Saturday, July 27, 2019

تلاوت کلامِ الہیٰ کا فائدہ

٭تلاوت کلامِ الہیٰ کا فائدہ٭
پرانے وقتوں کی بات ہے کہیں ایک بزرگ اپنے نوجوان پوتے کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ ہر روز صبح قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے تھے اُن کا پوتا ہمیشہ اُن جیسا بننے کی کوشش کرتا تھا۔
ایک دن پوتا کہنے لگا "دادا جان! میں بھی آپ کی طرح قرآن پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی، اور جو سمجھ آتی ہے جیسے ہی قرآن بند کرتا ہوں بھول جاتا ہوں، ایسے میں قرآن پڑھنے سے ہم کیا سکیھتے ہیں؟"
دادا نے خاموشی سے انگارے والی ٹوکری میں سے انگارہ نکال کر انگیٹھی میں ڈالا اور جواب میں ٹوکری پوتے کو دے کر کہا "جا پہاڑ کے نیچے ندی سے مجھے پانی کی ایک ٹوکری بھر کر لا دے۔۔!"
لڑکے نے دادا کی بات پر عمل کیا لیکن گھر واپس پہنچنے تک تمام پانی ٹوکری میں سے بہہ گیا، دادا مسکرایا اور کہا "ایک بار پھر جاؤ اور اِس مرتبہ زیادہ تیز قدم اُٹھانا اور جلدی کرنا۔۔!" اور اُس کو واپس پھر پانی لینے بھیج دیا۔
اگلی بار لڑکا بہت تیز بھاگا لیکن گھر پہنچنے تک ٹوکری پھر خالی تھی، پھولی ہوئی سانسوں سے اُس نے دادا سے کہا کہ "دادا جان! ٹوکری میں پانی لانا ناممکن ہے، وہ بالٹی میں پانی لے آتا ہے۔"
دادا نے کہا، "مجھے پانی بالٹی میں نہیں، ٹوکری میں ہی چاہیے، تم ٹھیک سے کوشش نہیں کر رہے ہو" اور پھر اُسے نیچے بھیج کر خود دروازے میں کھڑا ہو کر دیکھنے لگا کہ وہ کتنی کوشش کرتا ہے۔
لڑکے کو پتہ تھا کہ یہ ناممکن ہے لیکن دادا کو دیکھانے کے لیے اُس نے ٹوکری پانی سے بھری اور انتہائی سرعت سے واپس دوڑا۔ واپس پہنچنے تک ٹوکری میں سے پانی بہہ چکا تھا اور وہ پھر سے خالی ہو چکی تھی۔
لڑکے نے کہا "دیکھا دادا جان! یہ بے سود ہے۔۔۔!"
دادا نے کہا "ذرا ٹوکری کی طرف دیکھو۔۔!"
لڑکے نے ٹوکری کی طرف دیکھا اور اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ ٹوکری پہلے سے مختلف تھی، اب وہ پرانی اور گندی ٹوکری کی جگہ اندر اور باہر سے صاف ستھری ہو چکی تھی۔
دادا نے کہا "بیٹا! جب ہم قرآنِ پاک پڑھتے ہیں چاہے ہم اُس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ پا رہے ہوں، یا یاد نہ کر پا رہے ہوں۔ پھر بھی اُس کی بار بار کی تلاوت ہمیں اندر اور باہر سے ایسے ہی پاک صاف کر دیتی ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ ہماری زندگی بدل دیتا ہے۔"
اللہ ہم سب کو معرفت کے ساتھ قرآن پاک کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔آمین

