Thursday, August 1, 2019

عبرت ناک شارٹ اسٹوری

💞آج ایک قصائی کی دوکان پر بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان سفید پوش چہرے پر داڑھی, سر پر ٹوپی, آنکھوں پر عینک لگائے دوکان میں داخل ہوا دوکان پر کافی بھیڑ تھی لوگوں کی آواز سے دوکان گونج رہی تھی بھا ئی ۱کلو گوشت دینا بھائی آدھا کلو گوشت دینا جیسے ھی نوجوان داخل ہوا قصائی نے سارے گاہکوں کو چھوڑ کر اس نوجوان سے مخاطب ہوا آدھا کلو نوجوان نے کہا, قصائی نے فوراً بہترین گوشت کا ٹکڑا کاٹا اور بوٹی بنا کر دے دی نوجوان نے پیسے دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو قصائی نے لینے سے انکار کر دیا نوجوان نے کہا جاوید بھائی! آپ ہمیشہ ایسا ھی کرتے ہیں قصائی مسکرا دیا اور نوجوان دوکان سے باہر نکل گیا لوگ گلے شکوے کرنے لگے کہ ھم کب سے کھڑے ھیں اور قصائی کو چربی چڑھی ہے گاہک کی قدر نہیں ہے  میرا تجسس بڑھا میں دوکان خالی ھونے کاانتظار کرنے لگا گاہک نپٹا کر جیسے ہی قصائی خالی ہوا میں نے کھا ۱کلو گوشت کرنا
پھر میں نے کہا ابھی جو نوجوان آپ کی دوکان سے گوشت لے کر گیا آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار لگتا ہے سارے گاہک چھوڑ کرآپ نے سب سے پہلے  اُس کو گوشت دیا قصائی مسکرایا اور بولا جی نہیں
میں تعجب میں پڑھ گیااور بولا پھر ؟
قصائی بولا وہ میری مسجد کے امام صاحب ہیں جو شخص میری آخرت بنانے کی فکر میں رہتا ہے اور میری نمازوں کی ذمہ داری لے رکھی ہے میرے بچوں کو قرآن اور حدیث کا درس دیتا ہے کیا دنیا میں میں اس کے ساتھ اچھامعاملہ نہ کروں
میں نے کہا اوہ!! اچھا مگر تم نے پیسے کیوں نہیں لیے؟
قصائی پھر مسکرایا اور بولا کیا تمھیں نہیں پتا مسجدوں کے اماموں کو کیا دیا جاتا ہے اتنے کا تو صاحب آپ مہینے میں سگریٹ پی جاتے ہو
میں سوچنے لگا واقعی بات میں تو دم ہے
قصائی پھر بولا صاحب یہ ہماری قوم کا سرمایہ ھے ان کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے بازار کی تمام دوکان والوں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ مولانا صاحب سے کوئی پیسہ نہیں لے گے صرف میں ہی نہیں یہ ناؤ یہ راشن والا یہ ٹیلر وہ ڈاکٹر صاحب میڈکل والا کرانا والا دودھ والا اور سبزی والا کوئی ان سے پیسے نہی لیتا بھائی اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں اور پھر مسکرا کر کھا صاحب آدھا کلو گو شت کے بدلے جنت زیادہ منافع کا سودا ہے یہ لیجیے آپ کے گوشت کی تھیلی اس نے کہا اور میں نے پیسہ قصائی کی طرف بڑھایا اور کہا پر بھائی میں تو جاب کرتا ہوں کاش میں  بھی اس طرح کی کوئی مدد کرسکتا قصائی نے کہا بہت آسان ہے سامنے گلی میں مولانا نے سائیکل بننے کے لیے دی ہے آپ دوکان والے کو چپے سے بل ادا کر دیجے اور اس سے کہہ دیجئے کہ مولانا سے پیسے نہ لینے میں مسکرایا اور دوکان سے نکل گیا اس قصائی سے آج مدد  کا ایک نیا سبق  جو سیکھا...
یاد رہے کہ ان مولویوں میں سو برائی سہی.لیکن اس انٹرنیٹ کے دور میں ہمارے دین کے ورثہ کی مکمل حفاظت کی ہوئی ہے.ایک نقطہ میں تبدیلی نہ ہو سکی.جیسے چودہ سو سال پہلے ہمارے آقا صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے یہ امانت اس امت کے علماء کو دی تھی. بنی اسرائیل کے علماء کی طرح دین کا سودا نہیں کیا.آئیں دین بچائیں جیسے قصائی نے سیکھایا.

