Monday, July 22, 2019

हज़रत ख़्वाजा बख़्तियार काकी

हज़रत ख़्वाजा बख़्तियार काकी रहमतुल्लाह अलैह का जब इन्तेक़ाल हुआ तो उनकी नमाज़े जनाज़ा के लिए लोग इकठ्ठा हुए। भीड़ में ऐलान हुआ की नमाज़े जनाज़ा पढ़ाने के लिए कुछ शर्तें हैं जिनकी वसीयत हज़रत ने की थी:
(1) मेरी नमाज़े जनाज़ा वो शख़्स पढ़ायेगा जिसने कभी भी बग़ैर वज़ू आसमान की तरफ़ न देखा हो।
(2) मेरी नमाज़े जनाज़ा वो पढ़ाएगा जिसने कभी किसी पराई औरत पर निगाह न डाली हो ।
(3) मेरी नमाज़े जनाज़ा वो शख़्स पढ़ायेगा जिसकी अस्र की 4 रक्अत सुन्नत कभी न छूटी हो।
(4) मेरी नमाज़े जनाज़ा वो शख़्स पढ़ायेगा जिसकी तहज्जुद की नमाज़ कभी न छूटी हो
जैसे ही भीड़ में ये ऐलान हुआ सारी भीड़ में एक सन्नाटा छा गया।
सब एक दुसरे का मुँह देखने लगे। सबके क़दम ठिठक गए। आँखे टकटकी लगाए हुए उस शख़्स का इंतज़ार करने लगीं की कौन है वो शख़्स! वक़्त गुज़रता जा रहा था लाखों की भीड़ मगर कोई क़दम आगे नहीं बढ़ा रहे थे। सारे लोग परेशान । सुबह से शाम होने को आने लगी मगर कोई क़दम आगे न बढ़ा।
◆ बड़े-बड़े उलेमा, मोहद्दिस, मुफ़स्सिर, दायी, सब ख़ामोश सबकी नज़रें नीची, कोई नहीं था जो इन चारों शर्तों पर खरा उतरता। एक अजीब बेचैनी थी लोगों में।
◆ अचानक भीड़ को चीरता हुआ एक नक़ाबपोश आगे बढ़ा और बोला "सफ़ें सीधी की जाएं मेरे अन्दर ये चारों शर्तें पायी जाती हैं।"
◆ फिर नमाज़े जनाज़ा हुई लोग बेचैन थे उस नेक और परहेज़गार इन्सान की शक्ल देखने के लिए.
नमाज़ ख़त्म होने के बाद वो शख़्स मुड़ा और अपने चेहरे से कपड़ा हटाया, लोगों की हैरत की इन्तेहा न थी, अरे ये तो बादशाहे वक़्त हैं ! अरे ये तो सुल्तान शमसुद्दीन अल्तमस  (जिन्हें आज इतिहास की किताबो में सुल्तान इल्तुतमिश के नाम से जाना जाता है जो
1211 -1236 तक हिन्द के बादशाह रहे इन्ही की बेटी रजिया सुल्ताना थी)                          
◆ बस यही अल्फाज़ हर एक की ज़ुबान पर थे। और इधर ये नेक और पाक दामन बादशाह दहाड़े मार कर रो रहा था और कह रहा था "आपने मेरा राज़ फ़ाश कर दिया"
"आपने मेरा राज़ फ़ाश कर दिया। वरना कोई मुझे नहीं जानता था"
मुसलमानो, ये है हमारी तारीख़ और ये हैं हमारे नेक और पाकदामन हुक्मरान।
◆ अपनी ज़िन्दगी इन लोगों की तरह जीने की कोशिश करो, कल लोग थोड़ा खाकर भी अल्हम्दुलिल्लाह कहते थे, आज अच्छा और ज़्यादा खाकर भी कहते हैं मज़ा नहीं आया।
◆ कल इन्सान शैतान के कामों से तौबा करता था, आज शैतान इन्सान के कामों से तौबा करता है।
◆ कल लोग अल्लाह के दीन के लिए जान देते थे, आज लोग माल के लिए जान देते हैं।
◆ कल घरों से क़ुरआन की तिलावत की आवाज़ आती थी, आज घरों से गाने की आवाज़ आती है।
◆ कल औलाद माँ-बाप का कहा मानती थी, आज माँ-बाप औलाद के कहने के मुताबिक़ ज़िंदगी गुज़ारते है।
◆ कल लोग क़ुरआन व हदीस के मुताबिक ज़िंदगी गुज़ारते थे, आज लोग माडर्न फ़ैशन के मुताबिक़ ज़िंदगी गुज़ारते हैं ।
◆ कल मुसलमान दयानतदारी, सच्चाई और हिम्मत व बहादुरी के लिए मशहूर था, आज मुसलमान  बदअखलाक और बद किरदार के लिए बदनाम है।
◆ कल लोग रात-दिन दीन सीखने और अल्लाह की इबादत में गुजारते थे, आज लोग अपना रात-दिन शोहरत और माल व दौलत कमाने में गुजारते है।
◆ कल लोग दीन के लिए सफर करते थे, आज लोग गुनाहों के लिए सफर करते है।
◆ कल लोग अल्लाह की रज़ा  के लिए हज करते थे, आज लोग नाम व शोहरत के लिए हज करते है।
◆ अल्लाह से दुआ है की - " ऐ दिलों के फेरने वाले हमारे दिलों को आज के बजाए आख़ेरत की तरफ़ फेर दे, ऐ अल्लाह जो हमारे हक़ में बेहतर हो ऐसा हमें अमल करने की तौफ़ीक़ अता फरमा, हमारी बुराईयां हमसे दूर फ़रमा।"
आमीन
फ़ोटो सोर्स गूगल
Shams-ud-Din Iltutmish (1211-1236 AD)

