Tuesday, July 30, 2019

داد کھجلی کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟

داد کھجلی کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟

داد ایک طرح کا پھنگل انفکشن ہے جو ایک بار ہو نے پر پوری بوڑی میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔یہ کھجلی فنگس کی وجہ سے ہوتی ہے۔یہ بدن میں کہیں بھی اور کبھی بھی ہوسکتی ہے۔یہ ہر گروپ کے مردوعورت کو ہو سکتی ہے۔ مندرجہ ذیل طرح کے فنگل انفکشن عموما ہوتے ہیں:
athlete's foot.
yeast infection.
ringworm.
nail fungus.
oral thrush.

diaper rash.






علاج:

مختلف طریقہائے علاج میں مختلف انداز اختیار کیے جاتے ہیں۔طبِ یونانی میں خلطِ صفراء و بلغم کے مسہلات اور مصفیاتِ خون ادویہ کے علاوہ مقامی طور پر گندھک کے مراہم، کافور اور روغنِ گلاب میں تیار کردہ لوشن مسکنات کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ راحت طبِ جدید کی دواؤں سے ہی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ پھپھوند اور اس کے بذروں (Spores)کو ختم کردینے والی ہوتی ہیں۔ ان ادویہ میں مقامی طور پر لگانے کے لیے کریم، لوشن، مراہم اور پاؤڈر دستیاب ہیں۔بار بار ہونے والے پھپھوندی مرض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ جلد کی بیرونی سطح سے کچھ اندر بھی سرایت کر جاتی ہے خصوصاً سر اور ناخن کے؛ اس لیے اندرونی طور پر کھلانے والی چند گولیاں اور کیپسول بھی اب بازار میں دستیاب ہیں۔ مقامی طور پر لگانے کے لیے Terbinafine, Clotrimazole, Miconazole, Ketoconazoleجیسی کارگر دوائیں ملتی ہیں۔ اندرونی استعمال کے لیے Terbinafine, Griseofulvin, Fluconazole, Itraconazole دستیاب ہیں۔

داد کھجلی کی اسباب:
کسی insect bite  سے۔
سوکھے اور روکھے موسم کی وجہ سے۔
کسی طرح کے جلدی انفکشن کی وجہ سے۔
دوسرے کے استعمال شدہ صابون وغیرہ استعمال کرنے کی وجہ سے۔
کسی دوا سے الیرجی کی وجہ سے۔
بالوں میں ڈاون ڈرف کی وجہ سے۔

داد ہونے پر جسم پر اثرات یا لکشنڑ:

جگہ کا لال ہوجانا۔
پھنسی جیسے مواد سے بھرے ہوے نشان کا ابھرنا۔
کھجلی ہونا۔
انفکشن کی جگہ پر ابھار ہونا۔
چمڑوں کا سوکھنا اور اس میں پھٹن شروع ہوجانا۔

داد کھجلیخارش یا کھجلی جیسی بھی ہو عام طور پر بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اگر اسکا مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف پورے جسم پر پھیل سکتی ہے بلکہ یہ بیماری شدت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ کھجلی کئی اقسام کی ہوتی ہے لیکن عام طور پر جو کھجلی عام ہے یہ جو نما کیڑے کے جلد میں چلے جانے اور اسکے انڈے دینے کے بعد پیدا ہوتی ہے اور اگر اسکا بروقت علاج نہ کیا جائے تو آپکے گھر کے تمام افراد کو بھی لگ سکتی ہے۔ ذیل میں کھجلی ہونے کی چند علامات اور اس سے نجات کے طریقے بتائے گئے ہیں۔کھجلی کی علامات:کھجلی میں عام طور پر کسی بھی شخص کا سونا مشکل ہوجاتا ہے اور رات کو متاثرہ شخص میں کھجلی مزید شدت اختیار کرلیتی ہے۔کھجلی کی بیماری میں مبتلا ہونے کی دوسری بڑی علامات جلد پر سفید دانے نمودار ہونا ہے۔ اور عام طور پر یہ دانے پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔کھجلی کی صورت میں ہتھیلیوں سے جلد چھلکے کی صورت میں اترنا شروع ہوجاتی ہے۔کھجلی میں۔

کچھ مزید اثرات:

مبتلا ہونے کی صورت میں متاثرہ شخص کے جسم پر موجود دانے بھی سوکھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور ان پر کھرنڈ آنے کے علاوہ جسم پر زغم بھی تشکیل پانا شروع ہوجاتے ہیں۔کھجلی ہونے کی وجوہات کیا ہیں:کھجلی کس وجہ سے ہوتی ہے یہ ایک اسکن انفیکشن ہے جو آپکی جلد میں جونما جراثیم کے جلد میں انڈے دینے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس کیڑے کا نام اسکیبیز ہے۔کھجلی ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل بھی ہوسکتی ہے جیسے عام طور پر کسی سے گلے ملنے سے منتقل ہونا۔کھجلی کے جراثیم بہت تیزی سے پھیلتے ہیں اور یہ متاثرہ شخص کے تولیے اور بستر وغیرہ استعمال کرنے سے بھی ہوسکتی ہے۔کھجلی کا علاج:کھجلی کے علاج کیلئے اسکاباقاعدہ طبی علاج بہت ضروری ہے اسکے لئے عام طور پر ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں ۔ پھر باقاعدہ علاج کے ذریعے کھجلی کی بیماری میں اسکے کیڑے کے انڈوں کو جسم سے ختم کیا جاتا ہے۔ عام طور پر اس کے علاج کیلئے ڈاکٹر آپ کو لوشن یا کریم وغیر تجویز کرتے ہیں۔