علماء اکرام اور اپنے اساتذہ کی عزت و قدر کیجئے۔“

Wednesday, July 31, 2019

مغربی سیاست کا خطرہ، گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

مغربی سیاست کا خطرہ، گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔: Valuable articles, World Domain,writers and thinkers in various languages, a collection of articles on humanity and socialism,

3 तलाक* पर कुछ ज़रुरी बातें

3 तलाक पर कुछ ज़रुरी बातें

जो मुस्लिम समाज कि माँ बहनों को समझना चाहिए.....  या उनको समझाना चाहिए गुजारिश है कि पोस्ट पूरी पढ़ें....

(1)मर्द ने गुस्से में आकर तलाक बोल दिया​
(2) ​औरत ने भी गुस्से में पुलिस में शिकायत कर दी​
(3) ​पुलिस ने मर्द को गैर जमानती अपराध में जेल में    डाल दिया​
(4) ​अब औरत की जिम्मेदारी है कि वह साबित करे कि मर्द ने तलाक बोला है जो कि बहुत मुश्किल है।​
(5) ​साबित हो गया तो मर्द को 3 साल कैद की सजा।
(6) ​अब औरत और बच्चों को कोन देखेगा?​
(7) ​औरत अब दुसरी शादी भी नहीं कर सकती क्योंकि सुप्रीम कोर्ट के आदेश के अनुसार उनका तलाक नहीं हुआ​
(8) ​अब उस औरत के सास ससुर, देवर जेठ ननद उसको उसी घर में रखेंगे क्या जिनके बेटे को उसने जेल में बंद करा दिया?​
(9) ​अब मर्द क्या उस औरत को अपनी बीवी मानेगा जिसने उसे 3 साल जेल की सजा दिलवाई?​किसी भी हालत में नहीं
(10) ​अब वो मर्द उसे कानूनी तौर पर तलाक देगा।​
(11) ​इस सब प्रक्रिया में जो उनमें आपसी सुलह की गुंजाइश थी वह भी खत्म हो जाएगी​
इस तरह मियां बीवी और उनके बच्चों की जिन्दगी बर्बाद हो जाएगी
​जो पार्टी हम मुसलमानों को गद्दार, देशद्रोही, कटवा, मुल्ला, आतंकवादी, पाकिस्तानी​ से सम्बोधित करती हैं जो ​गाय, बीफ और लव जिहाद के नाम पर मुसलमानों का कत्ल करती​ हैं, क्या वो कभी ​मुसलमानों का भला​ सोच सकती हैं?
​तीन तलाक बिल मुसलमान, शरियत और मुस्लिम औरतों के हक में नहीं बल्कि मर्द और औरत के खिलाफ़ हैं।

ڈیجیٹل ٹکنالوجی دنیا کا چیلنج /Digital Universal Challenges

Islamic Culture is a platform of interpersonal intelligence. Valuable articles, scientific research and valuable words for great researchers, multilingual writers and thinkers. A collection of articles on humanity and socialism, and how Islam leads towards peace and satisfaction.




ڈیجیٹل ٹکنالوجی دنیا کا چیلنج /Digital Universal Challenges: Valuable articles, World Domain,writers and thinkers in various languages, a collection of articles on humanity and socialism,