حمل سے پہلے اپنے جی پی سے مکمل معائنۂ صحت کروائیں

حمل سے پہلے اپنے جی پی سے مکمل معائنۂ صحت کروائیں،
بالخصوص اس صورت میں جب آپ کو صحت کے کوئی مسائل ہوں۔ صحت کے کچھ مسائل پر حمل اثرانداز ہو سکتا ہے جیسے ذیابیطس، ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر اور مرگی۔
آپ جو دوائیاں لے رہی ہوں، ان کے بارے میں بھی پوچھیں کہ کیا یہ نشوونما کے دوران بچے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہ اہم ہے کہ آپ تب تک ہر قسم کی ادویات )نسخے پر ملنے والی، بغیر نسخے کے دستیاب اور زائد/مددگار دوائیاں( لینا نہ چھوڑیں جب تک آپ اپنے ڈاکٹر سے ان کے بارے میں بات نہ کر لیں۔
اپنے جی پی سے مل کر معلوم کریں کہ کیا آپ کو حفاظتی ٹیکوں کی
ضرورت ہے یا آپ خسرے، کن پیڑوں، روبیال اور ویریسیال چکن پاکس/کاکڑا الکڑا( سے محفوظ ہیں)۔
کافی وقت پہلے منصوبہ بندی کریں کیونکہ ممکن ہے آپ کو ان بیماریوں کے خلاف اپنی مدافعت کا پتہ چلانے کیلئے ٹیسٹ کرانے پڑیں۔
خسرے-کن پیڑوں اور روبیال کا حفاظتی ٹیکا لگوانے کے بعد آپ کو 28دن تک حاملہ نہیں ہونا چاہیئے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ حاملہ ہونے کا ارادہ رکھنے والی عورتیں اور حاملہ عورتیں انفلوئنزا (فلو کے) خلافحفاظتی ٹیکا لگوائیں۔ حمل کے دوران کسی بھی وقت یہ ٹیکا لگوانا محفوظ ہے۔
آپ کو حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران کالی کھانسی کا ٹیکا لگوا لینا چاہیئے۔ آپ کے شریک حیات، بچے کے دادا دادی، نانا نانی اور بچے کو باقاعدگی سے سنبھالنے والے دوسرے لوگوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے کالی کھانسی کا ٹیکا لگوانا چاہیئے۔ یہ اہم ہے کہ آپ کے دوسرے بچوں کو بھی کالی کھانسی کے خلاف ٹیکا لگا ہو۔
#