بچوں کے کردار سازی کے لیے رہنما اصول

*وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے ان شاءاللّہ تعالیٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی*.
❶ - *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
☄ *آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے* بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں۔
اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے. جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
❷⚡- *بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں. تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.*
❸ -☄ *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے نہ بیٹھنے دیں*.
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.
❹⚡ *بچوں کو فارغ نہ رکھیں فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے* اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے. اس لیے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
☄ *ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.*
〰☄〰〰☄〰〰
❺ - ⚡ *ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں* تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی گہری نیند سوئے.
❻ -⚡ *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں*
*یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے. اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.*
❼ -☄ *بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ہی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.*
❽ -⚡*اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں.*
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.
〰☄〰〰☄〰〰
❾-☄ *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں.*
*_حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
*ان دو پوسچرز میں لیٹنےسے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.*
⚡ *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.* اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہوتو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.
❶❶ -⚡ *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں.* یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے.
✨✨✨✨✨✨
❷❶☄- *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں. اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں*
❹❶☄- *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.*
❺❶⚡- *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں.*
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
☄ *اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے*۔
⚡ *یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہیے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.*
❻❶☄- *بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو. اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں*
〰☄〰〰☄〰〰
❼❶- *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں.*
*ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے* .
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں. ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بےباکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے.
✨✨✨✨✨✨✨
❽❶-⚡*تیرہ چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں* یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں. کہ کس طرح *حضرت یوسف علیہ السلام* نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں *اللّہ تعالی*ٰ کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالیٰ*اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے.
〰☄〰〰☄〰〰
☄ *_آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں حرام سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *ان شاءاللّہ تعالیٰ*آخرت میں *اللّہ سبحان وتعالیٰ*کے عرش کے سائے تلے حلال سے افطاری کریں گے._
☄ *اللّہ تعالیٰ*امت _مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے *آمین!

اولاد کی اصلاح کا ایک نرالہ انداز

*اولاد کی اصلاح کا ایک نرالہ انداز*
میں جب بھی کسی سلجھے ہوئے خوش حال نوجوان کو دیکھتا ہوں تو یقین ہوجاتا ہے کہ ضرور اس کا باپ صالح اور نیک آدمی ہوگا۔ فرمان الہی *{وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا}* کی صداقت نظر آنے لگتی ہے۔ باپ اگر نیک ہو تو اس کا فائدہ دنیا ہی میں اس کی اولاد کو ہونے لگتا ہے۔
*ڈاکٹر نبیل عوضہ* کہتے ہیں کہ
’’مجھے جب نوافل کی ادائیگی میں سستی اور کاہلی ہونے لگتی ہے تو مجھے میرے بیٹے اور دنیا کی پریشانیاں یادآتی ہیں کہ کہیں نوافل کی ادائیگی میں میری سستی اور کاہلی میری اولاد کی پریشانیوں کا سبب نہ بن جائے۔''
اپنی اولاد کو خوش حال زندگی اور دنیا کی پریشانیوں سے نجات دلانے کا ایک اہم ذریعہ ہماری صالحیت اور نیک بختی ہے ۔ہرشخص کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد نیک اور فرماں بردار ہو لیکن صرف خواہش سے کچھ نہیں ہوتا اس کے لئے خود بھی نیک اور صالح بننے کی ضرورت ہے۔
*حضرت عبداللہ بن مسعود*ؓ جب رات میں نوافل ادا کر رہے ہوتے تو سامنے اپنے چھوٹے بچے کو سویا ہوا دیکھ کر کہاکرتے تھے *"من اجلک یا بنی،،* یہ تیرے روشن مستبقل کے لئے ہے اور روتے ہوئے *(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا )* کی تلاوت کرتے۔
*حضرت سعيد بن المسيّب* كا بهي يہي حال تها، فرماتے :
*" اني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي."* ( نماز پڑھتے ہوئے جب مجھے اپنے بچے یاد آتے ہیں تو نماز لمبی کر دیتا ہوں۔ )
*سورہ کہف* کے میں مذکور  واقعے سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ باپ اگر نیک ہو تو اس کا فائدہ اس کی اولاد کو بھی ہوتا ہے۔
*ڈاکٹر نبیل عوضہ* کہتے ہیں کہ میرا ایک دوست کویت میں ایک حکومتی ادارے میں اچھے منصب پر فائز ہے، وہ روزانہ چند گھنٹے فلاحی کاموں میں لگاتا ہے۔ میں نے کہا کہ تم اپنے کام میں زیادہ دل چسپی لو تو شاید تمہارا منصب اور مقام اور زیادہ ہوجائے گا ۔ کہنے لگا: ’’ تم جانتے ہو کہ میں چھے بچوں کا باپ ہوں جن میں سے اکثریت میرے بیٹوں کی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائیں ۔ جب سے میں نے *{ کَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا }* کی تفسیر پڑھی ہے اپنی زندگی کا ایک حصہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کردیا ہے اور میں اس کے بہترین اثرات اپنے بیٹوں میں دیکھ رہا ہوں۔"
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد نیک صالح اور آپ کی فرماں بردار ہو؟
تو پھر اپنے آپ کو صالح اور نیک بنایے اور اپنی زندگی کا ایک حصہ فلاحی کاموں میں لگایے؛ اس لئے کہ *ارشاد نبویﷺ* کے مطابق  اللہ بھی اس بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتا ہے۔..
*جزاکم الله خیرا و احسن الجزاء