داد دراصل ایک انفیکشن ہے جسے جلد کی پھپھو ند بھی کہا جاتا ہے۔یہ جلد کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے پہلے یہ ایک ریش کی طرح ہو تا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ پھیلنے لگتا ہے جو سرخ رنگ کے نشانوں کی طر ح ہو تا ہے۔ اس کو ٹھیک ہو نے میں وقت لگتا ہے اس لیے پر یشانہو نے کے بجائے تحمل سے اس کا علاج کر یں۔
پہلے داد والی جگہ پر تیز خارش ہو تی ہے جو نا قا بل بر داشت ہو تی ہے۔ بچوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔چو نکہ یہ انفیکشن چھو نے سے بھی پھیلتا ہے اس لیے مطلو بہ شخص کو چھو نے سے گریزکریں ۔ اگر آپ کواس انفیکشن کا سامنا کرنا پڑتاہے تو آپ کو علاج سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تا کہ اس انفیکشن کو روکا جا سکے۔

صفا ئی کا خیال رکھیں۔
اس بیماری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ صفا ئی کا خا ص خیال رکھیں۔ دن میں دو بار نہا ئیں اور کسی اچھے صا بن کا استعمال کریں۔
اگر آپ کو انفیکشن کی علامات نظر آنے لگیں تو نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس سے غسل کر یں ۔

گندے کپڑے پہننے سے گر یز کر یں کیو نکہ یہ انفیکشن گندگی سے بڑھتا ہے۔
اگر آپ کی جلد پر داد چھو ٹا سا ہے تو اس پر اینٹی بیکٹیر یل کر یم لگا ئیں تا کہ اسے وہیں پر روکا جا سکے ۔

مزید تدابیر و مفید علاج:
لہسن
لہسن کے دو تین جو ئے پیس کر انھیں متا ثر ہ جگہ پر لگائیں اور کسی کپڑے سے باندھ دیں لہسن کی اینٹی سیپٹک خصوصیات انفیکشن کو ختم کر دیں گی۔
ٹی ٹر ی آئل
یہ داد سے نجات کا سب سے پر انا نسخہ ہے۔اس آئل میں بر ابر مقدار میں پانی شامل کر لیں اور داد والی جگہ پر دن میں دو بار لگائیں ۔
سیب کا سر کہ
سیب کا سر کہ روئی میں بھگو کر متا ثر ہ جگہ پر لگائیں اور تین روز تک اس کا استعمال کر یں۔
ہلدی
ہلدی کا رس متا ثر ہ جگہ پر لگانے سے افا قہ ہو گا نیز ہلدی کو پانی میں ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نمک اور سر کہ
سرکے میں تھو ڑا سا نمک شامل کر کے متاثرہ جگہ پر لگائیں اور پھر دو گھنٹے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔
تلسی کے پتے
تلسی کے پتے پیس کر اس کا عر ق داد والی جگہ پر لگائیں یہ عمل دن میں دو بار کر نے سے خارش میں بھی کمی آئے گی نیز اس انفیکشن سے چھٹکارا بھی ملے گا۔
کچا پپیتا
کچچا پپیتا داد والی جگہ پر ہلکا ہلکا ملیں اس میں مو جو د غذائی اجزاء انفیکشن کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔
لیمن گر اس ٹی
یہ چائے دن میں تین بار استعمالکرنے سے افا قہ ہو گا اس کے علاوہ اس ٹی کے استعمال شد ہ ٹی بیگ متاثر ہ جگہ پر رکھنے سے فائدہ ہو گا۔
آلو
کچے آلو کارس پینے سے اس بیماری میں افاقہ ہو گا۔
سنگھا ڑا
لیموں کے رس میں خشک سنگھا ڑے کو گھس کر لگائیں پہلے جلن ہو گی پھر ٹھنڈ ک پڑ جائے گی کچھ دن کے استعمال سے افا قہ ہو گا۔
چقندر
اس سبزی کو زیادہ عر صہ کھانے سے اس بیماری سے شفاء ملتی ہے۔
ٹیلویژن پر دکھائے جانیوالے اشتہارات کی وجہ سے مریضوں کو’داد‘ یعنی شرمگاہ اور اس کے آس پاس کے مقامات کی کھجلاہٹ کو سمجھانا قدرے آسان ہوگیا ہے۔ لوگ خود بھی اشتہار میں دکھائے جانیوالے مراہم کا استعمال کر لیتے ہیں۔ کچھ کو آرام بھی مل جاتا ہے لیکن بہت سے مزید پریشان ہو کر دواخانوں میں حاضر ہوتے ہیں۔
’داد‘ ایک طفیلی مرض ہے۔ اس میں شدید کھجلی اور بے چینی ہوتی ہے۔ اس کا سبب کچھ پھپھوند (Fungus) ہیں۔ انھیں عام طور سے ’رِنگ ورم‘ (Ringworm)کہتے ہیں۔ یہ ایک غلط نام ضرور ہے کیونکہ اس میں کسی کیڑے کا کوئی عمل نہیں ہے؛ لیکن دورِ قدیم میں ایسا تسلیم کیا جاتا تھا کہ یہ کسی کیڑے کے کاٹنے سے لاحق ہوتا ہے اور دائرے کی شکل میں پھیلتا ہے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا تھا۔ آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ مگر بعد کے زمانوں میں تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس کا سبب جلد پر اُگنے والی پھپھوند (Dermatophytes) یعنی جِلدی پھپھوند ہیں۔ علاوہ ازیں یہ صرف دائرے کی شکل میں نہیں پھیلتا بلکہ منحنی شکلوں میں بھی پھیلتا ہے۔ 
داد کا مرض جلد کی اوپری (بیرونی) سطح پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے معاون اسباب میں ’’گرمی (حرارت) اور نمی‘‘ والے علاقے ہیں یعنی جہاں پسینہ یا کوئی اور رطوبت (جیسے منہ، ناک اور کان کی رطوبتیں) کا اخراج ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں اس کے سبب کھجلی، چھلکے اور پرت کی پیدائش اور سر، ڈاڑھی وغیرہ پر گنج بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ مرض ایک سے دوسرے فرد میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے؛ خواہ راست تعلق سے یا پھر تولیہ، کنگھیاں، کپڑے یا زیر جامے اور حتیٰ کہ سوئمنگ پول یا باتھ روم (ٹب) کے مشترکہ استعمال سے بھی یہ مرض ایک سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ کچھ پالتو جانور جیسے بلی، کتے، خرگوش وغیرہ بھی اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ اپنے نگراں یا مالک کو بھی متاثر  کرتے ہیں۔
یہ پھپھوند انسانی جلد کے اوپر ہی پلتی ہے۔ بالوں اور ناخنوں میں بھی ملتی ہے۔ پالتو جانوروں کی جلد میں بھی پناہ لیتی ہے اور مٹی میں بھی شامل رہتی ہے۔ اس لیے کس فرد کو کہاں سے پھپھوند نے متاثر کیا ہے اس کی تحقیق تقریباً ناممکن ہے۔ اس کی افزائش کے لیے بتایا جا چکا ہے کہ ’’گرمی اور نمی‘‘ کی موجودگی لازم ہے۔ایسے علاقے جہاں دو مقامات کی جلدیں آپس میں ملتی ہیں وہاں ’’گرمی اور نمی‘‘ بھی پائی جاتی ہے اس لیے وہاں اس مرض کے پیدا ہونے کا امکان زیادہ رہتا ہے جیسے کنجران (جانگھوں کی بغل)، بغل، انگلیوں کے درمیان، گردن وغیرہ۔
حالانکہ مرض ایک ہی ہے، یعنی ’’داد‘‘، علامات و علاج بھی تقریباً یکساں ہوتے ہیں لیکن (برائے علاج) جسم کے حصوں سے منسوب کر کے اس کے مخصوص نام دئیے گئے ہیں جیسے:
٭ Tinea barbae (یعنی ڈاڑھی کی پھپھوند) یہ عام طور سے نائی کے یہاں سے برآمد ہوتی ہے۔ ٭inea capitis (سر کی پھپھوند) مدرسوں اور اسکولی بچوں میں عام ہے۔ ٭ Tinea corporis (جسمانی جلد کی پھپھوند) اس میں داد کے امتیازی اور مخصوص چکتّے (چٹّے) ظاہر ہوتے ہیں۔ ٭inea cruris (کنجران کی پھپھوند) یہ شرمگاہ کے آس پاس رانوں کے بغلی علاقوں اور کبھی اعضائے مخصوصہ مردانہ و زنانہ کی جلد پر بھی شدید خارش اور چٹے پیدا کرتی ہے۔ ٭inea faciei (چہرے کی پھپھوند) ڈاڑھی کے علاقوں سے ہٹ کر پیدا ہونے والے یہ بھی بے حد عام اور مخرش چٹے ہیں۔ ٭inea manus (ہتھیلیوں کی پھپھوند) یہ انگلیوں کے درمیانی حصوں کی پھپھوند کے ساتھ واقع ہوتی ہیں اور ہاتھوں کے اگلے یا پچھلے حصوں پر پھیلتی ہے۔ باورچی خانوں اور بیکری وغیرہ کے ملازمین یا پانی کے کام کرنے والوں میں عام ہے۔ ٭inea pedis (پیروں کی انگلیوں کی پھپھوند) عام طور سے کھلاڑیوں، دھوبی، کنسٹرکشن ورکرس وغیرہ کو متاثر کرتی ہے۔داد کی تمام اقسام میں اس کا علاج سب سے مشکل ہوتا ہے اور عام طور سے مریض کو دوبارہ بھی گھیر سکتا ہے۔ ٭inea unguium (ناخنوں کی پھپھوند) اسے Onychomycosis بھی کہا جاتا ہے۔ 

