Monday, July 29, 2019

پنڈت نول کشور کو کیوں دفن کیا گیا

پنڈت نول کشور کو کیوں دفن کیا گیا
اس کی چتا پر کئی ٹین گھی کے ڈالے گئے تھے لیکن چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی . وہ کوئی عام ہندو نہیں تھا انڈیا کا بہت بڑا نام تھا. اس لئے اس کی چتا کو آگ نہ لگنے والے واقعے کی خبر منٹوں میں پورے انڈیا میں پھیل گئی .
لوگ جوق در جوق شمشان گھاٹ پہنچنے لگے . اس کی جامع مسجد دلی کے امام بخاری سے بہت دوستی تھی امام صاحب بھی یہ واقعہ سن کر فورآ شمشان گھاٹ پہنچے . انہوں نے اس کے لواحقین کو سمجھایا کہ اس کی ارتھی کو آگ نہیں لگے گی چاہے پورے ھندوستان کا گھی اس پر ڈال دو . بہتر یہی ہے اسے دفنا دو.
لہذا پہلی بار ایک ہندو کو جلائے بغیر شمشان گھاٹ کے اندر ہی دفن کرنا پڑا .
اس کی ارتھی کو آگ کیوں نہیں لگ رہی تھی ؟
اس کو آگ کیسے جلا سکتی ہے جس نے قرآن کا احترام مسلمانوں سے بھی بڑھ کر کیا ھو .
کیسے؟ چلیے تاریخ کے صفحوں کو پلٹتے ہیں .
تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے . پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے. دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا. نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی.
دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا.
وقت گزرتا رھا طباعت و اشاعت کا کام جاری رھا۔ پھر برصغیر کی تقسیم ھوئی۔ مسلمان ھندو اور سکھ نقل مکانی کرنے لگے۔ نول کشور جی بھی لاھور سے ترک سکونت کرکے نئی دلی انڈیا چلے گئے۔
ان کے ادارے نے دلی مین بھی حسب سابق قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کا کام شروع کر دیا۔ یہاں بھی قرآن پاک کے احترام کا وھی عالم تھا۔ ادارہ ترقی کا سفر طے کرنے لگا اور کامیابی کی بلندی پر پہنچ گیا۔نول کشور جی بوڑھے ھوگئے اور اب گھر پر آرام کرنے لگے جبکہ ان کے بچوں نے ادارے کا انتظام سنبھال لیا اور ادارے کی روایت کے مطابق قران حکیم کے ادب و احترام کا سلسہ اسی طرح قائم رکھا۔
آخرکار نول کشور جی کا وقت آخر آ گیا اور وہ انتقال کرکے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر ملک کے طول و عرض سے ان کے احباب ان کے ھاں پہنچے۔ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ ان کے کریا کرم میں شریک ھونے کے لئے شمشان گھاٹ پہنچے۔ ان کی ارتھی کو چتا پر رکھا گیا ۔ چتا پر گھی ڈال کر آگ لگائی جانے لگی تو ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ھوا۔ نول کشور جی کی چتا آگ نہیں پکڑ رھی تھی۔چتا پر اور گھی ڈالا گیا پھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بسیار کوشش کے باوجود بے سود۔ یہ ایک ناممکن اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ پہلے کبھی ایسا نہین ھوا تھا۔ لمحوں میں خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ نول کشور جی کی ارتھی کو آگ نہین لگ رھی۔
مخلوق خدا یہ سن کر شمشان گھاٹ کی طرف امڈ پڑی۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے تھے اور حیران و پریشان تھے۔ یہ خبر جب جامع مسجد دلی کے امام بخاری تک پہنچی تو وہ بھی شماشان گھاٹ پہنچے۔ نول کشور جی ان کے بہت قریبی دوست تھے۔
اور وہ ان کے احترام قران کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔ امام صاحب نے پنڈت جی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ سب کی چتا جلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہین ھو پائے گی۔ اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت کی ھے جیسے احترام کیا ھے اس کی وجہ سے اس کی چتا کو آگ لگ ھی نہیں سکے گی چاھے آپ پورے ھندوستان کا تیل گھی چتا پر ڈال دیں۔
اس لئے بہتر ھے کہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ دفنا دیجئیے۔ چنانچہ امام صاحب کی بات پر عمل کرتے ھوئے نول کشور جی کو شمشان گھاٹ میں ھی دفنا دیا گیا۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ھندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ھی دفنا دیا گیا ۔
یہ تحریر لکھتے وقت میرا زھن بہت کچھ سوچ رھا ھے۔ میں سوچ رھا ھوں کہ جن کے لئے یہ عظیم کتاب اتاری گئی ھے وہ اس کو پریس کانفرنسوں میں سر پر رکھ کر اس سے اپنے مخالفین پر الزامات لگانے کا کام لیتے ھیں۔
اس سے بڑھ کر اور توھین کیا ھوگی۔
میں یہ بھی سوچ رھا ھوں دوسرے ممالک کے کچھ غیرمسلم اسلام دشمنی میں اس عظیم کتاب کو نذر آتش کرکے سمجھتے ہیں کہ بہت بڑا کام کر دیا۔
حالانکہ ایسی حرکات سے سوائے نفرت کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ھونے والا ھوتا۔
میں نہیں جانتا اس ھندو کا آخرت میں کیا انجام ھوگا لیکن اتنا جان گیا ھوں کہ دنیا میں اس کو آگ لگانا ناممکن ھوگیا تھا کیا آخرت میں آگ اس کے سامنے بے بس ھو جائے گی؟۔
میں یہ بھی سوچ رھا ھوں ایک ھندو احترام قران میں اس دنیا کی آگ سے محفوظ رھا ھم اس کتاب پر ایمان لانے والے اگر اس کی صحیح قدر کریں گے تو یہ آگ ھمیں جہنم کی آگ سے کیوں نہیں بچائے گی؟۔
ان شااللہ میرا ایمان ھے ضرور بچائے گی۔۔۔۔