سگرٹ کا دھواں

سانس کے ساتھ دوسرے لوگوں کے سگرٹ کا دھواں اندر جانے کو smoking Passive کہتے ہیں۔
جب بھی کوئی آپ کے پاس یا آپ کے بچے کے بچے کے پاس تمباکونوشی کرتا ہے تو آپ سب کے جسم میں بھی دھواں جاتا ہے۔جب آپ حاملہ ہوں تو دوسرے لوگوں کے سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے کی کوشش کریں۔
جب بچہ پیدا ہو جاۓ تو ہرگز کسی کو اپنے بچے کے آس پاس تمباکونوشی نہ کرنے دیں۔ بچے کو ایسی جگہوں سے دور رکھیں جہاں لوگ تمباکونوشی کرتے ہیں۔
حمل کے دوران تمباکونوشی نقصان دہ ہے کیونکہ سگرٹ پینے والی ماؤں کے بچوں کیلئے یہ خطرات زیادہ ہوتے ہیں:
مردہ بچہ پیدا ہونے کا خطرہ
وقت سے پہلے پیدائش (جب بچہ حمل کا سینتیسواں ہفتہ ختم ہونے سے پہلے پیدا ہو جاۓ)
وزن کم ہونا۔ جب آپ تمباکونوشی کرتی ہیں تو سگرٹ کےنقصان دہ کیمیکلز آپ کے بچے کے خون میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پھر بچے کو کم آکسیجن ملتی ہے اور اس کی نشوونما بھی ٹھیک نہیں ہوتی۔
کم وزن رکھنے والے بچوں کیلئے پیدائش کے بعد صحت کے مسائل کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
پیدائش کے بعد پھیپھڑوں کے مسائل ہونا جیسے دمہ
شیرخواری میں اچانک موت کا خطرہ ہونا۔

عورتوں کا انزال کیا ہے ؟

عورتوں کا انزال کیا ہے ؟
انزال جنسی عمل کا نقطہ عروج اور سب سے پر لطف لمحہ ہوتا ہے۔ یہ چند سیکنڈز پر مشتمل وه احساس ہے جس کے بعد جنسی عمل کی تکمیل اور اس سر انجام دینے والوں کی تسکین ہو جاتی ہے ۔ جیسے کہ مرد کی جنسی تسکین انزال کے بعد مکمل ہوتی ہے ویسے ہی عورتوں کے لیےبھی انزال ضروری ہوتا ہے اور ساری عورتیں اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ طلب گار ہوتی ہیں تو وہ انزال ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں عورتوں کی جنسی کیفیت سے آگاہی نہ ہونے کے باعث مردوں کو عورتوں کے انزال کے متعلق پتہ ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی عورتیں بھی محض مرد کے انزال کو ہی جنسی عمل کی تکمیل سمجھتی ہیں۔
ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ایک کامیاب مباشرت میں عورت کو 3 مرتبہ انزال ہونا چاہیے۔ سائنسی طور پہ اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار سے یہ پتا چلا ہے کہ عام طور پر ایک عورت کو پہلا انزال مباشرت شروع ہونے کے 10 سے 15 منٹ بعد ہوتا ہے، دوسرا اس سے 5 منٹ بعد اور تیسرا اس سے 3 منٹ بعد ۔ لیکن یہ ہر عورت میں مختلف ہو سکتا ہے۔ اور اس کا انحصار زیادہ مرد پہ ہی ہوتا ہے۔ انزال کے لیے دخول بھی ضروری نہیں۔ مرد چاہے تو عورت کو بغیر دخول کے بھی فورپلے سے انزال دے سکتا ہے۔
فورپلے کے مختلف طریقے کار ہیں جن کو بروے کار لاتے ہوئے مرد عورت کو باآسانی انزال دے سکتا ہے۔ مثلا دخول سے پہلے عورت سے بوس و کنار کرنا ، اس کی چھاتیوں کو مسلنا ، چومنا اور چوسنا اور اس کی اندام نہانی کو ہاتھ سے مسلنا وغیرہ ۔ ہمارے ہاں مرد سیدھا سیدھا دخول شروع کر دیتے ہیں جس کے باعث وہ خود تو دوچار منٹ بعد فارغ ہو جاتے ہیں لیکن عورت کی تشنگی برقرار رہتی ہے اور یہ چیز آہستہ آہستہ اس کی ذہنی حالت کو متاثر کرتی ہے۔