बाज़" ऐसा पक्षी जिसे हम ईगल भी कहते है।

"बाज़" ऐसा पक्षी जिसे हम ईगल भी कहते है।
 जिस उम्र में बाकी परिंदों के बच्चे चिचियाना सीखते है उस उम्र में एक मादा बाज अपने चूजे को पंजे में दबोच कर सबसे ऊंचा उड़ जाती है। पक्षियों की दुनिया में ऐसी Tough and tight training किसी भी ओर की नही होती।
मादा बाज अपने चूजे को लेकर लगभग 12 Kmt. ऊपर ले जाती है। जितने ऊपर आधुनिक जहाज उड़ा करते हैं और वह दूरी तय करने में मादा बाज 7 से 9 मिनट का समय लेती है।
यहां से शुरू होती है उस नन्हें चूजे की कठिन परीक्षा। उसे अब यहां बताया जाएगा कि तू किस लिए पैदा हुआ है? तेरी दुनिया क्या है? तेरी ऊंचाई क्या है? तेरा धर्म बहुत ऊंचा है और फिर मादा बाज उसे अपने पंजों से छोड़ देती है। धरती की ओर ऊपर से नीचे आते वक्त लगभग 2 Kmt. उस चूजे को आभास ही नहीं होता कि उसके साथ क्या हो रहा है। 7 Kmt. के अंतराल के आने के बाद उस चूजे के पंख जो कंजाइन से जकड़े होते है, वह खुलने लगते है।
लगभग 9 Kmt. आने के बाद उनके पंख पूरे खुल जाते है। यह जीवन का पहला दौर होता है जब बाज का बच्चा पंख फड़फड़ाता है।
अब धरती से वह लगभग 3000 मीटर दूर है लेकिन अभी वह उड़ना नहीं सीख पाया है। अब धरती के बिल्कुल करीब आता है जहां से वह देख सकता है उसके स्वामित्व को। अब उसकी दूरी धरती से महज 700/800 मीटर होती है लेकिन उसका पंख अभी इतना मजबूत नहीं हुआ है की वो उड़ सके।
धरती से लगभग 400/500 मीटर दूरी पर उसे अब लगता है कि उसके जीवन की शायद अंतिम यात्रा है। फिर अचानक से एक पंजा उसे आकर अपनी गिरफ्त मे लेता है और अपने पंखों के दरमियान समा लेता है।
यह पंजा उसकी मां का होता है जो ठीक उसके उपर चिपक कर उड़ रही होती है। और उसकी यह ट्रेनिंग निरंतर चलती रहती है जब तक कि वह उड़ना नहीं सीख जाता।
यह ट्रेनिंग एक कमांडो की तरह होती है। तब जाकर दुनिया को एक बाज़ मिलता है अपने से दस गुना अधिक वजनी प्राणी का भी शिकार करता है।
हिंदी में एक कहावत है... *"बाज़ के बच्चे मुँडेर पर नही उड़ते।"*
बेशक अपने बच्चों को अपने से चिपका कर रखिए पर उसे दुनियां की मुश्किलों से रूबरू कराइए, उन्हें लड़ना सिखाइए। बिना आवश्यकता के भी संघर्ष करना सिखाइए।
वर्तमान समय की अनन्त सुख सुविधाओं की आदत व अभिवावकों के बेहिसाब लाड़ प्यार ने मिलकर, आपके बच्चों को "ब्रायलर मुर्गे" जैसा बना दिया है जिसके पास मजबूत टंगड़ी तो है पर चल नही सकता। वजनदार पंख तो है पर उड़ नही सकता क्योंकि "गमले के पौधे और जंगल के पौधे में बहुत फ़र्क होता है।"