اے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ ! ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ؟

اے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ ! ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺩﺭﺳﮕﺎﮨﻮﮞ‘ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺗﯽ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﯽ
ﻣﺮﮐﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﯾﮏ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ھﮯ‘
ﻣﮕﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ‘
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺟﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﮔﺘﯽ‘
ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ:

اے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ !
ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻏﻼﻣﻮ ! ﺳﻨﻮ !
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﻮﮐﮫ ﮔﺌﮯ
ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮈﻭﺏ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﺍﺳﻄﮧ؟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮباﺯﻭ ﺍﺏ ﺷﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﻠﻮﺍﺭیں زنگ آلود‘

ﺍﺏ ﮨﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺁﻗﺎﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺳﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﻏﻼﻡ ﮨﻮ۔
ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﮏ ﮐﯿﺴﺎ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﺎﻻ ﮨﮯ‘

ﮨﻤﺎﺭﺍ لباﺱ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻃﻮﺭ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺮﻓﺨﺮ ﺳﮯ
ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﻌﺼﻮﻡ
ﺑﭽﮯ ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻗﻮﻣﯽ ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺷﻌﺎﺭ ﭨﺎﺋﯽ
ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫﮐﺮ
ﮐﯿﺴﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
ﮨﻢ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﻧﮩﯿﮟ تھے‘ ﮨﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻭﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎ ﭼﮑﮯ تھے‘ ﺍﺏ ﺗﻢ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﮯ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮ‘

اﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﺗﻢ ھﺮﺷﻌﺒﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﻮ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻃﻮﺭ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮨﯿﮟ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ‘
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺳﮑﻮﻟﻮﮞ اﻭﺭ ﮐﺎﻟﺠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﺼﺎﺏ ﮨﮯ‘

تمھاﺭﮮ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﮑﮧ ﮨﮯ‘
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﮨﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﺗﻢ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮﻗﺮﺽﺩﺍﺭ ﮨﻮ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ‘

تمھاﺭﯼ ﻣﻨﮉﯾﺎﮞ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺣﻢ ﻭﮐﺮﻡ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ‘

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮍﺍ ناﺯ ﺗﮭﺎ ‘ ﺗﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ”ﺫﺭﺍ ﻧﻢ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﭩﯽ ﺑﮍﯼ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﮨﮯ ﺳﺎﻗﯽ“
ﺗﻮ ﺳﻨﻮ! ﺍﺱ ﺯﺭ ﺧﯿﺰ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ھﯿﺮﻭﺋﻦ ﺑﮭﺮﮮ ﺳﮕﺮﯾﭧ‘ ﺷﮩﻮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺗﺼﻮﯾﺮﻭﮞ ‘
ﮨﯿﺠﺎﻥ ﺧﯿﺰ ﺯﻧﺎ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺳﮯ ﻟﺒﺮﯾﺰ ﻓﻠﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﮨﻮﺱ زﺭ ﮐﺎ ﺁﺏِ ﺷﻮﺭ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻨﺠﺮ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔

تمھیں اﭘﻨﯽ ﺍﻓﻮﺍﺝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮔﮭﻤﻨﮉ ﺗﮭﺎ‘
ﺍﺏ ﺟﺎﺅ! ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ‘ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ تمھاﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﺭﮨﻢ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ‘
ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻓﻮﺝ ﮐﺸﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ۔

بوﺳﻨﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺍﻕ ﮐﮯ ﺣﺸﺮ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔

ﺟﺎﺅ ! ﺍﺏ ﻋﺎﻓﯿﺖ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻃﺮﺯ ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ‘
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺮﻣﻮ ﺍﻧﺤﺮﺍﻑ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ‘
ﺧﺒﺮ ﺩﺍﺭ ! ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻏﻼﻣﯽ ﺳﮯ نکلنے ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻣﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ھﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ‘
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﮯ ﻣﺤﺮﮐﺎﺕ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﻌﻨﯽ اﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﺨﺘﮕﯽ ‘ ﺟﻮﺵِ ﺟﮩﺎﺩ‘
ﺑﺎﻟﻎ ﻧﻈﺮﯼ ‘ ﻏﯿﺮﺕ ﺩﯾﻦ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺸﻮﺭﻭﮞ‘ ﻣﻔﮑﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﭼﻨﺪ ﺁﺳﺎﺋﺸﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﮯ
ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺩﮮ ﮐﺮ‘
ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ﻭ ﺁﺭﺍﺋﺶ ﺣﺴﻦ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ اﺗﺮ ﻭﺍﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﻋﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻓﺤﺶ ﻓﻠﻤﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮕﯽ ﮐﯽ ﺟﮍ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﻟﺪ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﻃﺎﺭﻕ‘
ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﭙﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ھﻮﺳﮑﺘﺎ۔