علامات:

علامات تمام صورتوں کی یکساں ہیں یعنی شدید خارش (خصوصاً رات کے وقت)، اکثر سوزش، چھلکے یا پرت جھڑنا۔

اسبابِ معاونہ:

ذاتی صاف صفائی کی کمی،پسینہ کا زیادہ اخراج، بعض دوائیں جیسے اینٹی بایوٹک دواؤں کا زیادہ عرصہ تک استعمال اور اسی طرح اسٹیرائیڈ کا بھی طویل مدت تک استعمال، ہاتھوں اور پیروں کا مسلسل نم رہنا، مصنوعی ریشوں (جرسی jersey) سے بنے زیر جامے اور بنیان و موزوں کا استعمال، وغیرہ۔

علاج میں غفلت:

یہ بالکل عام بات ہے کہ علاج شروع کرنے سے چند دنوں میں ہی علامات جاتی رہتی ہیں۔ اور مریض محسوس کرتا ہے کہ اسے داد سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ اس کے بعد وہ علاج میں غفلت برتنا شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ محض دو یا چار دنوں کے علاج سے پھپھوند یا فنگس پوری طرح سے ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے تقریباً تین یا چار ہفتے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مریض ڈاکٹروں سے آکر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مجھے علاج سے راحت مل جاتی ہے لیکن تمام تکالیف بار بار پلٹتی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محض دو یا تین دنوں کے علاج سے آپ اس مرض سے چھٹکارا نہیں پاسکتے بلکہ کم از کم تین تا چار ہفتے مسلسل علاج کرتے رہنا ضروری ہے۔

احتیاط:

درجِ بالا تمام ادویہ کا استعمال اپنے معالج کی نگرانی میں ہی اور اس کی ہدایت کے مطابق کرنا چاہیے۔ ابتدائے مرض میں ہی علاج شروع کردیا جائے تو مرض شدت بھی اختیار نہیں کرتا اور مکمل چھٹکارے کے امکانات بہت روشن ہوتے ہیں۔ بدن پر گیلے کپڑے (خصوصاً برسات میں) ہوں تو انھیں جلد سے جلد تبدیل کر لیا جائے۔ پانی کے کام کے بعد ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ ناخنوں پر موجود پانی کو فی الفور سکھا لینا چاہیے