طلاق بل یعنی 30 جلائی 2019 کے بعد کیا؟

اب  ہمارے  لئے  دو  ہی  راستے  بچ  گئے  ہیں گزشتہ کل  ۳۰ جولائی ۱۹ ء کو راجیہ سبھا (ایوان بالا ) میں بھی طلاق بل کو منظوری مل گئی، جبکہ لوک سبھا میں تین بار حکمراں جماعت نے اس بل کو پاس کرایا ، یہ خبر یقینا ہم مسلمانوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ تعالٰی شر میں بھی خیر کا پہلو نکالتا ہے ۔           کفر اور طاغوتی طاقت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہے وہ ہمیں زیر کرنے کے لئے اور ہمارے عائلی نظام کو بدلنے اور کمزور کرنے  کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ اس بل کی نا معقولیت اور اس کے کمزور اور بے تکا ہونے پر اپنے اور غیروں نے کھل کر بحثیں کیں ۔ لیکن اس کے باوجود حکومت کی آنکھیں نہ کھلیں،اور ان پر جوں تک نہ رینگا ۔ جس سے یہ صاف ہوگیا کہ اس کا مقصد خواتین کو تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ مسلمانوں کے عائلی اور معاشرتی قوانین کو نشانہ بنانا ہے ۔                     اب اگر ہم ان طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ایک اپنی صفوں میں اتحاد و اجتماعیت اور دوسرا اسلامی احکام و مسائل عبادات و معاملات شرعی اور عائلی قوانین پر سو فیصد عمل ۔
اگر ہم نے موجودہ حالات میں ان دو راستوں کو نہیں اپنایا اور ان پر عمل پیرا نہیں ہوئے تو آگے اور مشکل اور دشوار و ناگفتہ بہ حالات کو جھیلنے کے لئے ہم تیار رہیں ۔
              اس کے لئے سب سے پہلے حضرات علماء کرام کو آگے آنا پڑے گا اور خود کو سو فیصد نمونہ بنانا پڑے گا کہ وہ اپنی عملی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالیں اور اپنے مقدمات کو خود دار القضا میں حل کرائیں ۔      امت میں شریعت بیداری مہم کو رسمی نہیں بلکہ حقیقی صورت میں انجام دیں اس درد اور سوز کے ساتھ امت کے پاس جائیں کہ وہ شریعت کی پاسداری اور اس پر عمل کرنے پر مجبور ہو جائیں انہیں بتائیں کہ شریعت سے دوری ہی کی وجہ سے دشمن کو یہ موقعہ ملا ہے   اور وہ آج ہماری شریعت کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ اس میں دخل اندازی کر رہے ہیں  ۔ میاں بیوی میں شکایت اور  اختلاف ہو تو پہلے مرحلے میں وہ اوروں کو شامل کئے بغیر خود باہم گلے شکوے دور کریں ۔ اگر وہ اس اختلاف کو دور نہ کرسکیں تو اپنے خاندان کے مخلص حضرات کو جو اس رشتہ کے تئیں ہمدردی رکھتے ہوں ان کو اس میٹر میں شریک کریں اور ان کو فیصل اور حکم مان کر اپنے قضیہ کو رفع کرائیں ۔            اگر فیصل اور حکم کے تصفیہ کے بعد بھی معاملہ جوں کا توں رہے تو مرد کو حق ہے کہ وہ ایک طلاق دے اور دوران عدت اگر احساس ہوجائے تو رجوع کرلے ورنہ یہ طلاق رجعی   عدت کے بعد طلاق  بائن ہوجائے گی ۔ اب دونوں کہیں بھی اپنا رشتہ کرسکتے ہیں ۔ اگر  بعد میں کبھی یہ دونوں خود آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو اس کی گنجائش باقی رہے گی ۔                       عام مسلمانوں کو شریعت کا علم بالکل نہیں ہے ان کو بتایا جائے کہ تین طلاق بیک وقت دینا انتہائی بری بات اور نازیبا عمل ہے ۔ اس لئے اس سے بچیں اور اگر مجبوری آجائے تو شریعت نے اسٹیپ بائے اسٹیپ جو طریقہ بتایا ہے اس پر عمل کریں ۔ مسلم اور غیر مسلم وکلاء جو طلاق نامہ تیار کرتے ہیں اس میں تین طلاق ہی  لکھتے ہیں اور اس پر دستخط کرواتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تین طلاق دینے ہی سے طلاق واقع ہوتی ہے ۔ ان کو کچھ بھی پتہ نہیں رہتا اس لئے ایسے موقع شریعت کے ماہر عالم کو ضرور بلایا جائے اور ان کی موجودگی میں ان کے ذریعے طلاق نامہ تیار کیا جائے ۔          