اﻭﺭ ﺳﻨﻮ ! ﮨﻢ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ‘
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ‘
ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻋﻠﻤﺄ ﮐﮯ‘ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭﻣﺪﺭﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﮑﻔﯿﺮ ﮐﺮﮐﮯﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮍ ﻟﮍ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﮩﺬﯾﺐ ﻭﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺸﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﮑﺮﻭﮞ ﻧﮯ ترﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺤﺪ اﻭﺭ ﺯﻧﺪﯾﻖ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻓﻠﺴﻔﮯ ﮐﯽ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﮐﯽ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮔﺎﮨﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺼﺎﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ
ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻭﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻃﺮﯾﻘﮯ
ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﭘﺮ ﺍﮐﺴﺎﯾﺎ‘
تمھارے ﺻﺎﺣﺒﺎﻥ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻭﺳﺎﺋﻞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺀ‘ ﺑﮯﻏﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺩﯾﻦ‘ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ‘

ھﻢ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﮨﯿﮟ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺬﮨﺐ ﻧﮯ
ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯾﺎﮞ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ‘ ﯾﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﻭﮦ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ‘ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﭘﺮ تنگ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ رﺍﺳﺘﮧ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﺍﻡ ﺣﻼﻝ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ آﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ

اے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ ! ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻏﻼﻣﻮ !
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ  ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

(ﻣﺄﺧﻮﺫ: ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﺤﺪﺍﻧﮧ
ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﺎ ﻧفﻮﺫ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ)

