لڑکے نے کہا "دیکھا دادا جان! یہ بے سود ہے۔۔۔!"
Islamic Culture is a platform of interpersonal intelligence. Valuable articles, scientific research and valuable words for great researchers, multilingual writers and thinkers. A collection of articles on humanity and socialism, and how Islam leads towards peace and satisfaction.
Saturday, July 27, 2019
تلاوت کلامِ الہیٰ کا فائدہ
لڑکے نے کہا "دیکھا دادا جان! یہ بے سود ہے۔۔۔!"
بچوں کے کردار سازی کے لیے رہنما اصول
❶ - *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
☄ *آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے* بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں۔
اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے. جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.
☄ *ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.*
〰☄〰〰☄〰〰
❺ - ⚡ *ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں* تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی گہری نیند سوئے.
*یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے. اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.*
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.
〰☄〰〰☄〰〰
❾-☄ *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں.*
*_حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
*ان دو پوسچرز میں لیٹنےسے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.*
✨✨✨✨✨✨
❷❶☄- *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں. اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں*
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
☄ *اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے*۔
〰☄〰〰☄〰〰
❼❶- *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں.*
*ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے* .
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں. ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بےباکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے.
✨✨✨✨✨✨✨
❽❶-⚡*تیرہ چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں* یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں. کہ کس طرح *حضرت یوسف علیہ السلام* نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں *اللّہ تعالی*ٰ کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالیٰ*اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے.
〰☄〰〰☄〰〰
☄ *_آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں حرام سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *ان شاءاللّہ تعالیٰ*آخرت میں *اللّہ سبحان وتعالیٰ*کے عرش کے سائے تلے حلال سے افطاری کریں گے._
☄ *اللّہ تعالیٰ*امت _مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے *آمین!
اولاد کی اصلاح کا ایک نرالہ انداز
’’مجھے جب نوافل کی ادائیگی میں سستی اور کاہلی ہونے لگتی ہے تو مجھے میرے بیٹے اور دنیا کی پریشانیاں یادآتی ہیں کہ کہیں نوافل کی ادائیگی میں میری سستی اور کاہلی میری اولاد کی پریشانیوں کا سبب نہ بن جائے۔''
اپنی اولاد کو خوش حال زندگی اور دنیا کی پریشانیوں سے نجات دلانے کا ایک اہم ذریعہ ہماری صالحیت اور نیک بختی ہے ۔ہرشخص کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد نیک اور فرماں بردار ہو لیکن صرف خواہش سے کچھ نہیں ہوتا اس کے لئے خود بھی نیک اور صالح بننے کی ضرورت ہے۔
*" اني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي."* ( نماز پڑھتے ہوئے جب مجھے اپنے بچے یاد آتے ہیں تو نماز لمبی کر دیتا ہوں۔ )
*سورہ کہف* کے میں مذکور واقعے سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ باپ اگر نیک ہو تو اس کا فائدہ اس کی اولاد کو بھی ہوتا ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد نیک صالح اور آپ کی فرماں بردار ہو؟
تو پھر اپنے آپ کو صالح اور نیک بنایے اور اپنی زندگی کا ایک حصہ فلاحی کاموں میں لگایے؛ اس لئے کہ *ارشاد نبویﷺ* کے مطابق اللہ بھی اس بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتا ہے۔..
نئی شادیاں
نا جانے آپ کی عزت کو کیسے گوارہ کر جاتی ہے یہ بات کہ ایک غیر مرد آپ کی نئی نویلی دلہن کو آپ سے پہلے دیکھے اور مختلف سٹائلوں اس کا فوٹو سیشن کرے ؟؟؟
اب تو ایسے رنج و غم کا وقت ہے کہ کس کس چیز کو رویا جائے؟؟ دلہا میاں خود مووی میکر‘ فوٹو گرافر کو گائیڈ لائن دے رہا ہوتا ہے یہ میری بہن ہے‘ میری کزن‘ میری خالہ اور یہ دلہن کی بہن‘ اماں‘ خالہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور ساتھ ہی اسے سختی سے کہتا ہے کہ سب لیڈیز کی تصویر ٹھیک سے بنانا،،،
نظم مولوی کی فریاد
*وہ ہے مکتبوں میں پڑھانے سے بہتر*
*سمجھ تے ہیں خود کو منسٹر سے بڑھ کر*
*ہے ان کی نظر میں غلاموں سے بدتر*
*معلم کی تنخواہ ہو کم سے کم تر*
*ہو مضمون بچوں کا ہر ایک ازبر*
*علیگڑھ میں داخل ہو یا جامع ازہر*
*کرے جی حضوری وہ ہر روز جھک کر*
*معلم گدائی کرےجاکے در در*
*یہی حال پایا مدرسوں کا اکثر*
*سنائیں مری نظم جلسوں کے اندر*
مودی جی کا پہلا چرن
ہم کو اب تک نوٹ بندی کا زمانہ یاد ہے
بینک کے باہر وہ سب کا دھوپ کھانا یاد ہے
تیرا ملکوں ملکوں جانا اور آنا یاد ہے
نوجوانوں کو ترا سپنے دکھانا یاد ہے
لاکھوں اربوں کا وہ گھوٹالہ کرانا یاد ہے
مہنگی کرکے وہ ترا سب کو رلانا یاد ہے
تیری سازش تیرا طورِ مجرمانہ یاد ہے
گئو کشی کی آڑ میں دنگے کرانا یاد ہے
ہم کو اب تک چہرہ تیرا وحشیانہ یاد ہے