کیا مشت زنی نقصان دہ ہے

کیا مشت زنی نقصان دہ ہے ؟ مادہ تولید کے خون یا ہڈیوں کے گودے سے بننے میں کتنی صداقت ہے؟
جواب : نہیں- مادہ تولید نہ تو خون سے بنتا ہے اور نہ ہی ہڈیوں کے گودے سے، ایسی باتیں لوگ صرف نوجوانوں کو ڈرانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ انہیں مشت زنی سے باز رکھا جا سکے-
رہی سہی کثر مردانہ کمزوری کے اشتہارات اور فضول دواؤں سے پیسے بنانے والے نیم حکیم پوری کر دیتے ہیں جو نوجوانوں کو پھانسنے کے لیے ان کے ہر مسئلے کی وجہ مشت زنی بتلاتے ہیں-
ایسی باتیں بجائے نوجوانوں کو فائدہ پہنچانے کے الٹا ان کے لیے بے حد نقصان ثابت ہو سکتی ہیں-
نوجوانی میں جنسی ٹینشن کا ہونا فطری ہوتا ہے اور بہت سے نوجوان اس کا علاج مشت زنی سے کرتے ہیں جس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا-
لیکن اگر نوجوانوں کو یہ خوف ہو کہ اس طرح ان کا خون یا ہڈیوں کا گودہ ضائع ہو رہا ہے تو اس سے ان میں ایک تو احساس گناہ یعنی guilt جنم لیتا ہے جو از خود انتہائی خطرناک جذبہ ہے اور دوسرے انہیں لاچارگی کا بھی احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ خود اپنی صحت برباد کر رہے ہیں لیکن اس عادت کو چھوڑ نہیں پا رہے-
تمام تعلیم یافتہ افراد کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور انہیں ایسے بے سروپا توہمات سے نجات دلائی جائے-
حقیقت یہ ہے کہ مادہ تولید میں سپرم (یعنی مردانہ جنسی خلیے) ہوتے ہیں جو ٹیسٹیکلز یعنی خصیوں میں بنتے ہیں جبکہ باقی ماندہ مائع پروسٹیٹ گلینڈ اور seminal vesicles میں بنتا ہے- اس مائع میں سپرم کے لیے نیوٹریشن ہوتی ہے-
تاہم اس مائع کے بننے میں نہ تو خون کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی ہڈیوں کے گودے کا- اسی طرح منی کے اخراج سے (خواہ وہ جنسی عمل کی وجہ سے ہو یا مشت زنی کی وجہ سے) صحت پر کسی قسم کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا-
قدیر قریشی