اہل سنت کی شیرازہ بندی

اہل سنت کی شیرازہ بندی ـــــ مسائل اور امکانات
از:مولانا محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ،یوپی
                        .................................................  
       آج جب ہم اہل سنت کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان میں بنیادی فکری و اعتقادی اتحاد کے باوجود عالمی یا ملکی یا صوبائی یا  ضلعی سطح پر عملاً کوئی باضابطہ ارتباط نظر نہیں آتا۔یوں اپنی نجی ضروریات اور وقتی کاموں کے لیے لوگ آپس میں رابطہ ضرور رکھتے ہیں مگر جماعتی و اجتماعی انداز میں کوئی باقاعدہ تنظیم کسی میدان میں نہیں۔  نہ کوئی دعوتی  و اصلاحی مرکز ہے جس پر سب متفق ہوں، نہ کوئی روحانی قیادت ہے جو سب کا مرجع اور سب پر اثر انداز ہو، نہ کوئی تعلیمی  و تربیتی ادارہ ہے  جس میں سب کے لیے کشش ہو  اور جس کی پیشوائی  سب کو قبول ہو ، نہ کوئی  علمی تحقیقی تصنیفی انجمن ہے جسے قبول عام حاصل ہو ، نہ دوسرے سماجی رفاہی قومی میدانوں میں کام کی کوئی اجتماعی ہیٔت ہے جو قابل ذکر ہو۔ اور سیاسی میدان تو بالکل خالی ہے ، اس میں نہ ہماری کوئی نمائندگی ہے، نہ قومی و ملکی سطح پر ہمارا کوئی نام و نشان ۔یہ پورا وسیع  و عریض میدان غیروں کے لیے محفوظ ہے۔
اس سے انکار نہیں کہ  انفرادی طور پر جماعت میں بہت سارا کام ہورہاہے  اور اسی کی بدولت جماعت کا کارواں کسی طرح    رواں دواں  ہے لیکن اجتماعیت اور تنظیم کی شان ہی الگ ہے اور اس کے ثمرات وبرکات ہمہ گیر اور پائدار ہیں۔
مسائل: اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت وجماعت جن کا وجود عہد رسالت سے آج تک پورے تسلسل کے ساتھ  چلاآرہاہے، یہی ہمیشہ  بیرونی واندرونی سازشوں کا نشانہ بنے۔     خارجی طاقتوں کا نشانہ بھی یہی رہے اور داخلی فتنوں کا شکار بھی یہی ہوئے ۔ خلافت راشدہ کے دور اخیر میں خوارج کا گروہ ہمارے ہی درمیان سے نکلا اور خود مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہوا، اس کے بعد بھی ہر دور میں ایک تسلسل کے ساتھ فتنے اٹھتے، فرقے بنتے اور باطل مذاہب بڑھتے رہے۔  اہل سنت کی تعداد گھٹتی رہی ، اہل حق کو اکثر ادوار میں بیرونی دشمنوں سے بھی مقابلہ کرنا پڑا اور عوام کو داخلی فتنوں سے بچانے کے لیے بھی سرگرم رہنا پڑا۔ ان کی دردمندی ، مخلصانہ سرگرمی اور ہمہ جہت مساعی کا نتیجہ یہ ہوا کہ  بہت سے فرقوں کا خاتمہ ہوگیا اور آج ان کی طرف  اپنے کو منسوب کرنے والا کوئی نہ رہا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے اٹھائے ہوے کچھ خیالات بعد کے نئے فرقوں میں در آئے  اور ان کے اثرات آج بھی باقی ہیں مگر قدیم علماے حق اور ان کے معاونین  سے جو کچھ ہوسکتا تھا اس میں انھوں نے کوئی کسر روا                             نہ رکھی۔
اب اہل سنت پر جن فرقوں کا حملہ زیادہ شدت سے ہورہا ہے  وہ تقریباً دوسوسال پہلے کی پیداوار ہیں، یہ اہل سنت ہی کے درمیان سے نکلے اور ایک نیا مذہب بنا کر  اہل سنت کو صراط مستقیم سے ہٹانے  اور نئے جال میں پھنسانے کی مہم تیزی سے شروع کردی۔ اس کے لیے انھوں نے مختلف حربے استعمال کیے:
۱-کتابیں لکھیں  جن میں اہل سنت کے عقائد  و معمولات کو شرک قراردیا۔
۲-اجتماعات اور جلسے کرکے  لوگوں کا ذہن مسموم کرنے کی کوشش کی۔
۳-لوگوں سے مکانوں ، دکانوں پر ملاقات کرکے انھیں اپنی طرف مائل کیا۔
۴-اہل سنت کے درمیان اپنے مکاتب ومدارس قائم کرکے تعلیم و تربیت کے نام پر ہماری نسل کو قریب کیا  پھر اسے اپنا ہم عقیدہ اور اپنے مذہب کا داعی ومبلغ بنادیا اسی طرح اہل سنت کے درمیان  مسجدیں بنائیں  یا ان  کی مسجدوں پر قبضہ کیا پھر نمازیوں کو اپنا ہم عقیدہ بنالیا۔
۵-اسکول اور کالج قائم کرکے عصری تعلیم کا شوق دلایا پھر طلبہ کے ذہن میں اپنا عقیدہ اور مذہب بھی اتار دیا۔
۶- کلمہ ونماز کی تبلیغ کے نام پر ایک جماعت قائم کی اور اس کے ذریعے  اہل سنت کے بےشمار افراد اور چھوٹی بڑی بہت سی آبادیوں کو  اپنا ہم نوا بنالیا۔
۷-ان کے علاوہ تحقیق و تصنیف، سیاسی وسماجی نقل و حرکت اور دوسرے ہر قسم کے ذرائع سے لوگوں کو پہلے اپنا مداح  و معتقد پھر اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کی۔
ان حرکتوں سے نقصان صرف اہل سنت کو پہنچا، انہی کی تعداد گھٹی ، انہی کے افراد اہل باطل کا نشانہ بنے اور وہی طرح طرح کی سازشوں کا شکار ہوئے۔ اور یہ سلسلہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔
اب اہل سنت کے سامنے دو چیلنج ہیں (۱) اپنے ٹوٹے ہوئے افراد کو پھر جوڑنا (۲) دیگر افراد کو شکار ہونے سے بچانا
اس کے لیے ضروری ہے کہ دشمن کے پاس جتنے اسلحے اورہتھیار ہیں ان سے زیادہ ہتھیار اور ان سے قوی اسلحےہمارے پاس ہوں ،ان کے اندر جو سرگرمی اور مستعد ی ہے  اس سے زیادہ ہمارے اندر ہو۔
اس کے لیے باہمی اختلاف و انتشار سے دوری اور تحفظ عقائد و فروغ مسلک کے لیے اجتماعیت اور شیرازہ بندی کس قدر ضروری ہے، یہ اہل دانش کے لیے محتاج بیان نہیں۔
امکانات: پیشوایان اہل سنت اور درد مندان ملت اگر دل وجان سے متوجہ ہوں تو اسباب و وسائل کی فراہمی ہمارے لیے بھی ممکن ہے اور ایسا ہوسکتا ہے کہ کام کو مختلف حصوں اور شعبوں میں تقسیم کرکے ہر شعبے کے لیے لائق اور فعال افراد پر مشتمل مجلسیں یا بورڈ  بنادیے جائیں تاکہ کام آسانی سے ہوسکے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ تین چار یا چار پانچ افراد پر مشتمل ایک تھنک ٹینک یا مجلس اعلیٰ ہو جو پوری بالغ نظری کے ساتھ تمام امور کے لیے  منصوبہ سازی، مجالس سازی، اصول سازی اور تنفیذ وترویج کی ذمہ دار ہو۔ اسی طرح مشکلات اور رکاوٹوں پر غور کرنے  اور انھیں دور کرنے پر بھی اس کی نظر ہو۔
یہ کام ممکن ہونے کے ساتھ مشکل ضرور ہے۔ وقت اور سرمایے کی بڑی قربانی چاہتا ہے۔ اتنے بڑے ملک میں  پھیلے ہوئے اہل سنت کی شیرازہ بندی اور ہر خطے کے لوگوں کو  متحرک وفعال بنانا اور  شاطرانہ حملوں کے دفاع کے لیے بیدار وتیار رکھنا کوئی ایسا کام نہیں  جو چند دنوں یا ہفتوں کی محنت میں انجام پذیر ہوجائے۔ مہینوں بلکہ برسوں کی مدت درکار ہے۔
ہوسکتا ہے کہ پہلے ہرعلاقے کا دورہ کرکے وہاں کے حالات اور ضروریات کا جائزہ لیاجائے، قابل عمل اور لائق اعتماد افراد تلاش کیے جائیں، پھر جہاں مکتب ، مسجد، مدرسہ ، اسکول ، کالج، شفاخانہ وغیرہ قائم کرنے کی ضرورت ہو ان کا قیام عمل میں لایا جائے  اور طے شدہ خطوط پر ان کاانتظام معتمد افراد کے سپرد کیا جائے۔ اور  جہاں پہلے سے ادارے قائم ہیں انھیں بھی تنظیم سے منسلک کرنے کی کوشش کی جائے اور انھیں زیادہ فعال اور کارآمد بنایا جائے۔
اس طرح ہر جگہ کے حالات سے واقفیت بھی بہم ہوگی اور ہر علاقے کے نمائندے مجلس اعلیٰ کے ماتحت مجلس منتظمہ یا مجلس شوریٰ میں شامل ہوں گے اور برابر ان سے رابطہ رہ سکے گا۔
بہت بڑی مرکزی عمارت اور بہت سے آفسوں اور ورکروں کی بھی ضرورت ہوگی جو ہرعلاقے کے حالات جاننے ، ان کی رپورٹ پیش کرنے اور عام ضروریات کے لیے اپنے متعلقہ مقامات کا  دورہ کرنے کے ذمہ دار ہوں۔
ساری تفصیلات تھنک ٹینک یا مجلس اعلیٰ طے کرسکتی ہے۔ اگر ملک گیر پیمانے پر آغاز مشکل ہو تو  جس حد تک بآسانی ابتدا ہوسکے اسی حد پر کام شروع کیا جائے۔  اسی طرح جو کام انفرادی طور پر  یا کسی مجلس اور بورڈ کی ماتحتی میں ہورہے ہیں  انہی کو تقویت دی جائے اور جو میدان بالکل خالی ہے اس پر خاص توجہ صرف کی جائے۔
سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ پیش قدمی  کس طرح سے ہو ؟ کہاں سے ہو؟         اور کون کرے؟           بہر حال یہ اقدام ایک یا چند حساس، دردمند ، مخلص اور توانا قلب وجگر کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ مگر قوم کےخسارے سے صرفِ نظر کسی طرح روا نہیں ۔اقدام ہونا چاہیے اور ضرور ہونا چاہیے۔واللہ الموفق والمعین۔
اندیشے:  اگر سارے اکابر اور پیشوایان قوم اس میں دل چسپی نہیں لیتے تو جو درد مند اور حساس حضرات ہیں وہی پیش قدمی کرکے کام شروع کریں  اور آگے بڑھائیں باقی حضرات سے گزارش کی جائے  کہ اگر حمایت اور مشارکت نہیں کرسکتے تو مخالفت اور رکاوٹ سے بھی باز رہیں    ورنہ احکم الحاکمین کے حضور اہل سنت کے عظیم خساروں کا حساب دینے کے لیے تیار رہیں۔
اگر جماعت کی اکثریت خصوصاً اہل علم و دانش اور اہل ثروت میں یہ احساس بیدار ہوجاتا ہے کہ ہم مسلسل خساروں سے دوچار ہیں اور تلافی کے لیے میدان عمل میں جان ودل ،ہوش وخرد، اور زبان و عمل  کے ساتھ  سرگرم ہونا ضروری ہے  تو کام کی راہیں کھل سکتی ہیں  ورنہ غفلت وبے حسی کے ماحول میں کام یابی کی توقع فضول ہے۔  مگر میرا                        اندازہ ہے کہ اکثریت حساس اور بیدار ہونے کے ساتھ کسی پیش قدمی کی منتظر ہے۔                 رب تعالیٰ ہمارا حسنِ ظن راست فرمائے اور سب کو حسب درجہ ومقام اور حسب ہمت وصلاحیت توفیق عطاء فرمائے ۔
     محمد احمد مصباحی
مرتب:  اختر حسین فیضی مصباحی