مسلموں پر ہر سو تیرا ظلم ڈھانا یاد ہے
اپنے کالے کارناموں کو چھپانا یاد ہے
آج تک "عہدِ گئو" کا وہ فسانہ یاد ہے
کیا تمہیں اب بھی وہ دورِ ظالمانہ یاد ہے؟
حکایت
*حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ*
حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ بغداد کی حدود سے نکلے ہی تھے کہ اچانک بادشاہ کا بیٹا بیمار پڑ گیا اور دوسرے دن مر گیا. بادشاہ کو گمان گزرا شاید یہ سب واقعہ حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ سے بدسلوکی کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ بادشاہ نے اپنے مشیران کو حکم دیا کہ کوئی بھی صورت ہو انہیں بغداد واپس لاو۔حکم پاتے ہی مشیران تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے. شاہی قاصدوں نے انھیں جا لیا پھر دست بدست عرض کی حضور واپس بغداد تشریف لے چلیں۔یہ سن کر حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ کے چہرے پر اذیت کا رنگ ابھر آیا کل جس جگہ مجھے ذلیل کیا گیا آج پھر اسی مقام پر جانے کا کہ رہے ہو؟؟؟؟
حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ نے انکار کر دیا لیکن شاہی کارندے بہت دیر تک عاجزی کا مظاہرہ کرتے رہے تو آپ کو ان پر رحم آ گیاجب آپ شاہی محل پہنچے وہاں صف ماتم بچھی ہوئی تھی یہ سب کیا ہے آپ نے بادشاہ سے پوچھا،یہ میرے جواں مرگ بیٹے کی میت ہے آپ کے بغداد سے جاتے ہی اچانک بیمار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آغوش فنا میں چلا گیا۔میں سمجھتا ہوں آپ کی دل آزاری کے باعث میرا بیٹا اس انجام کو پہنچا. شدت غم سے بادشاہ کی آواز کانپ رہی تھی۔فی الواقع اگر یہی بات ہے تو آپ کے بیٹے کو سزا کیوں ملی؟؟؟ گناہ تو آپ نے کیا تھا. حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔
ممکن ہے قدرت نے. میرے لیے یہی سزا منتخب کی ہو کہ تمام عمر بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہوں. بادشاہ نے کہا.میری درخواست ہے کہ آپ میرے بیٹے کے حق میں دعائے خیر فرما دیں. بادشاہ نے کہا ہو سکتا ہے آپ کی دعاؤں سے اسے نئی زندگی مل جائے.ایسا ہوتا تو نہیں ہے پھر بھی تمہاری تالیف قلب کے لیے مالک کی بارگاہ میں عرض کیے دیتا ہوں. ایوان شاہی کے ایک کمرے میں ابھی دعا کے الفاظ کی گونج باقی ہی تھی کہ شہزادے کے جسم کو جنبش ہو ئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا،یہ منظر دیکھ کر بادشاہ حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں گر گیا کہ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
ہرگز نہیں یہ تو قادر مطلق کی کرم نوازی کا ادنیٰ سا مظاہرہ ہے جو اپنی ذات میں لاشریک ہے اسی کا شکر ادا کرو. یہی کرامت آپ کے لیے وبال جان بن گئی. لوگوں نے آپکو شعبدے باز کہا اور آپ کے خلاف صف آراء ہوگئے،حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کی کھال کھینچ لی گئی اسی حالت میں بغداد سے نکال دیا جب آپ لہو لہان تھے،ولی عہد سلطنت شہزاد محمد کو آپ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ہوئے تو شہزاد محمد بھی آپ کے ساتھ ہو لیے.بغداد سے نکل کرہندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت کے بعد ملتان پہنچے اور سکونت اختیار کی۔
ملتان کے لوگوں نے بھی اہل بغداد کی طرح آپ کی مخالفت کی. ایک بار یوں ہوا حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی آپ نے شہزاد محمد کو آگ لانے کے لیے بھیجا مگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی آگ نہ دی ایک سنگدل شخص نے اس وجہ سے شہزادے کو اتنا مارا کہ چہرے پر زخموں کے نشان ابھر آئے.واپس آ کر شہزاد نے پورا واقع سنایا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں خانقاہ سے نکلے گوشت کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا پھر حضرت شمس نے آسمان پر نظر کر کے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا؛ تو بھی شمس میں بھی شمس اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے۔
اتنا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا پھر یہ گرمی اتنی بھڑکی کہ اہل ملتان چیخ اٹھے پورا شہر آگ کی بھٹی بن کہ رہ گیا،کچھ باخبر لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے. آپ ؒ نے فرمایایہ نادان نہیں سفاک ہیں آگ جیسی بے قیمت چیز نہیں دے سکتے میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا آخر اس کا جرم کیا تھا. جانتے ہو یہ کون ہے؟؟؟ بغداد کا شہزادہ میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے. جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آے گا.
خدا کے لیے انہیں معاف کر دیں. ملتان کے دانائے راز حضرات نے سفارش کرتے ہوئے کہا.خیر جب خدا کو درمیان میں لے آئے ہو تو معاف کیے دیتا ہوں. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا .پھر سورج سے مخاطب ہوئے اپنی حرارت کم کر دے معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے. آپ کا یہ فرمانا تھا سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے۔
(انتخاب : قرطاس و قلم)
Featured Post
خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...
-
نظامت کے واسطے بہترین اشعار ایک موقع پر ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا کہ اگر خلاف ہے تو ہونے دو کوئی جان تھوڑئ ہے ...
-
جو ممالک اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، ان میں سب سے پہلا نمبر نیوزی لینڈ کا، دوسرا لکسیم برگ، تیسرا آئر لینڈ، چوتھا آئیس لینڈ...
-
کیا مشت زنی نقصان دہ ہے ؟ مادہ تولید کے خون یا ہڈیوں کے گودے سے بننے میں کتنی صداقت ہے؟ جواب : نہیں- مادہ تولید نہ تو خون سے بنتا ہے اور...