چھ اذکار جو غم کے خلاف کارگر ہتھیار ہیں

چھ اذکار جو غم ،پریشانی ، دکھ ، تکلیف ، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں
شيخ عبدالرحمن بن سعدي رحمه الله تعالى کہتے ہیں :
میں کتاب و سنت کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جن اذکار کے پڑھنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور وصیت کی گئی ہے وہ چھ اذکار ہیں
 چھ اذکار جو میں بیان کرنے جارہا ہوں یہ غم ، پریشانی ، دکھ ، تکلیف ، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف ایک بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں ..!!
1 - پہلا ذکر : ( رسول الله صلى الله عليہ وسلم پر درود بھیجنا ).
دن میں اس کا زیادہ اہتمام کرتے رہیں حتٰی کہ دن کے اختتام پر آپ بہت زیادہ دورد پڑھنے والے ہوں .
(سنن نسائی: کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل (باب: نبیﷺ پرسلام پڑھنے کی فضیلت)
حکم : حسن
1284 .سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے جب کہ آپ ﷺ کے چہرۂ انور پر سرور جھلک رہا تھا۔ ہم نے کہا: ہم آپ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ’’اے محمد! تحقیق آپ کا رب تعالیٰ فرماتا ہے: کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ جو شخص بھی آپ پر درود پڑھے گا، میں اس پر دس دفعہ رحمت کروں گا؟ اور جو بھی آپ پر سلام کہے گا، میں اس پر دس بار سلام نازل کروں گا۔‘‘)
2 - دوسرا ذکر : کثرت سے استغفار کرنا ..
اپنے فارغ اوقات میں اللہ کی توفیق سے (أستغفر الله) کا ورد کرتے رہیں
(سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہم بیٹھے ہوئے تھےآپﷺ نے فرمایا: میں نے جب بھی صبح کی ، اللہ تعالیٰ سے اس صبح سو مرتبہ بخشش طلب کی۔ السلسلۃ الصحیحۃ رقم : 1600المعجم الاوسط للطبرانی رقم :3879)
3 - تیسرا ذکر : " يا ذا الجلال والإكرام" پڑھنا .
کثرت سے یہ پڑھنا چاہیئے یہ ذکر بولی بسری سنت بنتا جا رہا ہے
حالانکہ آپ ﷺ نے اس کی وصیت اور اس کے متعلق نصیحت فرمائی ہے .
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
" ألظّوا بـيا ذا الجلال والإكرام".
الراوي : أنس من مالك
صححه الالباني من صحيح الترمذي .
رقم الحديث : 3525
جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں
(باب: قول اے زندہ قائم رکھنے والے...اور لازم پکڑو تم یا ذوالجلال والاکرام کو)
حکم : صحیح
3525 . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ'' کولازم پکڑو
(یعنی :اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہاکرو''۔)
ألظّوا : مطلب ..کثرت سے پڑھو .. اسے لازم پکڑو ..
رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے جو اس ذکر کے پڑھنے کا کہا ہے اس میں ایک عظیم راز پوشیدہ ہے .
ياذا الجلال کے معنی ہیں : بہت زیادہ بڑے جلال، کامل بزرگی والی ہستی .
والإكرام کے معنی ہیں : اور اپنے اولیا کے لیے اکرام وتکریم کی مالک ہستی ..
اور اگر آپ غور و فکر فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ آپ نے اس بلند و برتر ہستی کی تعریف بھی کی ہے اور اس سے مانگ بھی رہے ہیں !!
سوچیئے اگر دن میں آپ یہ سینکڑوں دفعہ پڑھتے ہیں ..
ياذا الجلال .. ضرور اللہ تعالٰی اس سے راضی ہو گا
اور سینکڑوں دفعہ پڑھیں : والإكرام .
وہ آپ کی حاجات جانتا ہے وہ ضرور عطا فرمائے گا !
4 - چوتھا ذکر : " لاحول ولا قوة إلا بالله".
اس کلمہ کی نبی کریم ﷺ نے اپنے بہت سے صحابہ کو تاکید فرمائی ہے اور اسے جنت کا خزانہ قرار دیا ہے .
اگر آپ اس ذکر پر مداومت فرمائیں :
" لاحول ولا قوة إلا بالله "
آپ اللہ تعالٰی کا لطف و کرم اور اس کی عنایت و فضل محسوس کریں گے.
(قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کردیا، وہ کہتے ہیں:میں صلاۃ پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا:'' کیامیں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتایئے، آپ نے فرمایا:'' وہ ''لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ''ہے۔ سنن ترمذی :3581 )
5 - پانچواں ذکر :لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين
یہ اللہ کے نبی سیدنا يونس عليه السلام کی دعا ہے :
" لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين" .
یہ ذکر غم و فکر کو بھگانے اور خوشیاں اور مسرت سمیٹنے کا سبب ہے .
( سیدناسعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' ذوالنون (یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی : '' لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ'' ۱؎ کیوں کہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعاکرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ سنن ترمذی :3505 )
6 - چھٹا ذکر : " سبحان الله، الحمدلله، لااله الاالله ،الله اكبر".
(سنن ابن ماجہ: کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اللہ کی تسبیحات پڑھنے کاثواب)
حکم : صحیح
3809 . حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اللہ کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو ، یعنی تسبیح[سُبۡحَانَ اللہِ]تہلیل [َلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ] اور تمہید [اَلۡحَمۡدُ لِلہ]کے الفاظ کہتے ہو ، وہ عرش کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں ۔ ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ۔ وہ اپنے کہنے والے کا (اللہ کے دربار میں)ذکر کرتے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ (اللہ کے دربار میں)تمہارا ذکر ہوتا رہے ۔)
 ان اذکار سے سبق ، فائدہ اور ثمرات سمیٹنے کے لیے انہیں تدبر ، تکرار ، کثرت اور عاجزی کے ساتھ پڑھیئے ..
جس قدر اللہ کا ذکر کریں گے اسی حساب سے اللہ تعالٰی کی محبت کا حصول ممکن ہوگا
جس قدر دعا میں عاجزی اور انکساری ہو گی اسی لحاظ سے وہ اللہ تعالٰی کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے گی
اور کثرت سے دعا اور معوذات اور اذکار کا ورد شیاطین کو بھگانے اور جسم سے حسد کے زہر کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے ..
الشيخ عبدالرحمن السعدي رحمه الله تعالى .
علم العقائد والتوحيد والأخلاق والأحكام/47
نوٹ : موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اور نمبر کی مناسب سے میں نے ہر نمبر کے تحت بریکٹ میں حدیث درج کر دی ہے مترجم