Sunday, July 28, 2019

जौहर यूनिवर्सिटी फिरका़ परस्तों के निशाने पर

जौहर यूनिवर्सिटी फिरका़ परस्तों के निशाने पर

*आज़म खा़न के बहाने यूनिवर्सिटी को खत्म करने की साजिश*
रामपुर में स्थित महान स्वतंत्रता सेनानी मौलाना मोहम्मद अली जौहर के नाम से मंसूब *"मोहम्मद अली यूनिवर्सिटी"* देश की पहली यूनिवर्सिटी है जो अपनी शिक्षा और इमारतों की बजाए अपने खिलाफ होने वाले मुकदमों से पहचानी जा रही है। जिस वक्त आज़म खा़न ने विधानसभा में इस यूनिवर्सिटी का प्रस्ताव पेश किया था तो राजनीतिक जगत में भूचाल आ गया था क्योंकि आजाद हिंदुस्तान में पहली बार इतना बड़ा शैक्षणिक संस्थान बनाने का ऐलान हुआ था।
*इसलिए जो ताकतें मुसलमानों को सिर्फ बढ़ई, मैकेनिक और रंग पेंटर देखना चाहती थीं उन्हें कब गवारा हो सकता था कि मुसलमान आला तालीम हासिल कर सकें। बस उसी वक्त से यूनिवर्सिटी उनकी निगाहों का कांटा बन गई और साजिशों का दौर शुरू हो गया।*
उस वक्त केंद्र की कांग्रेस सरकार ने लंबे वक्त तक यूनिवर्सिटी के बिल को लटकाए रखा।
मंजूरी भी दी तो "मौलाना" को हटाकर। (जब के गैर मुस्लिम शख्सियतों की उपाधि को उनके नामों के साथ इस्तेमाल किए जाने का पूरे भारत भर में रिवाज है, जैसे संत रविदास ,संत कबीर नगर,महात्मा ज्योतिबाफुले यूनिवर्सिटी आदि,क्या कांग्रेस को मालूम नहीं था कि मोहम्मद अली जोहर एक "मौलाना" थे?
सबको मालूम था मगर बात वही है जो हम सब समझ रहे हैं !!
वह तो भला हो यूपी के गवर्नर जनाबअजी़ज़ कुरैशी का, जिन्होंने शिक्षा प्रेमी होने का सुबूत  देते हुए सिर्फ 1 हफ्ते के अंदर पेंडिंग में पड़ी हुई सारी आपत्तियां निपटा कर यूनिवर्सिटी का रास्ता प्रशस्त किया। हालांकि उन्हें अपने इस काम के लिए खा़मियाजा़ भी भुगतना पड़ा और कांग्रेस सरकार ने उन्हें जल्द ही गवर्नरी से हटा दिया।
2014 में केंद्रीय सरकार भले ही बदल गई लेकिन यूनिवर्सिटी मुखा़लफत का जज्बा वही रहा।रह-रहकर यूनिवर्सिटी पर अलग-अलग बहानों से हमले किए जाते रहे लेकिन 2019 के संसदीय चुनावों के बाद फिरका़ परस्त ताकतों ने यूनिवर्सिटी के चांसलर आज़म खा़न के बहाने यूनिवर्सिटी के खिलाफ मोर्चा खोल दिया जिसमें जाने अनजाने कुछ मुस्लिम लीडरान भी फिरका परस्तों की साजिश का शिकार हो रहे हैं।
*साजिशों का जाल*
  • 12 जुलाई को आज़म खा़न के खिलाफ जमीन हड़पने का पहला मुकदमा दर्ज हुआ।
  • 17 जुलाई को एक ही दिन में आजम खान पर 8 मुकदमे दर्ज किए गए।
  • सिर्फ 1 सप्ताह में आजम खान के खिलाफ 26 मुकदमे दर्ज किए गए। मुकदमा दर्ज कराने वाले सभी किसान आलिया गंज के रहने वाले हैं।
  •  इससे पहले जिला प्रशासन कोसी नदी के किनारे की 5 हेक्टेयर जमीन को नाजायज हड़पने का मुकदमा दर्जकराया।
  • इस तरह 1 हफ्ते में आज़म खा़न के खिलाफ 27 मुकदमे दर्ज किए गए।
  •  18 जुलाई को आजम खान को जिला प्रशासन ने भूमाफिया घोषित कर एंटी भू माफिया पोर्टल पर सूचीबद्ध किया
  •  25 जुलाई एसडीएम कोर्ट यूनिवर्सिटी का मुख्य गेट तोड़ने का ऑर्डर जारी किया और यूनिवर्सिटी पर 3 करोड़ 27 लाख का जुर्माना लगाया।
  •  इससे कुछ माह पूर्व रामपुर से स्वार जाने वाले रोड पर बने हुए "उर्दू गेट" को जिला प्रशासन ने ढा दिया था।
  •  भू माफिया घोषित किए जाने के बाद प्रवर्तन निदेशालय ने रामपुर पुलिस से तमाम मुकदमों की तफसील मांगी है ताके आजम के खिलाफ मनी लांड्रिंग के केसों की जांच की जा सके।
  • संसदीय चुनाव में आज़म के खिलाफ 15 मुकदमे दर्ज किऐ गए।
  • कुल मिलाकर अब तक आज़म खा़न के खिलाफ 62 मुकदमे दर्ज किए जा चुके हैं।
मुकदमात के ब्यौरों और तेजी़ को देखते हुए एक आम इंसान भी कह सकता है कि यहां "कानून के पालन" से ज्यादा "किसी को शिकंजे में कसने की जल्दी ज़्यादा है"!!
वरना देश के हजारों करोड़ों रुपए लूटकर देश छोड़ने वाले विजय माल्या और नीरव मोदी के खिलाफ कोई कानूनी एक्शन क्यों नहीं लिया गया??
इन सारी जमीनों को खरीदे हुए 10 साल से ज्यादा का समय गुजर गया लेकिन कभी कोई शिकायत नहीं हुई। मगर हाल ही में समाप्त हुए संसदीय चुनावों में सत्ता पक्ष की एक हाईप्रोफाइल लीडर को हराने और पार्लियामेंट में मुस्लिम मसाइल पर खुलकर बोलने के बाद से ही अचानक ही सारे "पीड़ितों" को आगे बढ़ा दिया गया !!! आखिर इन किसानों को वरग़लाने वाले कौन हैं??

आज़म खा़न और उनकी पार्टी 2017 के शुरू ही से सत्ता से बाहर है अगर इन "पीड़ितों" को फरियाद करना थी तो उस वक्त क्यों नहीं की?
पिछले सवा 2 साल के (मार्च 2017 से जून 2019) के बीच में यह लोग कहां गायब थे?
और अचानक इसी जुलाई में सब के सब कैसे जाग गए??
*मुस्लिम लीडरान और अवाम से गुजारिश*
  • आज़म खा़न से आपके लाख राजनीतिक मतभेद हों, मगर जौहर यूनिवर्सिटी उनकी निजी संपत्ति नहीं बल्कि अवाम का सरमाया है आपके किसी कार्य से यूनिवर्सिटी पर आंच ना आने पाए।
  • जिन लोगों ने मुक़दमात किऐ है,अगर वाकई उनकी ज़मीनें कम कीमत में खरीदी गई हैं तो वह सभी ये सोच कर मुकदमा वापस ले लें कि हमारे पूर्वज तालीम के लिए बड़ी-बड़ी जमीनें वक्फ करते आए हैं।
  • आज़म खान जा़ती तौर पर चाहे जैसे हो उनके कुछ राजनीतिक फैसले भले ही विवादित हो लेकिन उन्होंने जौहर यूनिवर्सिटी जैसी तालीम गाह बना कर जो काम किया है आज़ादी के बाद इतने बड़े लेवल पर कोई मुस्लिम यूनिवर्सिटी नहीं बनाई गई इस स्तर पर बनने वाली यह पहली मुस्लिम यूनिवर्सिटी है। यह कौ़म के लिए है और इसकी हिफाजत भी कौ़म की जिम्मेदारी है।
  • यूनिवर्सिटी में सिर्फ आज़म खा़न और उनके परिवार के ही नहीं बल्कि सारी कौ़म के बच्चे तालीम हासिल कर रहे हैं ऐसी तालीम गाहें कौम के उज्जवल भविष्य का निर्माण करती हैं।
  • जौहर यूनिवर्सिटी का नुक़सान कौ़म के हर इंसान का जा़ती नुक़सान है।
  • मुमकिन है आज़म खा़न के जा़ती अमल या राजनीतिक फैसलों से किसी को नुक़सान पहुंचा हो और आज वह लोग आज़म खा़न के खिलाफ कार्यवाही करके हो सकता है आज़म खा़न को नुक़सान पहुंचा दें,मगर फिरका़ परस्त ताक़तें सिर्फ आज़म खा़न को नुकसान पहुंचाकर नहीं रुकेगीं बल्कि आज़म खा़न की आड़ में यूनिवर्सिटी को खत्म करने की साजिशें करेंगी !!
एक व्यक्ति का नुकसान एक व्यक्ति का होता है मगर यूनिवर्सिटी जैसे संस्थान का नुक़सान पूरी कौ़म का नुक़सान होगा !!!
*अच्छी तरह याद रखें आज़म खा़न सिर्फ एक बहाना है कौ़मे मुस्लिम और यूनिवर्सिटी असली निशाना है।अगर यूनिवर्सिटी को नुकसान पहुंचा तो आने वाली नस्लें हमें कभी माफ नहीं कर पाएंगी*
By: Ghulam Mustafa Naimi
Editor sawad e Azam Delhi
29/7/2019