نئی شادیاں

*شادیوں کے اوقات پر عورتوں کا حد سے نکلنا*
دلہن کا نیم برہنہ لباس، نامحرم مردوں کا عورتوں کو مختلف زاؤیوں سے فوکس کر کر کے کیمرے میں بند کر کے فلمیں بنانا اور باپ ، بھائی کی غیرت کے کان پر جوں تک نہ رینگنا، اور تو اور بعض دیندار گھرانوں میں بھی اس موقع پر حیا کا جنازہ اٹھتا نظر آتا ہے کہ دل خوف سے کانپ جاتا ہے،،،
  مووی میکر‘ فوٹو گرافر ایسے بن ٹھن کر شادی کے پروگرام میں آتے ہیں جیسے شادی ہی ان کی ہو‘
نا جانے آپ کی عزت کو کیسے گوارہ کر جاتی ہے یہ بات کہ ایک غیر مرد آپ کی نئی نویلی دلہن کو آپ سے پہلے دیکھے اور مختلف سٹائلوں اس کا فوٹو سیشن کرے ؟؟؟
  افسوس
اب تو ایسے رنج و غم کا وقت ہے کہ کس کس چیز کو رویا جائے؟؟ دلہا میاں خود مووی میکر‘ فوٹو گرافر کو گائیڈ لائن دے رہا ہوتا ہے یہ میری بہن ہے‘ میری کزن‘ میری خالہ اور یہ دلہن کی بہن‘ اماں‘ خالہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور ساتھ ہی اسے سختی سے کہتا ہے کہ سب لیڈیز کی تصویر ٹھیک سے بنانا،،،
  لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ جو بندہ جتنا غریب ہے وہ اُتنا ہی زیادہ پیسہ ان گناہ کی رسموں پر خرچ کرتا ہے خواہ اُدھار ہی کیوں نہ لینا پڑے،،،،
  پوچھو تو یہ لوگ کہتے ہیں ہماری برادری میں ایسا کرنا رواج ہے‘ خاندان میں ناک کٹ جائے گی‘ لوگ کہیں گے فلاں کی شادی پر ناچ گانا‘ فحش عورتوں کا ڈانس‘ آتش بازی‘ فائرنگ نہیں ہوئی شادی میں جانے کا مزہ نہیں آیا،
✋  یاد رکھو!!!
⬅  جن لوگوں کو دکھانے کیلئے آپ یہ سب بے جا رسمیں ادا کرتے ہیں اُن کو آپ کے بیٹے‘ بیٹی کی طلاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اُن لوگوں کو کوئی پروا نہیں کہ آپ نے پیسہ اُدھار لیا ہے یا دن دیہاڑے ڈاکہ مارا ہے‘ یہی لوگ آپ کی اُولاد کے طلاق کے موقع پر کہتے ہیں اتنی فحاشی تو پھیلائی تھی ان لوگوں نے شادی کے موقع پر تو انجام تو برا ہی ہونا تھا،،
  بھئی! دنیا نہیں جینے دیتی دنیا کو نہیں دیکھو اپنی جیب کو دیکھو اسلام کی حدود کو دیکھو‘ اسلام نے تو شادی کو انتہائی آسان بنایا ہے۔ ان مٹی کے پتلوں (انسانوں) کو ناجائز خوش کرنے کیلئے گنہگار مت بنو‘ اللہ تعالیٰ کو خوش کرو گے تو آپ اور آپ کی شادی کامیاب ہو گی،،،
  بہت سے لوگ شادیوں کے موقع پر گھروں‘ پلاٹوں‘ سڑکوں پر ٹینٹ لگا لیتے ہیں اور عورتوں کا ناچ دیکھتے ہیں نکاح کا ان ناچنے والی عورتوں سے کیا تعلق ہے؟؟؟
  بہت سی شادیوں میں دیکھا ہے گھروں کے بزرگ بھی ان فحش محفلوں میں شامل ہوتے ہیں اور ان فحش عورتوں سے فحش حرکات سرعام کرتے ہیں، اور بہت سی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ’’دلہا میاں‘‘ خود ان فحش عورتوں کے ساتھ رقص کے ساتھ ساتھ فحش حرکات کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔ آپ خود فیصلہ کرو یہ شادی کے موقع پر آپ اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو کہ نہیں؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آ سکتی ہے؟؟؟؟