ازقلم : محمد نورالدین ازہری
ایڈیٹر اسلامک کلچر بلاگ



Monday, July 29, 2019

لا تخلط بين عالِمَيْن اثنين

*إلى الباحثين: (لا تخلط بين عالِمَيْن اثنين):
1- لا تخلط بين (القرطبي) صاحب التفسير، و(القرطبي) صاحب شرح صحيح مسلم، فاﻷول يكنى أبا عبدالله، والثاني يكنى أبا العباس.
2 - لا تخلط بين (ابن رشد) صاحب: المقدمات، والبيان والتحصيل، وبين (ابن رشد) صاحب بداية المجتهد ونهاية المقتصد، فاﻷول ابن رشد الجد، والثانى ابن رشد الحفيد.
3- لا تخلط بين (الزرقاني) اﻷب صاحب: "شرح مختصر خليل"، و(الزرقاني) الابن صاحب: "شرح الموطأ".
4- لا تخلط بين (القرافي) صاحب كتاب الذخيرة، والفروق، و(القرافي) صاحب شرح موطأ مالك ومختصر خليل، فاﻷول اسمه أحمد بن إدريس، والثانى اسمه محمد بن يحيى.
5 - لا تخلط بين (ابن عرفة) صاحب كتاب الحدود، وبين (ابن عرفة) صاحب الحاشية المشهورة على الشرح الكبير للدردير، فاﻷول تونسى، والثانى دسوقي.
6 - لا تخلط بين (المازري) صاحب شرح التلقين وإيضاح المحصول، و(المازري) صاحب التعليق الكبير فى المذهب المالكى.
7- لا تخلط بين (الزركشي) شارح مختصر الخرقي، و(الزركشي) صاحب البرهان في علوم القرآن، فالأول حنبلي، والثاني شافعي.
8- لا تخلط بين (ابن تيمية) الجد صاحب المحرر،
و(ابن تيمية) الحفيد أحمد ابن عبدالحليم.
9- لا تخلط بين (ابن عبد الهادي) صاحب المحرر في الحديث، و(ابن عبد الهادي) صاحب مغني ذوي الأفهام،
فالأول في القرن الثامن، والآخر في القرن العاشر، وكلاهما حنبلي.
10- لا تخلط بين (أبي الحسن) علي بن محمد بن عبد الحق الزرويلي وشهرته الصُّغيِّر (ت 719ه‍) صاحب "التقييد على المدونة"، و(أبي الحسن) علي بن محمد بن محمد بن خلف المنوفي المصري (ت939ه‍)، صاحب ”كفاية الطالب الرباني شرح رسالة أبي زيد القيرواني“ المقرر على المعاهد الأزهرية.
11- (اللقاني): هناك أربعة من علماء المالكية يحملون نفس النسبة  لقرية لقانة من قرى مصر: برهان الدين إبراهيم بن محمد اللقاني قاضي القضاة (ت 896 هـ)، وتلميذه: شمس الدين محمد بن حسن اللقاني، له حاشية على خليل (ت 935 هـ)، وناصر الدين اللقاني محمد بن الحسن، صاحب التصانيف، له شرح على مختصر خليل (ت 958 هـ)، وهو أخو شمس الدين، أما الرابع فمتأخر عنهم وهو أبو الأمداد برهان الدين إبراهيم بن حسن اللقاني، له حاشية على خليل وله نظم جوهرة التوحيد (ت1041هـ).
12 - لا تخلط بين (الشاطبي) صاحب الموافقات والاعتصام و(الشاطبي) " القاسم بين فِيرُّه" مصنف الشاطبية في القراءات.
13-  لا تخلط بين (ابن العربي) المعافري المالكي صاحب العارضة والعواصم وأحكام القرآن، و(ابن عربي) المتصوف صاحب الفصوص والفتوحات، وكلاهما "محمد".
14- لا تخلط بين (ابن حجر العسقلاني) المحدث صاحب الفتح، و(ابن حجر الهيتمي) شارح المشكاة، وكلاهما "أحمد".
15- لا تخلط بين (أبي حامد الغزالي) المشهور بحجة الإسلام، و(الغزالي) الكاتب المعاصر وكلاهما "محمد".
16- لا تخلط بين (نافع) مولى ابن عمر، وبين (نافع) القارئ عن وَرْش، وكلاهما مدنيان.
17- لا تخلط بين (الجويني) الأب، وابنه إمام الحرمين أبي المعالي صاحب البرهان والورقات.
18- لا تخلط بين (ابن كثير) المقرئ و(ابن كثير) المفسر.
19 - لا تخلط بين (الرازي) الفيلسوف الطبيب صاحب الحاوي والشكوك، و(الرازي) الأصولي المفسر المتكلم.
20- لا تخلط بين (الترمذي) المحدث الحافظ صاحب السنن،  و(الترمذي) الحكيم صاحب النوادر.
21- لا تخلط بين (أبي مسلم  الأصفهاني الأديب  ) محمد بن علي الأصفهاني المعروف بـابن مَهْرَيَزْد الأديب أو ابن مهرايزد د)*(366 - 459 ه‍ = 976 - 1067 م) في القرن الخامس الهجري
و(أبي سلم  الأصفهاني المفسر ) محمد بن بحر (254ـ322 ) هو من مفسري القرن الرابع الهجري من المعتزلة ، كان كاتبا ، نحويا ، أديبا ،متكلما، مفسرا ، ومن رجال الدولة العباسية
22- لا تخلط بين ( ابن قيم الجوزية ) تلميذ ابن تيمية  صاحب كتاب  "زاد المعاد "   أبو عبدالله محمد بن أبي بكر الزرعي الدمشقي كان والده قيّما -اي مديرا - على المدرسة الجوزية - التي انشأها يوسف ابن عبد الرحمن  الجوزي -
و بين (ابن الجوزي)  - ت 592 هـ - : فهو الحافظ أبو الفرج عبدالرحمن الجوزي صاحب كتاب" صيد الخاطر" " وتلبيس إبليس"
23- لا تخلط بین( الامام النووي) الدمشقي أبو زكريا يحيى بن شرف الحزامي صاحب" رياض الصالحين"و " الأربعين النووية" و"المنهاج" في الفقه
و(النووي الجاوي) الإندونيسي محمد بن عمر  من أندنويسیا صاحب "عقیدة العوام" و" التفسير المنير لمعالم التنزيل"،  وكلاهما شافعیان.
24- لا تخلط بين (نافع القاريء )و( نافع المحدِّث ) (نافع بن عبد الرحمن بن أبي نعيم الليثي ﺍﻟﻤﻘﺮﺉ (70–169هـ) صاحب قراءة أهل الجزائر وليبيا عندما نقول  قراءة ورش عن نافع
والثاني أبو عبد الله نافع المدني مولى عبد الله بن عمر بن الخطاب علامة في الفقه، كثير الرواية للحديث ثقة. ويعد مالك بن أنس أشهر من لازمه وحدث عنه. لا يعرف له خطأ في جميع ما رواه.