شوشل ميڈیا پر عدم برداشت کا بڑھتا رجحان

شوشل ميڈیا پر عدم برداشت کا بڑھتا رجحان کی وجہ کو یوں کہہ لیں کہ: "اب شوشل میڈیا پہ ہی بتائیں گے فرصت کے رات دن" کا بڑھتا رجحان ہے۔۔ اس سمندر میں ردعمل کے طوفان بلاخیز کا کوئی منکر نہیں۔ اس لیے اس سے بچنے کی بہتر ترکیب یہ ہے کہ خود کو منفی اثرات کو بڑھاوا دینے والے صفحات اور پیجیز سے دور رکھا جائے۔خود کو شوشل میڈیا پہ مثقف اور ذمہ دار لوگوں کے بیج بنائے رکھیں۔حتی الامکان کسی بھی پوسٹ پہ رد عمل کا اظہار یا تو نہ کریں یا اس میں کوئی مثبت پہلو تلاش کریں۔۔زیادہ سے زیادہ دینی و علمی پیجیز لائک کریں خاص طور پہ جام نور یا ان جیسے صفحات سے لوگوں کو جوڑیں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ میرے دو فیس بک پیج میں سے ایک جو ماہانہ کھلتا ہے جس پہ پورا ہندستان مجھ سے جڑا ہے یقین مانیں پورے ایک ماہ مضطرب رہنے کے مواد وہاں ہمہ وقت میسر ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسرا پیج جو صرف عربی داں اور اہل عرب کے لیے مخصوص ہے جوہمہ وقت شغال رہتا ہے سالوں بیت گئے اب تک کوئی مواد قابل خلل اور منفی نہین دکھا۔ہمہ وقت ہنسنے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔لوگ ایک دوسرے کو ہمیشہ خوش رکھنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ المختصر یہ کہ اس کا صحیح استعمال یہ خود اپ پہ منحصر ہے۔
محمد نورالدین
دراسات علیا جامعہ ازہر قاہرہ

عزل کا حکم

عزل کا حکم
سوال:
اگر ہمبستری کرتے وقت منی کو عورت کے شرمگاہ کے  باہر نکالنا  جائز ہے یا عورت کے شرمگاہ کے  اندر  نکالنا جائز ہے  یا ناجائز ہے  حوالہ کے ساتھ جواب  دیا جاے  قرآن و حدیث سے  حوالہ دیں.
المستفتي: سرفراز عالم رضوي
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب
ہمبستری کے وقت شوہر اگر باہر انزال کرنا چاہتا ہے تو بیوی کی اجازت سے جائز ہے، بلااجازتِ زوجہ ایسا کرنا مکروہ ہے.
چنانچہ مسلم شریف میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:
«ﻛﻨﺎ ﻧﻌﺰﻝ ﻋﻠﻰ ﻋﻬﺪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﺒﻠﻎ ﺫﻟﻚ ﻧﺒﻲ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻠﻢ ﻳﻨﻬﻨﺎ»
ہم دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ و سلم میں عزل کرتے تھے؛ پس یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو حضور علیہ السلام نے ہم کو منع نہ فرمایا.
(صحيح مسلم، باب حكم العزل، رقم الحدیث:١٤٤٠، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
" انزال کے وقت عورت سے علیحدہ ہوجانا اور باہر منی نکالنا، تاکہ حمل قائم نہ ہو لونڈی میں تو بہرحال جائز ہے اور اپنی آزاد منکوحہ عورت میں بیوی کی اجازت سے جائز ہے بلااجازت مکروہ ہے؛ یہ ہی عام علماء و عام صحابہ کا مذہب ہے."
(مرأة المناجيح، ج 5، ص 71، قادری پبلشرز، لاہور)
علامہ فخر الدین زیلعی الحنفی علیہ الرحمہ (المتوفی 743ھ) فرماتے ہیں:
"اﻟﻌﺰﻝ ﻟﻴﺲ ﺑﻤﻜﺮﻭﻩ ﺑﺮﺿﺎ اﻣﺮﺃﺗﻪ اﻟﺤﺮﺓ."
یعنی آزاد عورت کی رضامندی سے عزل کرنا مکروہ نہیں ہے.
(تبيين الحقائق، باب نكاح الرقيق، ج ٢، ص ١٦٦، المكتبة الكبرى، قاهرة)
علامہ زین الدین ابن نجیم مصری الحنفی علیہ الرحمہ (المتوفی 970ھ) عزل کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
"ﺃﻥ اﻟﻌﺰﻝ ﺟﺎﺋﺰ ﺑﺎﻹﺫﻥ ﻭﻫﺬا ﻫﻮ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء."
ترجمہ: بیوی کی اجازت سے عزل کرنا جائز ہے اور جمہور علماء کے نزدیک یہی صحیح ہے.
(البحر الرائق، باب نكاح الرقيق، ج ٣، ص ٢١٤، دار الكتاب الإسلامي)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ (المتوفی 1367ھ) فرماتے ہیں:
"وطی کرنے میں اگر انزال باہر کرنا چاہتا ہے تو اس میں اجازت کی ضرورت ہے، اگر عورت حرہ یا مکاتبہ ہے تو خود اسکی اجازت سے اور کنیز بالغہ ہے تو مولی کی اجازت سے. "
(بہار شریعت، ج 2، ص 88 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
والله اعلم بالصواب
كتبه:
شمشیرِرضا
اخلاق احمد العطاری کامروی