♨  فحش عورت کے ناچ میں جو گناہ اور خرابیاں ہیں ان کو سب جانتے ہیں!!!!
論  اب ڈھولک کی بات کرو تو عورتیں ڈھولک ساری ساری رات ایسے بجاتی ہیں جیسے پتہ نہیں یہ ڈھولک نہیں ان کے ’’بے رحم شوہر کا سر‘‘ ہے ڈھولک کی خوب دھلائی کرکے اپنا سارا غصہ ڈھولک پر نکال دیتی ہیں،،، ڈھولک کی آواز سے آس پاس کے لوگوں کی نیند میں خلل آتا ہے کہ نہیں؟؟؟
  ڈھولک سے دل کو راحت نہیں ملتی تو بڑے بڑے سپیکر لیکر اُس پر ساری ساری رات اور سارا سارا دن گانے لگائے جاتے ہیں کہ پورے شہر کو پتہ چل جائے یہاں شادی کی تقریب ہو رہی ہے‘ جب سارا شہر آپ کی ان حرکتوں سے تنگ ہو گا تو کیا آپ کو یہ لوگ دعا دیں گے کہ اے اللہ ان کی شادی میں برکت ڈال دے؟؟؟
❄   بہت سے بیمار ایسے بھی ہیں جو بیچارے اپنی ہی کھانسی کی آواز برداشت نہیں کر سکتے‘ تو کیا وہ آپ کے گھر لگے ’’دیواروں جتنے سپیکروں‘‘ سے نکلتی ہوئی گانوں کی آوازیں برداشت کر پائیں گے؟
  تو خود اندازہ کرو کہ وہ بیمار انسان آپ کو کتنی بددعائیں دے گا؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آئے گی؟؟
  تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ شادی کو آسان بناؤ اور طلاق و خلع کے رواج کو اپنے سماج سے ختم کرو۔ فضول رسم و رواج کے جھنجٹ کی وجہ سے بہت سے غریب گھروں کے نوجوان لڑکے‘ لڑکیاں بھی غیر شادی شدہ بیٹھے ہیں،
  بزرگوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے ان فضول رسم و رواج کو اپنی زندگی ہی میں ختم کر جائیں‘ نہیں تو قبروں میں عذاب کا باعث بنے گا!!
حیا کی ترویج
⬅  ایمانی زوال کے اس دور میں ہمیں قر آن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجو ع کرنا ہے اور اپنے مردوں اور عورتوں میں حیا کے وہ بیج بونے کی کوشش کرنا ہے جو معاشرے کو واپس پا کیزگی کے اس معیار کے قریب لے آئیں ،جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے دور کے خاصہ تھا،،
⬅  گھر کے اندر مرد نگران ہے،، اس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور گھر والوں کے لیے صحیح تعلیم کا بندوبست کرے،
⚡ حقیقت یہ ہے کہ تقدیسِ نسواں کا محافظ دراصل مرد ہی ہے۔ اگر مرد اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہوجائیں تو معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ ہوجائے جو عورتوں کی بے مہاری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے!!
♻  لیکن ہوتا ایسا ہے ، جو مرد غیرت کا پیکر بنا ہوتا ہے ، اس کی غیرت بھی ایسے موقعوں پر پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتی ہے،،
  اکثر نے بس یہی بات رٹی ہوتی ہے، کون سا شادی روز روز ہو گی،،
  بہت سے لوگوں کو میری بات سے اختلاف ہو گا ، لیکن جو سچ تھا ، جو آج کل ہو رہا ہے اس کی طرف توجہ دلانا بہت ضروری تھا!..... کاش کہ  یہ بات تیرے دل میں اتر جائیں