मेरे पास खुदरा पैसे नहीं

"दुनिया के सबसे धनवान व्यक्ति बिल गेट्स से किसी ने पूछा - 'क्या इस धरती पर आपसे भी अमीर कोई है ? बिल गेट्स ने जवाब दिया - हां, एक व्यक्ति इस दुनिया में मुझसे भी अमीर है। कौन -!!!!! बिल गेट्स ने बताया: एक समय मे जब मेरी प्रसिद्धि और अमीरी के दिन नहीं थे, मैं न्यूयॉर्क एयरपोर्ट पर था.. वहां सुबह सुबह अखबार देख कर, मैंने एक अखबार खरीदना चाहा,पर मेरे पास खुदरा पैसे नहीं थे.. सो, मैंने अखबार लेने का विचार त्याग कर उसे वापस रख दिया.. अखबार बेचने वाले लड़के ने मुझे देखा, तो मैंने खुदरा पैसे/सिक्के न होने की बात कही.. लड़के ने अखबार देते हुए कहा - यह मैं आपको मुफ्त में देता हूँ.. बात आई-गई हो गई.. कोई तीन माह बाद संयोगवश उसी एयरपोर्ट पर मैं फिर उतरा और अखबार के लिए फिर मेरे पास सिक्के नहीं थे।उस लड़के ने मुझे फिर से अखबार दिया, तो मैंने मना कर दिया। मैं ये नहीं ले सकता.. उस लड़के ने कहा, आप इसे ले सकते हैं, मैं इसे अपने प्रॉफिट के हिस्से से दे रहा हूँ.. मुझे नुकसान नहीं होगा। मैंने अखबार ले लिया...... 19 साल बाद अपने प्रसिद्ध हो जाने के बाद एक दिन मुझे उस लड़के की याद आयी और मैंने उसे ढूंढना शुरू किया। कोई डेढ़ महीने खोजने के बाद आखिरकार वह मिल गया। मैंने पूछा - क्या तुम मुझे पहचानते हो ? लड़का - हां, आप मि. बिल गेट्स हैं. गेट्स - तुम्हे याद है, कभी तुमने मुझे फ्री में अखबार दिए थे ? लड़का - जी हां, बिल्कुल.. ऐसा दो बार हुआ था.. गेट्स- मैं तुम्हारे उस किये हुए की कीमत अदा करना चाहता हूँ.. तुम अपनी जिंदगी में जो कुछ चाहते हो, बताओ, मैं तुम्हारी हर जरूरत पूरी करूंगा.. लड़का - सर, लेकिन क्या आप को नहीं लगता कि, ऐसा कर के आप मेरे काम की कीमत अदा नहीं कर पाएंगे.. गेट्स - क्यूं ..!!! लड़का - मैंने जब आपकी मदद की थी, मैं एक गरीब लड़का था, जो अखबार बेचता था.. आप मेरी मदद तब कर रहे हैं, जब आप इस दुनिया के सबसे अमीर और सामर्थ्य वाले व्यक्ति हैं.. फिर, आप मेरी मदद की बराबरी कैसे करेंगे...!!! बिल गेट्स की नजर में, वह व्यक्ति दुनिया के सबसे अमीर व्यक्ति से भी अमीर था, क्योंकि--- "किसी की मदद करने के लिए, उसने अमीर होने का इंतजार नहीं किया था ".... अमीरी पैसे से नहीं दिल से होती है दोस्तों किसी की मदद करने के लिए अमीर दिल का होना भी बहुत जरूरी है..

