रोज़ाना सीमांचल में कहीं ना कहीं लाश......बस्तियों में तड़पते लोग और उनके घर आँगन में पानी ही पानी ये प्राकृतिक आपदा है या सरकारों की अनदेखी........या एम॰एल॰ए॰,एम॰पी॰ चुने गये जनप्रतिनिधियों की सीमांचल के प्रति उदासीनता?.....आख़िर हर साल हो रहे इस प्रलय का कोई  पक्का हल है?क्या बाढ़ से पहले सभी प्रकार के इमर्जन्सी से निपटने के प्रशासनिक दावे और विनाशकारी भयावह  स्थिति पैदा हो जाने के बाद हवाई सर्वेक्षण की हवा हवाई से इन जानलेवा सैलाब से इसका परमनेंट हल हो जाएगा?........2008 में विश्व बैंक से मिली अनुदान 1500 करोड़ राशि का सरकार गमन ना करके अगर नदियों के तटबंध में लगाती तो शायद कुछ भला हो जता......2017 की विनाशकारी बाढ़ ने कितना तांडव मचाया था इसका दर्द अबतक लोग भूल नहीं पाए क्यूँ उसे  राष्ट्रीय आपदा घोषित नहीं किया गया ?क्या सिर्फ़ सरकार द्वारा 6000/- की राशि से हमारा कल्याण हो जाएगा ?कौन ज़िम्मेदार है ?.....बहुत हद तक हम सीमांचल वासी इसका उत्तरदायी है क्यूँ की सरकार के ऊपर दबाव बनाने या अपनी परेशानियों के निदान के लिए हम अपने प्रतिनिधि चुनने में भूल करते आये है हम गूँगे बहरे को विधानसभा लोकसभा में भेजे है .....और हम किसी से सवाल पूछने से भी डरते हैं .......सांसद या विधायक का काम सड़क या पुल पुल्या का अपने हाथों से मरम्मत करना नहीं है बल्कि सरकार से इसका स्थाई रूप से हल निकलवाना है.....मगर हम तो नौटंकी से ख़ुश हैं......6000/- की सरकारी भीक के लिए हाए तौबा करना हमारी आदत और मुक़द्दर बन गया है.......कुछ जन प्रतिनिधि रोड मरम्मत कर फ़ोटो अप्लोड करवा रहे हैं और कोई अपनी बात दमदारी से संसद में कहने से विफल हो रहे है ऐसे में सीमांचल का हाल अल्लाह भरोसे.....चल....चला....चल😭🤔.
(DR۔ Abu Sayem sb ki wall se)

ایسی مجرمانہ خاموشی کیوں؟


بین الاقوامی سطح پر جا کر اپنی قوم کے حق میں آواز اٹھانے کی بات تو رہنے ہی دیں اپنے ملک میں ماب لنچنگ اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد خیز واقعات پر مشائخین عظام، پیران کرام، قوم کو بیچنے والے مسلم لیڈران اور راتوں رات قوم کو لوٹ کر چل دینے والے شعلہ بیان مقرر اور گلوگیر شعراء کی زبانیں گنگ کیوں ہیں... ان کے ذریعہ بنائ گئ بڑی بڑی کمیٹیاں اور تنظیموں نے اس قدر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کیوں کی ہوئی ہے .. کیا ان کا کام اب صرف عید اور بقرعید کے چاند کا اعلان کرنا ہی رہ گیا ہے یا عقیدت اور نذرانے کی وصولی . کیا سب کے سب غزالی دوراں،جلال الدین سیوطی اور محی الدین ابن عربی بننا چاہتے ہیں یا کوئی اب بھی ہے جو امام احمد بن حنبل، اعلی حضرت، مجاہد ملت، مجاہد دوران، علامہ عبد العلیم میرٹھی بن کر قوم کی سہی قیادت کا فریضہ انجام دینا چاہتا ہے؟؟
سب کے سب دست بوسی اور مرکزی اداروں کی بنیاد ہی رکھنے کی آرزو رکھتے ہیں یا پھر اغیار کے بچوں کی طرح قیادت اور لیڈرشپ کی باقاعدہ تعلیمات کے ساتھ ساتھ اس تپتی ہوئی گرمی میں انڈیا اسلامک کلچر سنٹر میں آکر اپنی شخصیت سازی کے فن بھی سیکھنے چاہتےہیں؟؟؟،
سن لیں!! اگر یہی بے حسی اور روش باقی رہی تو وہ دن دور نہیں جب بأمر مجبوری آپ کی عقیدتمند عوام آپ کو کلیسا کے پادریوں کی طرح آپ کی خانقاہوں اور آپ کے مرکزی اداروں تک محدود کر دےگی....
فیاض احمد مصباحی
بلرام پوری