نظم مولوی کی فریاد

نظم مولوی کی فریاد
*ملے  خشک  روٹی  جو آزاد رہکر*
*وہ ہے مکتبوں میں پڑھانے سے  بہتر*
*مدرسوں کےناظم ہیں کچھ اس طرح کے*
*سمجھ تے ہیں خود کو منسٹر سے بڑھ کر*
*اگر کوئی  تعليم  دیتا وہاں  ہے*
*ہے ان کی نظر میں غلاموں سے بدتر*
*شب و روز رہتی ہے خواہش یہ ان کی*
*معلم  کی  تنخواہ  ہو  کم سے کم تر*
*پڑھائیں وہ طفلان سے عالمانہ*
*ہو مضمون بچوں کا ہر ایک ازبر*
*نکل کر یہاں سے ہر ایک گھر کا بچہ*
*علیگڑھ میں داخل ہو یا جامع ازہر*
*بھکاری کے مانند در در پھرے وہ*
*کرے جی حضوری وہ ہر روز جھک کر*
*اڑائیں  اراکیں   مرغ  و  مسلم*
*معلم گدائی کرےجاکے در در*
*ٹہل گھوم کر ہم نے دنیا ہے دیکھی*
*یہی حال پایا مدرسوں کا اکثر*
*ہے شاہد کے دل کی یہی التجا بس*
*سنائیں مری نظم جلسوں کے اندر*

مودی جی کا پہلا چرن

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک نوٹ بندی کا زمانہ یاد ہے
اک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ لے کر لائن میں
بینک کے باہر وہ سب کا دھوپ کھانا یاد ہے
لوٹ کر بھارت کے لوگوں کو بڑی بے شرمی سے
تیرا ملکوں ملکوں جانا اور آنا یاد ہے
روزگار و اچھے دن کے وعدے کرکے خوامخواہ
نوجوانوں کو ترا سپنے دکھانا یاد ہے
نیرو مودی مالیا کے ساتھ مل کر دیش کا
لاکھوں اربوں کا وہ گھوٹالہ کرانا یاد ہے
گیس ڈیزل پیٹرول اور چیزیں کھانے پینے کی
مہنگی کرکے وہ ترا سب کو رلانا یاد ہے
ماب لنچنگ، بچیوں کا ریپ پھر ان کا مرڈر
تیری سازش تیرا طورِ مجرمانہ یاد ہے
یوپی راجستھان دلی اور بھی کئی شہروں میں
گئو کشی کی آڑ میں دنگے کرانا یاد ہے
جو کیا گجرات میں تونے وہ بھولے گا کسے
ہم کو اب تک چہرہ تیرا وحشیانہ یاد ہے
دور تیرا ظالمانہ تیری خصلت ہٹلری
مسلموں پر ہر سو تیرا ظلم ڈھانا یاد ہے
اصلی سچے دیش بھکت آفیسروں کا قتل کر
اپنے کالے کارناموں کو چھپانا یاد ہے
قتل منہاج و نجیب و ناصر و اخلاق کا
آج تک "عہدِ گئو" کا وہ فسانہ یاد ہے
اے فراغانی ہوئی مدت مگر سچ سچ کہو
کیا تمہیں اب بھی وہ دورِ ظالمانہ یاد ہے؟