لڑکیوں کے لیے ایک عبرت

ایک بیٹی اپنی خالہ کے ساتھ میرے پاس آئی ، اس نے رو رو کے بُرا حال کیا ہوا تھا ۔
میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگی:
ایک لڑکے نے مجھے propose کیاتھا ، میں نے اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دی ، لیکن اب اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے ۔
کہتا ہے: تم ٹھیک نہیں ہو ، تمھارے کسی اور کے ساتھ بھی تعلقات ہیں ۔
جب کہ میں قسم کھاتی ہوں ، میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں!
آپ مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ وہ میرے ساتھ شادی کرلے ، مجھے اس طرح راستے میں نہ چھوڑے ۔
میں نے چاہا اس بیٹی کو تعویذ کے بجائے مشورہ دوں ، لیکن اس کی غمگین  حالت دیکھ کر خاموش ہوگیا ۔
اگر میں اسے مشورہ دیتا تو وہ یہ ہوتا:
” آج کل لڑکے عموماً وقت گُزاری کے لیے دوستی کاڈھونگ رچاتے ہیں ، اور محبت کے نام پر لڑکیوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔
جب جی بھر جاتا ہے تو الزام لگاکے ، بہانے بنا کے ، جھگڑا کرکے چھوڑ جاتے ہیں ۔
اس رویے سے ان کا نقصان ہو نہ ہو ، لڑکیوں کے لیے وقتی آزمائش ضرور بن جاتی ہے ۔
ایسے مطلبی لوگ جب ساتھ چھوڑ جائیں تو رونے دھونے کے بجائے شکرانے کے دو نفل ادا  کرکے ، خوشی منانی چاہیے ؛ اور آئندہ ان کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے ۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سلسلے میں مزید چند گزارشات ہیں:
1: کسی غیر محرم سے ہر گز دوستی نہ کریں ، چاہے وہ کتنے ہی لالچ دے ، کیسے ہی سٹائل بنائے ، اور کتنے ہی ڈائیلاگ مارے ۔
آپ کے رب نے ، آپ کو جس چیز سے منع فرمادیا ، اس میں کبھی خیر نہیں ہوسکتی ۔
2: اپنی قدر پہچانیں! آپ کو دین اسلام نے شہزادیوں سے بڑھ کر مقام دیا ہے ۔
کسی غیر محرم کو اتنی بھی اجازت نہیں کہ بے حجاب آپ کو دیکھ سکے ، توآپ اس سے باتیں کر کے اپنی قدر کیوں گھٹاتی ہیں ۔
3: اگر آپ کے دل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کے متعلق جذبات پیدا ہوجائیں ، تو اُن کے پروان چڑھنے سے پہلے بلا جھجک گھر والوں ( ماں ، باپ ، بھائی یا بہن وغیرہ ) سے بات کریں ۔
یہ بالکل نہ سوچیں کہ وہ کیا کہیں گے ؛ وہ اس وقت جو بھی کہیں گے ، آپ کے لیے قابل برداشت اور قابلِ عمل ہوگا ؛ لیکن حد سے گزر جانے کے بعد انھیں معلوم ہوا تو پھر ان کا کچھ کہنا ، آپ کے لیے آزمائش بن جائے گا ۔
4: محبت بہت پاکیزہ جذبہ ہے ، یہ ہمیشہ پاکیزہ لوگوں کے لیے ہی پیدا ہونا چاہیے ؛ گندے اور  مطلبی لوگ اس کے حق دار نہیں ۔
بیٹی کی سب سے پہلی محبت اس کا باپ ہوتا ہے ، اپنی پہلی محبت کو کسی پر بھی قربان نہ ہونے دیں ۔
جس باپ نے ہمیشہ آپ سے وفا کی ، آپ کی خاطر تن من دھن ، چین سکون ، سب کچھ قربان کیا ، اس سے آپ بھی وفا کریں ؛ اس کی سفید چادر کو داغ دار نہ ہونے دیں ۔
وہ ہمیشہ کی طرح  آپ کے مستقبل کا فیصلہ بھی  آپ سے بہتر کرے گا ، اس پرپورا یقین رکھیں ۔
اللہ پاک ہر بہن اور بیٹی کو برے لوگوں سے محفوظ رکھے ، اور والدین کی اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطافرمائے!!
لقمان شاہد

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...