لڑکی اور لڑکے کے بے جوڑ نکاح سے بچا جائے اور کفو اور معیار کا خیال رکھ کر رشتہ کرایا جائے صرف دولت اور پیسے کے بنیاد پر رشتہ نہ کیا جائے بلکہ بہتر ہوگا کہ کسی ذریعہ سے لڑکی کی پسند اور ناپسند بھی معلوم کرلی جائے لڑکا اور لڑکی کی جبری شادی نہ کی جائے ۔         ہر گاؤں اور محلہ کی سطح پر مسلمانوں کی کوئ تنظیم ہو جو امارت یا جمعیت یا پرسنل لا کے ماتحت ہو علماء اس کی سرپرستی کریں اور اس طرح کے مسائل کو آپس ہی میں حل کرنے کی کوشش کریں یا دار القضا سے حل کرائیں ۔ عصری عدالت جانے کی نوبت ہی نہ آئے ۔ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کو عائلی نظام اور اسلام کے معاشرتی قوانین سے باخبر کریں اور اس کی خوبیوں حکمتوں اور اچھائیوں سے لوگوں کو واقف کرائیں ۔         
         دوسری طرف موجوہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اور باطل سے آنکھ ملانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی کھوئ ہوئ طاقت کو واپس لائیں ہم متحد ہوں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ۔                 یاد رکھیں *امت مسلمہ* اس وقت بہت ہی نازک اور مشکل دور سے گزر رہی ہے ، دن بدن حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ اسلام کے خلاف نفرت کا ماحول بنایا جارہا ہے ، دشمنان دین ہر چہار جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں ۔ میڈیا چاہے مغربی ہو یا مشرقی یہ پورا پورا بکتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ وہ لوگ پوری طاقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور زہر گھولنے میں صرف کر رہے ہیں ۔ تو دوسری طرف مسلمان خود آپس میں تسبیح کی دانوں کی طرح بکھر گئے ہیں ان کا شیرازہ منتشر ہوگیا ہے ، وہ مسلکی اور گروہی اختلاف کو دین کی خدمت سمجھ کر انجام دے رہے  ہیں۔ بہت سے لوگ تو اب اسلام اور دین کی نہیں مسلک کی تبلیغ میں طاقت و قوت صرف کر رہے ہیں اور مال و زر کا لالچ دے کر اپنے مسلک کو قبول کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں ۔ وہ حضرات جن کو قدرت نے بلا کی ذہانت و فطانت صلاحیت و لیاقت اور فراست و عبقریت سے نوازا تھا اور جن کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ قوم و ملت کی مثبت قیادت کریں اور بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی کا فریضہ انجام دیں وہ حضرات بھی اپنا اعتماد کھوتے نظر آرہے ہیں اور غیر ضروی بحث و مباحثہ اور بے وقت کے موضوعات میں اپنی توانائیاں صرف کرنے میں لگے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عوام و خواص میں بہت ہی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں اور ان غلط فہمیوں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے  ۔         موجودہ حالات اور ملت اسلامیہ کا یہ انتشار و افتراق ہم سب سبے نظم و اتحاد کا طالب ہے یہ امت جو قیام عدل و انصاف کے لئے برپا کی گئ تھی اور لوگوں کے نفع رسانی کے لئے وجود میں آئ تھی آج قعر مذلت میں گرتی چلی جارہی ہے اپنی برتری اور افضلیت کھوتی چلی جارہی ہے ان حالات میں ضرورت ہے کہ اس کو اس کے منصب عظیم اور مقام بلند سے واقف کرایا جائے ۔              لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  افسوس   کہ    نیکی اور معروف کی اشاعت بدی اور فساد کے خاتمہ کے لئے جس گروہ کو پیدا کیا گیا تھا وہ آج خود فساد میں مبتلا ہو گیا اور آج اس فساد و بگاڑ اور اختلاف کی وجہ سے خود اپنی زبوں حالی اور ہمہ جہت پسماندگی کے سبب دوسروں کے لئے درس عبرت بن گیا ہے ۔    