حکایت

*حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ*

حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ بغداد کی حدود سے نکلے ہی تھے کہ اچانک بادشاہ کا بیٹا بیمار پڑ گیا اور دوسرے دن مر گیا. بادشاہ کو گمان گزرا شاید یہ سب واقعہ حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ سے بدسلوکی کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ بادشاہ نے اپنے مشیران کو حکم دیا کہ کوئی بھی صورت ہو انہیں بغداد واپس لاو۔حکم پاتے ہی مشیران تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے. شاہی قاصدوں نے انھیں جا لیا پھر دست بدست عرض کی حضور واپس بغداد تشریف لے چلیں۔یہ سن کر حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ کے چہرے پر اذیت کا رنگ ابھر آیا کل جس جگہ مجھے ذلیل کیا گیا آج پھر اسی مقام پر جانے کا کہ رہے ہو؟؟؟؟
حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ نے انکار کر دیا لیکن شاہی کارندے بہت دیر تک عاجزی کا مظاہرہ کرتے رہے تو آپ کو ان پر رحم آ گیاجب آپ شاہی محل پہنچے وہاں صف ماتم بچھی ہوئی تھی یہ سب کیا ہے آپ نے بادشاہ سے پوچھا،یہ میرے جواں مرگ بیٹے کی میت ہے آپ کے بغداد سے جاتے ہی اچانک بیمار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آغوش فنا میں چلا گیا۔میں سمجھتا ہوں آپ کی دل آزاری کے باعث میرا بیٹا اس انجام کو پہنچا. شدت غم سے بادشاہ کی آواز کانپ رہی تھی۔فی الواقع اگر یہی بات ہے تو آپ کے بیٹے کو سزا کیوں ملی؟؟؟ گناہ تو آپ نے کیا تھا. حضرت شمس  رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔
ممکن ہے قدرت نے. میرے لیے یہی سزا منتخب کی ہو کہ تمام عمر بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہوں. بادشاہ نے کہا.میری درخواست ہے کہ آپ میرے بیٹے کے حق میں دعائے خیر فرما دیں. بادشاہ نے کہا ہو سکتا ہے آپ کی دعاؤں سے اسے نئی زندگی مل جائے.ایسا ہوتا تو نہیں ہے پھر بھی تمہاری تالیف قلب کے لیے مالک کی بارگاہ میں عرض کیے دیتا ہوں. ایوان شاہی کے ایک کمرے میں ابھی دعا کے الفاظ کی گونج باقی ہی تھی کہ شہزادے کے جسم کو جنبش ہو ئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا،یہ منظر دیکھ کر بادشاہ حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں گر گیا کہ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
ہرگز نہیں یہ تو قادر مطلق کی کرم نوازی کا ادنیٰ سا مظاہرہ ہے جو اپنی ذات میں لاشریک ہے اسی کا شکر ادا کرو. یہی کرامت آپ کے لیے وبال جان بن گئی. لوگوں نے آپکو شعبدے باز کہا اور آپ کے خلاف صف آراء ہوگئے،حضرت شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کی کھال کھینچ لی گئی اسی حالت میں بغداد سے نکال دیا جب آپ لہو لہان تھے،ولی عہد سلطنت شہزاد محمد کو آپ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ہوئے تو شہزاد محمد بھی آپ کے ساتھ ہو لیے.بغداد سے نکل کرہندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت کے بعد ملتان پہنچے اور سکونت اختیار کی۔
ملتان کے لوگوں نے بھی اہل بغداد کی طرح آپ کی مخالفت کی. ایک بار یوں ہوا حضرت شمس رحمتہ اللہ علیہ کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی آپ نے شہزاد محمد کو آگ لانے کے لیے بھیجا مگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی آگ نہ دی ایک سنگدل شخص نے اس وجہ سے شہزادے کو اتنا مارا کہ چہرے پر زخموں کے نشان ابھر آئے.واپس آ کر شہزاد نے پورا واقع سنایا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں خانقاہ سے نکلے گوشت کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا پھر حضرت شمس  نے آسمان پر نظر کر کے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا؛ تو بھی شمس میں بھی شمس اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے۔
اتنا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا پھر یہ گرمی اتنی بھڑکی کہ اہل ملتان چیخ اٹھے پورا شہر آگ کی بھٹی بن کہ رہ گیا،کچھ باخبر لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے. آپ ؒ نے فرمایایہ نادان نہیں سفاک ہیں آگ جیسی بے قیمت چیز نہیں دے سکتے میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا آخر اس کا جرم کیا تھا. جانتے ہو یہ کون ہے؟؟؟ بغداد کا شہزادہ میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے. جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آے گا.
خدا کے لیے انہیں معاف کر دیں. ملتان کے دانائے راز حضرات نے سفارش کرتے ہوئے کہا.خیر جب خدا کو درمیان میں لے آئے ہو تو معاف کیے دیتا ہوں. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا .پھر سورج سے مخاطب ہوئے اپنی حرارت کم کر دے معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے. آپ کا یہ فرمانا تھا سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے۔
(انتخاب : قرطاس و قلم)

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...