خطاب دينی اور ہماری شعوری سطح

درس برائے طلبہ:
حضرت استاد العلماء علامہ مفتی حق النبي سکندری الازہری دامت برکاتہ شاہپور چاکر شريف.
اس جديد دور کے چیلنجز میں جہاں ہر چیز اپنے حقيقی معانی کھو کر مادیاتی حملوں کی زد میں ہے وہاں اس کائنات کی سب سے اہم چیز انسان اور وہ بھی مسلمان انتہائی بے یقینی کی کیفيت كا شكار ہے۔
مسلم نوجوان اپنے ذہن میں ہزارون سوالات لئیے پھر رہا ہے جنکا تعلق اسکے دین سے ہے نہ اسے کوئی گلے لگاکر اچھے طریقے سے سمجھانے والا ہے نہ ہی اس صلاحيت کے مذہبی عقول دستیاب ہیں جو جدید سوالات کے معقول جوابات دے سکیں۔
پوری دنیا میں مسلم نوجوانون کیلئے علماء نت نئے طریقوں سے انہیں دین کے قریب کرنی کی کوشش میں ہیں البتہ ایسا کوئی اقدام سرزمین پاک پر نظر نہیں آتا۔
دینی خطاب کی سطح نہایت سطحيت کو پہنچی ہوئی ہے کہ دقیق علمی مباحث يا تو زیر بحث ہی نہیں آتے کہ ان پر بحث کی صلاحيت والے ناپید ہیں یا ایسے مباحث زير بحث ہیں جو ہونے نہیں چاہئینن۔
مجھے سال میں ایک دو بار غيرملکی دوروں پر جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو دیگر مسلم ممالک میں زیر بحث مسائل دیکھ کر حيرانی ہوتی ہے کہ سرزمین پاک وہند مین مبحوثہ مسائل کس قدر سطحيت کا شکار ہیں۔
بات چلی تھی نوجوانون سے تو اتنا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کئی ایسے نوجوان عالم اس نہج پر کام کر رہے ہیں کہ دینی مدارس سے ہٹ کر عام مسلم نوجوانون کیلئے انہین دینی علوم کو قدرے آسان لب ولہجہ میں جدید مناہج سے پہنچا رہے ہیں جسکا مقصد نہ تو انکو عالم بنانا ہے نہ مفتی وفقيہ بلکہ انکی فكری تربیت مقصود ہے جس سے وہ اپنی اسلامی اقدار کے بھی قریب رہیں اور دین اسلام پر علی سبیل العلم والدليل ثابت رہیں۔
ایسے مناہج قدیم کتب کی تبسیط پر مشتمل ہیں اگرچہ اب تک وہ انفرادی کوشش ہی ہیں پر نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔
کیا وطن عزیز میں ایسی کوئی کوشش؟ تنظيم المدارس کی کل کائنات درس نظامی سے ہٹ کر کوئی کوشش ؟
جس تنظيم کو اس قدر پڑھا لکھا جہان دیدہ صدر ميسر ہو اور وہ بھی کچھ نہ کرسکے تو باقی بچارے کیا کرسکتے ہیں۔
فكری سوچ کا معیار اور سمجھ بوجھ کی قوت کا اندازہ کرنا ہو تو اس پوسٹ کے پیغام کو سمجھ لیجیئے پھر اس پر کمنٹس کے معیار کو جانچ لینا کافی ہوگا جس سے معاشرتی دینی علمی اپروچ کا معیار پتہ چل جائیگا۔

"سعودی عریبیہ کی هسٹری"