ولایت کیسے ملتی ہے

وقت کا ولی...... ولایت کیسے ملتی ہے ؟ آئیں آپ کو ولی بناتے ہیں!
ایک صاحب سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے ؟
انہوں نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔
جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا،
میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے” ۔
آپ یقین کریں ہم سب ولی اللہ بننے اور اللہ کے ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں ، مشقتوں اور مراقبوں سے گذرنا پڑےگا ۔
سار ی ساری رات نوافل میں گذارنی پڑےگی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر اللہ ہو کی صدائیں لگانا پڑے گی تب ہم ولی اللہ کے درجے پر پہنچ جائینگے ۔
آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اس کو ہی” پہنچا “ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر آئیگا ۔ جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے ۔
اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔
اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے ؟
انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے “بیٹا ! کسی ایک کے آگے اپنی انا کو مارنا عشق مجازی ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنی انا کو مارلینا عشق حقیقی ہے” ۔
جنید بغدادی اپنے وقت کے نامی گرامی شاہی پہلوان تھے ۔ انکے مقابلے میں ایک دفعہ انتہائی کمزور ، نحیف اور لاغر شخص آگیا ۔ میدان تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ بادشاہ اپنے پورے درباریوں کے ساتھ جنید بغدادی کا مقابلہ دیکھنے آچکا تھا ۔
مقابلہ شروع ہونے سے پہلے وہ کمزور آدمی جنید بغدادی کے قریب آیا اور کہا دیکھو جنید ! کچھ دنوں بعد میری بیٹی کی شادی ہے میں بے انتہائی غریب اور مجبور ہوں ۔ اگر تم ہار گئے تو بادشاہ مجھے انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ لیکن اگر میں ہار گیا تو اپنی بیٹی کی شادی کا بندو بست کرنا میرے لیے مشکل ہوجائیگا ۔
مقابلہ ہوا اور جنید بغدادی ہار گئے ۔ بادشاہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا اس نے دوبارہ اور پھر سہہ بارہ مقابلہ کروایا اور تینوں دفعہ ہار جنید بغدادی کے حصے میں آئی ۔بادشاہ نے سخت غصے میں حکم دیا جنید کو میدان سے باہر جانے والے دروازے پر بٹھا دیا گیا
اور
تمام تماشائیوں کو حکم دیا گیا کہ جو جائیگا جنید پر تھوکتا ہوا جائیگا ۔
جنید بغدادی کی انا خاک میں مل گئی لیکن ان کی ولایت کا فیصلہ قیامت تک کے لیے آسمانوں پر سنا دیا گیا ۔
ولی تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کردے۔جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔ چہرے پر خوشیاں بکھیر دے ۔ جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچالے اس سے بڑا ابدال بھلا کون ہوگا ؟
رسول خداﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا :
”معاذؓ !تمھیں وہ عمل نہ بتاوں جو بغیر حساب کتاب کے تمھیں جنت میں داخل کروادے ؟” معاذؓ نے عرض کی ضرور یا رسول اللہﷺ ۔
آپ نے فرمایا :”معاذ ! مشقت کا کام ہے کروگے ؟” ضرور کروں گا یارسول اللہﷺ ،معاذ نے جواب دیا ۔ آپﷺ نے پھر فرمایا :”معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کروگے ؟” معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ۔
آپ نے فرمایا:” اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجاوگے” ۔
معروف کرخیؒ نے فرمایا جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ مکار ہے اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ ولی ہے ۔ ولایت شخصیت نہیں کردار میں نظر آتی ہے ۔
ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جارہے ہو ؟ اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔
اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟ کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہوگیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی ۔ ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاو اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟ یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول کے خلاف دیکھا ہو ؟
اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو واقعی کچھ نہیں دیکھا ۔ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے ! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے ۔
جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔
کبائر سے اجتناب کرتا ہو ۔
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔
آپ مان لیں کہ اس سے بڑا ولی کوئی نہیں ہوسکتا ہے ۔اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ صاحب حال ہوتا ہے ۔نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔
اپنے حال پر خوش اور شکر گذار رہتا ہے ۔جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی آخرت کا غم بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہوجائے وہی وقت کا ولی ہے ۔
ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا ۔آپ یقین کریں تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا مشکل ہے ۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائواور ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو ۔جو صبر کرنا سیکھ لے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے ، ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کرلے اس سے بڑا ولی بھلا اور کون ہوسکتا ہے ؟
یاد رکھیں جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی ولی ہے ۔ جس کے دل کی دنیا میں آج جنت ہے وہی وہاں جنتی ہے اور جس کا دل ہر وقت شکوے ،شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی آگ سے سلگتا رہتا ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ یہی ہے ۔
فرائض کی پابندی کیجیے ،
کبائر سے اجتناب کیجیے ،
حال پر خوش رہیے ،
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیا ں پیدا کیجیے ،
اور وقت کے ولی بن جائیے..!