ضرورت ہے کہ اختلاف و انتشار کو ختم کیا جائے اور امت میں نئے سرے سے امنگ و حوصلہ پیدا کیا جائے کہ وہ پھر جادئہ حق و صداقت پر گامزن ہو سکے ۔              ہمیں کسی حال میں اس حقیقت کو بھولنا اور فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اتحاد و اتفاق کسی بھی قوم وملت کا قیمتی سرمایہ اور اس کے تحفظ و بقا کا ضامن ہوا کرتا ہے جو قوم اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت و یکجہتی سے بہرہ ور ہوتی ہے اور اس دولت سے مالا مال ہوتی ہے وہی قوم اور ملت زمانہ میں پنپتی ابھرتی نکھرتی اور عروج و بلندی کی منزلیں طے کرتی ہے اس سے وہ اپنے وجود اور اپنی حیثیت کو باقی رکھتی ہے ۔ یہ اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت امت مسلمہ کے لئے تو بمنزلہ محور و مرکز ہے عقیدئہ توحید سے لے کر تمام عبادات و اعمال میں یہی حقیقت و اجتماعیت جلوہ گر نظر آتی ہے ۔ قرآن و حدیث میں ہمیں جابجا اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق پر زور دیا گیا ہے اور اختلاف و انتشار سے بچنے بلکہ اس دور رہنے کی تاکید کی گئ ہے ۔                   لیکن افسوس کہ  پڑا لکھا انتہائی کریم جنئیس اور انٹکیچول طبقہ بھی جو آیت قرآنی *ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم* (اور مت جھگڑوا ورنہ ناکام ہو جاو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی) پر چیخ چیخ کر گھنٹوں تقریر کرتا  ہے طلاقت لسانی کا جوہر دکھلاتا ہے  وہ خود اختلاف و انتشار کا معجون مرکب بنا رہتا ہے  ۔ ان کا خود کسی سے اتحاد نہیں یہ لوگ ہر جگہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائے رہتے ہیں جب قوم کے رہبر اور واعظ خود عملی زندگی سے خالی ہوں گے بے عمل ہوں گے تو صرف زبانی زباں خرچ سے ملت کی تقدیر کبھی  نہیں بدلی ہے اور نہ بدلے گی ۔                     آج جب کہ اس امت کو (اور خصوصا ملت ہندیہ کو) نوع بنوع یورش و یلغار کا سامنا ہے اور ان حملوں کا نشانہ اس کا تشخص ،عقائد نظریہ دین و زندگی، تصور خالق و مخلوق اور تصور دنیا و آخرت ہے اور مقصد ان سب کو تبدیل کردینا ہے ایسے میں اس نئے طاغوتی طاقتوں اور طاغوتی نظام کے مقابلے میں یہ امت صرف اسی وقت کھڑی ہوسکتی ہے کہ اپنے رب کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے آپس میں سیسہ پلائی دیوار بن جائے ۔ اور اپنے نہ ٹوٹنے والے مستحکم ستون سے پوری طرح چمٹ جائے ۔             حضرت امام مالک رحمہ اللہ کا وہ قیمتی فارمولا بھی ہمیں اپنے سامنے رکھنا پڑے گا ۔ انہوں نے فرمایا تھا *لا یصلح آخر ھذہ الأمة الا بما صلح بہ اولھا*
اس امت کے بعد کے دور کی اصلاح صرف اسی طریقے سے ہوسکتی ہے جس سے پہلے دور کی ہوئی تھی ۔ اور دور اول کی اصلاح کتاب و سنت اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے سے ہوئ تھی ۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق بخشے آمین اور امت کو اجتماعیت کی لڑی میں پیرو دے آمین.

बुरा समय एक अवसर भी होता है।

ईमानदारी से कहूं तो मुस्लिम समाज में भी एक नए और आधुनिक समाज सुधार आन्दोलन की आवश्यकता है। शिक्षा, रोज़गार, आधुनिक दृष्टि, जेंडर जस्टिस और फ़िरक़ों के बीच की नफरत को दूर करने के लिए अगर एक व्यापक सामाजिक आन्दोलन इस समाज के भीतर हो सका तो वह न केवल मुसलमानों बल्कि पूरे देश के लिए शानदार होगा। अगर ऐसा आंदोलन पहले हुआ होता तो तीन तलाक़ समाज के भीतर से ही ख़त्म किया जा सकता था और उसका फ़ायदा उठाने का किसी और को मौक़ा नहीं मिलता।
बुरा समय एक अवसर भी होता है।

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...