"سعودی عریبیہ کی هسٹری"
عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تهی.
جسے خلافت_عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا هے.
جب بهی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی.
امریکہ ، برطانیہ ، یورپین ، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافت_عثمانیہ حکومت کا تها.
امریکہ ، یورپ جیسوں کو معلوم تها کہ جب تک خلافت_عثمانیہ هے' هم مسلمانوں کا کچهہ بهی نہیں بگاڑ سکتے هیں.
امریکہ و یورپ نے خلافت_عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی.
امریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها ' ایسی عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں آیا
اس نے عرب کے لوگوں کو خلافت_عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی هو اور یہ ترکی عجمی(غیر عربی) هیں
هم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رهے هیں
پر لوگوں نے
(اسوقت کے عرب سنیوں)
اسکی ایک نہ مانی.
یہ شخص "لارنس آف عریبین" کے نام سے مشہور هوا
(آپ لارنس آف عریبین لکهہ کر گوگل پر سرچ کریں)
پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام "همفر" تها
(آپ گوگل پر همفر کو سرچ کرکے پڑهہ سکتے هو)
همفر کی ملاقات ابن عبدالوهاب نجدی اور عرب کے ایک ڈاکو سے هوئی
اس ڈاکو کا نام ابن سعود تها
همفر نے ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا
پهر ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی
مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے هاتهوں شہید هوئے
جب ترکی نے دیکها کہ ابن سعود همیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رها هے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ
"هم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے"
اس وجہ سے هم خلافت_عثمانیہ کو ختم کر کے اپنے وطن واپس جا رهے هیں
پهر عرب اور کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا
حجاز_مقدس کا نام 1400 سال کی تواریخ میں پہلی بار بدلا گیا
ابن سعود نے حجاز_مقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکهہ دیا
جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ رضوان الله اجمعین اور اهل_بیت علیهم السلام کے مزارات پر بلڈوزر چلایا گیا
حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهل_بیت کے نام پر تهے
ان کا نام آل_سعود(ڈاکو) کے نام پر رکها گیا
یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی
جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن هوا
اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے کافر ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئے
جس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تهے وه سعودیہ ' امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگا
اور آج بهی رندوں کے ساتهہ ناچ رها هے
یہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے
"علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکها هے"
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اسکے دل سے نکال دو
فکر_عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو
(بحوالہ تاریخ_نجد و حجاز) —

هل تعرف من هو اشجع جاسوس فى التاريخ ؟

ارسل سيدنا سعد بن ابى وقاص سبعة رجال لاستكشاف اخبار الفرس وامرهم ان يأسروا رجل من الفرس ان استطاعوا !!
فبمجرد خروج السبعة رجال تفاجئوا بجيش الفرس امامهم .. وكانوا يظنون انه بعيد عنهم .. فقالوا نعود الا رجل منهم رفض العوده الا بعد ان يتم المهمه التى كلفه بها سعد !!
وبالفعل عاد الستة رجال الى جيش المسلمين .. واتجه بطلنا ليقتحم جيش الفرس وحده !!
التف بطلنا حول الجيش وتخير الاماكن التى فيها مستنقعات مياه وبدأ يمر منها حتى تجاوز مقدمة الجيش الفارسى المكونه من 40 الف مقاتل !!
ثم تجاوز قلب الجيش حتى وصل الى خيمة بيضاء كبيره امامها خيل من افضل الخيول فعلم ان هذه خيمة رستم قائد الفرس !!
فانتظر في مكانه حتى الليل، وعندما جن الليل ذهب إلى الخيمة، وضرب بسيفه حبال الخيمة، فوقعت على رستم ومن معه بداخلها، ثم قطع رباط الخيل وأخذ الخيل معه
وجرى. وكان يقصد من ذلك أن يهين الفرس، ويلقي الرعب في قلوبهم !!
وعندما هرب بالخيل تبعه الفرسان.. فكان كلما اقتربوا منه اسرع.. وكلما ابتعد عنهم تباطىء حتي يلحقوا به لانه يريد ان يستدرج احدهم ويذهب به الى سعد كما أمره !!
فلم يستطع اللحاق به الا ثلاثة فرسان.. فقتل اثنان منهم وآسر الثالث !! كل هذه فعله وحده !!
فأمسك بالاسير ووضع الرمح فى ظهره وجعله يجرى امامه حتى وصل به الى معسكر المسلمين .. وأدخله على سعد بن ابى وقاص .. فقال الفارسى : أمّني على دمي واصدقك القول .. فقال له سعد : الامان لك ونحن قوم صدق ولكن بشرط الا تكذب علينا .. ثم قال سعد اخبرنا عن جيشك .. فقال الفارسي في ذهول قبل ان اخبركم عن جيشي اخبركم عن رجلكم !!

( فقال: إن هذا الرجل ما رأينا مثله قط؛ لقد دخلت حروبا منذ نعومة أظافري، رجل تجاوز معسكرين لا يتجاوزهما جيوش، ثم قطع خيمة القائد وأخذ فرسه، وتبعه الفرسان منهم ثلاثة: قتل الأول ونعدله عندنا بألف فارس، وقتل الثاني ونعدله بألف، والاثنان أبناء عمي؛ فتابعته وأنا في صدري الثأر للاثنين اللذين قتلا، ولا أعلم أحدا في فارس في قوتي، فرأيتُ الموت فاستأسرت (أي طلبت الأسر)، فإن كان من عندَكم مثله فلا هزيمة لكم !! ) ثم اسلم ذلك الفارسي بعد ذلك.
اتعلمون من البطل الذى اذهل الفرس واخترق جيوشهم واهان قائدهم انه :
" طليحه بن خويلد الاسدى ".