قربانی کے متعــــلق عــــوام کی غلط فہمیاں

*قربانی کے متعــــلق عــــوام کی غلط فہمیاں
           *بشــکل ســوال و جــواب*
*سوال نمبر☜30:ـــ* عوام میں مشہور ہے کہ قربانی کے بکرے کا دانت والا ہونا ضروری ہے اگر دانت والا نہ ہو تو اسکی قربانی جائز نہیں ـــ کیوں؟
*جواب☜:ـــ* قربانی کے بکرے کا کم سے کم سال بھر کی عمر کا ہونا ضروری ہے،دانت والا ہونا ضروری نہیں لہٰذا اگر بکرا سال بھر کا ہے تو اسکی قربانی جائز ہے اگرچہ اسکے دانت نہ نکلے ہوں ــ
_(فتاوی فیض الرسول،ج۲،ص ۴۵۶)_
*سوال نمبر☜31:ــ* عوام میں یہ مسئلہ بہت مشہور ہے کہ جس چُھری میں تین کیلیں اور لکڑی کا دستہ نہ ہو، تو اس چھری سے ذبح کرنا جائز نہیں؟
*جواب☜:ــ* یہ غلط مشہور ہے صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ہر چھری اور ہر دھاردار چیز سے ذبح کرنا جائز و درست ہے ــ
_( بہارشریعت،ح۱۵،ص۳۱۶)_
*سوال نمبر☜32:ــ* عوام میں مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ ذبح کیا جاتا ہے؟
*جواب☜:ــ* یہ مسئلہ غلط مشہور ہے،سنت طریقہ یہ ہیکہ اونٹ کو ایک بار نحر کیاجائےــ تین جگہ ذبح کرنا مکروہ ہے کہ بلا وجہ ایذا دینا ہے ــ
_(بہارشریعت،ح۱۵،ص۳۹۲)_
*سوال نمبر☜33:ــ* ذبح کے وقت اگر ساری گردن کٹ گئی تو کیا ذبیحہ حلال ہے؟
*جواب☜:ــ* ذبح کے وقت اگر ساری گردن کٹ گئی اور سر جدا ہو گیا توبھی اس ذبیحہ کا کھانا حلال ہے مگر ایساکرنامکروہ ہےــ
_(بہارشریعت،ح۱۵،ص۳۹۲)_
*سوال نمبر☜34:-* ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا بھول گیا تو وہ ذبیحہ حلال ہے یاحرام؟
*جواب☜:-* اگر کوئی ذبح کے وقت بسم اللہ کہنا بھول گیا تو وہ ذبیحہ حلال ہےــ
_(ہدایہ،ح۴،ص۶۳۳)_
*سوال نمبر☜35:-* جس جانور کا کوئی عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہو اسکی قربانی جائز نہیں تو خصی جسکے پورے خصیے کٹے ہوتے ہیں اسکی قربانی کیسے جائز ہے؟
*جواب☜:-* اصل میں کان وغیرہ کسی دوسرے عضو کا تہائی سے زیادہ کٹا ہونا چونکہ عیب ہے اسلئے ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں اور خصیے کا کٹا ہونا عیب نہیں،اسلئے کہ عیب اسکو کہتے ہیں جس کے سبب چیز کی قیمت تاجروں کی نگاہ میں کم ہوجائے اور خصیتین کاٹنے کے سبب خصی کی قیمت تاجروں کی نگاہ میں کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہوجاتی ہے لہٰذا وہ عیب نہیں بلکہ خوبی ہے اسلئے خصی کی قربانی صرف جائز نہیں بلکہ افضل ہےـ
_(فتاوی فیض الرسول،ج۲،ص۴۵۸)_
*سوال نمبر☜36:-* عوام میں مشہور ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کی جائے تو گھر والے اس گوشت کو نہیں کھا سکتے،پورے گوشت کو صدقہ کرنا واجب ہے یہ مسئلہ کہاں تک درست ہے؟
*جواب☜:-* یہ مسئلہ غلط مشہور ہے صحیح مسئلہ یہ ہے کہ اس گوشت کو سب کھا سکتے ہیں
البتہ میت نے اگر وصیت کی تھی پھر اسکی طرف سے قربانی کی تو گھر والے نہیں کھا سکتے بلکہ اس صورت میں کل گوشت کو صدقہ کرنا واجب ہےــ
_(بہارشریعت،ح۱۵،ص۳۴۵)_
*سوانمبر☜37:-* عوام میں مشہور ہےکہ جس شخص پر قربانی واجب ہے اسکے لئے یہ ضروری ہے کہ ذی الحجہ کے چاند دیکھنے کے بعد سے نہ ناخن تراشے نہ بال بنوائےـ یہ مسئلہ کہاں تک صحیح ہے؟
*جواب☜:-* یہ مسئلہ ضروری نہیں بلکہ استحبابی ہے کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں ــ
_(فتاوی افضل المدارس؛ج۱؛ص۱۳۷)_
*سوال نمبر☜38:-* بعض جگہ عوام میں یہ مشہور ہے کہ تقسیم کرنے سے پہلے قربانی کے گوشت پر فاتحہ پڑھناضروری ہے ـ اگر فاتحہ نہ پڑھی جائے تو قربانی جائز نہیں ہوتی عوام کا یہ خیال کہاں تک درست ہے؟
*جواب☜:-* عوام کا یہ خیال کہ قربانی کے گوشت پر اگر تقسیم سے پہلے فاتحہ نہ پڑھی جائے تو قربانی جائز نہیں ہوتی،فاسد اور لغو خیال ہےکیونکہ قربانی جائز ہونے کے لئے فاتحہ پڑھنا ضروری نہیں البتہ کوئی اگر فاتحہ پڑھنا چاہے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن فاتحہ پڑھنے کو ضروری سمجھنا غلط ہےــ
_(فتاوی مرکزتربیت افتا؛ج۲،ص۳۲۲)_
*سوال نمبر☜39:-* کیا ذبیحہ حلال ہونے کے لئے چھری میں لکڑی کادستہ ہونا ضروری ہے؟
*جواب☜:-* ذبیحہ حلال ہونے کے لئے چھری میں لکڑی وغیرہ کا دستہ ہوناضروری نہیں بنا دستہ والی چھری سے بھی ذبح کرنے سے جانور حلال ہوجاتا ہے-
_(فتاوی امجدیہ؛جلد۳،ص۲۹۴)_
*سوال نمبر☜40:-* قربانی کا گوشت کافر کو دینا جائز ہے یا نہیں؟
*جواب☜:-* قربانی کا گوشت کافر کو دینا شرعا جائز نہیں ـ
_(فتاوی فیض الرسول؛ج۲،ص۴۵۷)_
*سوال نمبر☜41:-* کیا نابالغ بچے کا ذبیحہ جائز نہیں؟
*جواب☜:-* نابالغ بچہ اگر ذبح کرنا جانتا ہے تو اسکا ذبیحہ بلا کراہت جائز ہے کیونکہ ذبح کرنے کے لئے شریعت میں بالغ ہونا شرط نہیں ــ
_(در مختار؛ج۹،ص۴۳۰)_
*سوال نمبر☜42:-* غیر روزہ دار کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟
*جواب☜:-* غیر روزہ دار کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے اسے روزہ دار و غیر روزہ دار سب کھا سکتے ہیں ـ
_(فتاوی فقیہ ملت؛ج۲،ص۲۴۱)_
*سوال نمبر☜43:-* کیا عورت جانور ذبح نہیں کر سکتی؟
*جواب☜:-* ذبح کر سکتی ہے اسکے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے اور مرد و عورت سب کھا سکتے ہیں ــ
_(فتاوی رضویہ؛ج۸؛ص۳۳۲)_
*سوال نمبر☜44:-* اپنی طرف سے نہ کرکے اوروں کے نام سے قربانی کرنا کیسا ہے؟
*جواب☜:-* جو شخص مالک نصاب ہے اس پر اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے اگر وہ شخص اپنے نام سے قربانی نہ کر کے اوروں کے نام سے قربانی کریگا تو گنہگار ہوگا ــ
_(فتاوی فیض الرسول؛ج۲؛ص۴۴۰)_
*سوال نمبر☜45:-* اوجھڑی کھانا کیسا ہے؟
*جواب☜:-* اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی  قریب حرام کے ہےــ
ماخوذ و مرجع
ماہنامہ کنزالایمان شمارہ اکتوبر ۲۰۱۵
               *عــــــرض*
```آپ جملہ قارئین کرام سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ ہماری اس کاوش سے خود بھی نفع اٹھائیں  اور اپنے محبین و مخلصین کو شئیر کرکے انہیں بھی فائدہ پہنچا کر عند اللہ ماجور و عند الناس مشکور ہوں جزاک اللہ خیرا

مسلمان کیا ہم اب بھی نہیں سمجھیں گے؟

جب فرانسیسی جنرل "گورو" نےشام میں قدم رکھا صلاح الدین ایوبی کی قبر پرگیا اور قبر کو لات مارکرکہا:
"اٹھوصلاح الدین ہم پھرآگئے"
جب فرانسیسی جنرل "لیوتی" نے مراکش میں قدم رکھا تویوسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبرکو لات مارکرکہا:
"اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں"
جب صلیبیوں نے دوبارہ اندلس پر قبضہ کیا تو "الفونسو" نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب پی کر لیٹ گیا اور کہا:
"دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے"
جب یونانی فوج ترکی میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ "سوفوکلس وینیزیلوس" خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر کے پاس گیا اورکہا:
"اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالت دیکھوں ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آئے ہیں"
کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں شبہ ہے کہ یہ صلیبی جنگجو ہیں۔
اب سلطان صلاح الدین ایوبی،یوسف بن تاشفین،حاجب منصور اور عثمان غازی کے ارواح کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی کہ عالم اسلام کے نوجوان ان کے کارناموں کو بھول گئی اسے فراموش کردیا اور ٹک ٹاک یا اور کتنے نئے طریقوں سے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے تماشہ بنا رہے ہیں اور اگر کسی سے بات کرو تو وہ کہتے ہیں یہ تو ٹیلنٹ ہے۔کیا ان مجاھدین اسلام کا یہ ٹیلنٹ نہیں تھا یا ٹیلنٹ صرف فحاشی اور عریانی کو عروج دینا ہے صرف اپنے آپ کو دنیا کے سامنے رسوا کرنا ہے کیا امت مسلمہ کے نوجوانوں کے پاس اپنے اسلاف کے کارناموں کو زندہ کرنے یا اسے آگے بڑھانے کے لئے اور وقت نہیں یا یہ صلیبیوں کے بچائے ہوئے وہ جال ہے جسمیں ہم بخوشی پھنسے جا رہے ہیں۔۔
مسلمان کیا ہم اب بھی نہیں سمجھیں گے؟

محنتی طلبہ ہر گز مایو س نہ ہوں

محنتی طلبہ ہر گز مایو س نہ ہوں
مدارس میں بہت سے طلبہ ایسے ہو تے ہیں جو کئی کئی ماہ یا سالہا سال محنت کرنے کے باوجود ،علوم و وفنون میں مہارت حاصل نہیں کر پاتے تو مایوس و ناامید ہو کر محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس بات پر کہ اتنی محنت کیا بعدہ کسی فن میں ید طولی حاصل نہیں ہے جب کہ دوسرے طالب علم رات و دن سوتے ہیں اس کہ باوجود ماہر علم و فن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔یاد رکھو میرے دوستو!جب کوئی طالب علم خلوص نیت اور شوق ومحنت سے اپنے کام میں مگن ہو تو اسے قطعا نا امید نہیں ہونی چاہیے کیو ں کہ محنتی شخص کبھی ناکام نہیں ہوتا بلکہ کا میابی اس کے قدم چومتی ہے۔ الکاسب حبیب اللہ
محنی طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے امام امحمد بن حنبل رحمةاللہ علیہ کا قول نہا یت ہی قابل توجہ ہے۔ فرماتے ہیں :
مکَثْتُ فی کتا ب الحیض تسع حتی فھمتہ
میں نے کتاب الحیض کو سمجھنے میں نو سال صرف کیے ۔( طبقا ت الحنابلہ )
قوی الحافظہ خیر الاذکیا ہونے کے باوجود امام کیا فرما رہے ہیں قابل غور بات ہے ۔
لہذا محنتی طلبہ کو پریشان ہو کر احساس کمتری کا شکار نہیں ہونی چاہیے ۔اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔کوئی شخص معمولی سی محنت سے   کام لیتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے ۔بعض ذہین و فطین کہلانے والے طلبہ نہ اپنی ذہانت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ہی مطالعہ کرتے ہیں بالاخر ناکامی کا منھ تکتے ہیں ۔بسا اوقات کچھ طلبہ شدید محنت کے باوجود کسی بحث کو نہیں سمجھ پاتے ہیں ایسے طلبہ کو چاہیے کہ محنت کو جاری رکھیں ان شا ءاللہ صلہ ضرور ملے گا ۔من جد وجد واکتسب المقاصد ۔
محمد حاتم رضا

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...