بےباک داکار اور قومی رضاکاراعجازخانگرفتار

تبریز انصاری کی شہادت اور " جے شری رام " کے غنڈوں کے خلاف حق بیانی کرنے کے جرم میں مشہور اداکار اور مسلمانوں کے ہمدرد رضاکار " اعجاز خان " کو آج ممبئی پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیاہے_
یہ خبر جہاں انصاف پسند حلقوں میں نہایت ہی المناک ہے وہیں مسلمانوں کے لیے باعث تشویش بھی ہے، کیونکہ اعجاز خان فلمی دنیا کے  ایک ایسے رکن ہیں جو علانیہ طورپر، اللّٰہ، رسولﷺ اور یوم آخرت پر اپنے یقین کا اظہار کرتےہیں، اپنے کیرئیر میں اپنی قوم یا اپنے مذہب کے خلاف کبھی ادنیٰ سا سمجھوتہ بھی نہیں کیا، بلکہ جہاں کہیں مسلمانوں پر زیادتی ہوئی یا اسلام کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ ہوا تو اعجاز خان نے اپنے مفادات کے حصار کو توڑ کر " حق بات " ڈنکے کی چوٹ پر کہی ہے_
*حالیہ مسئلے میں بھی اعجاز خان پر، جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگانے والے تبریز کے قاتلوں کے خلاف بیان کا مقدمہ ہے، جس ویڈیو کو بنیاد بناکر گرفتاری ہوئی ہے میں نے اسے دیکھا لیکن اس میں کوئی ایک جملہ مذاہب کو توڑنے والا نہیں تھا البته یہ ضرور تھاکہ اعجاز خان نے اس ویڈیو میں مسلمانوں کو ماب لنچنگ کے خلاف متحدہ اور پر امن آندولن پر ابھارا تھا نیز اس کے لیے نریندرمودی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا " فیصلہ تو خیر عدالت میں ہوگا اور وہی قابل قبول بھی ہوگا* اس کے علاوہ ممبئی کے "‍ ٹک ٹاک 07 " ٹیم کے نوجوانوں کی حمایت کا بھی جرم ان پر لگایا گیا ہے، واضح رہے کہ " ٹک ٹاک " ایپلیکیشن پر موجود مشہور نوجوانوں کی ٹیم "07" پر بھی اسی لیے کارروائی کی گئی تھی کہ انہوں نے اپنے اکاؤنٹ سے ٹک ٹاک پر، تبریز انصاری کی شہادت پر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا جب ان بچوں کے خلاف کارروائی ہوئی اسوقت بھی " اعجاز خان " نے ان بچوں کی حمایت کی تھی، ان معاملات کو ممبئی پولیس نے، نفرت انگیزی اور مذاہب میں دشمنی پیدا کروانے سے تعبیر کرتے ہوئے اعجاز خان کو گرفتار کرلیاہے_
*اعجاز خان کی گرفتاری کے معاً بعد شیوسینا لیڈر رمیش  نے " جے شری رام " کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنی مسرت کا اظہار کیا ہے، اعجاز خان کے خلاف شدت پسند سنگھی مزاج کے افراد نے متحد ہوکر کارروائی کروائی ہے، جن میں اشوک پنڈت، پائل روہتگی اور رمیش سولنکی وغیرہ کے نام مشہور ہیں_*
اعجاز خان کی گرفتاری ممبئی کے انصاف پسند سوشل ایکٹوسٹوں اور ملک بھر کی سول سوسائٹی میں موجود انسانیت نواز شہریوں کے لیے تشویشناک ہے، وہیں اسوقت اعجاز خان کی پوری ٹیم، ان کا عملہ اور ان کے متعلقین مسلمانوں کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں، " اعجاز خان " پر جو مقدمات ممبئی پولیس بنائے گی ان کا فیصلہ تو عدالت میں ہوگا، لیکن یہ بات تو کسی سے بھی مخفی نہیں کہ اُن کا بڑا جرم " قوم پسندی اور اسلامی وابستگی " ہے، اسلیے قومی سطح پر متحدہ طورپر ان کا اخلاقی سپورٹ ہماری ذمہ داری ہے… یہ بہت ہی نازک وقت ہوتاہے اگر ایسے مواقع پر انسان خود کو تنہا تصور کرلے تو اسے شیطانی چیلے بآسانی بہکا دیتےہیں, قاتل سنگھی ٹولہ تو دندناتا پھر رہا ہے لیکن ان پر کارروائی کی مانگ کرنے والے اعجاز خان کو گرفتار کرکے حکومت نے بھی اپنے عزائم کو واضح کردیاہے _

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...