مثالی شوہر کے ذمہ حقوق اور اس کے اوصاف

قرآن کریم میں نکاح کی اخلاقی غرض عفت وپاکدامنی بیان کی گئی ہے نہ کہ شہوت رانی (سورۃ مائدہ :24)۔یہ پاکدامنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تب ہی ہوسکتی ہے جب یہ رشتہ بھی دائمی ہو۔اس لیے شریعت نے میاں بیوی کے ایک دوسرے پر علیحدہ علیحدہ حقوق بیان کردیے جن کے اداکرنے سے تا دم حیات محبت بڑھتی رہتی ہے۔ پہلےایک مثالی شوہرکےذمہ حقوق اور اس کے اوصاف ذکر کیے جاتے ہیں :
مثالی شوہر وہ ہے جو بیوی ایسے پیش آئے کہ وہ اس کے گن گائے ،اپنی ہر محفل کو شوہر کی اچھی اوصاف سے معطرکردے۔ایک مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا : ” خيركم خيركم لأهله، وقال أيضا : خياركم خياركم لنسائهم” تم میں سب سے بہتروہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں ۔
اس حدیث میں آپ ﷺ نے انسان کے بہتر اور اچھے ہونے کا معیار وآئینہ بتلادیا ، جس میں ہر شخص اپنا چہرہ دیکھ کر اپنا تجزیہ کرسکتاہے کہ وہ اخلاق کے کس درجہ پر فائز ہے۔لہذا جو اپنوں کے ساتھ انصاف واحسان نہیں کرسکتا وہ دوسروں کے ساتھ کیوں کر کرسکتاہے۔
اپنی وسعت کے مطابق بیوی پر فراوانی سے خرچ کرنا۔(سورۃ طلاق : 7)
جہاں خود رہائش پذیر ہے وہاں بیگم کو رہائش دینا۔(سورۃ طلاق : 7)
بیوی کی اچھی تربیت کرتے رہناکہ اسے دینی مسائل سکھلائے اور نیکی کی ترغیب دیتے رہے۔
حدیث میں آپ ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ : ” عورت پسلی کی طرح ٹیڑھی ہے ،اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے ،ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ٹیڑھا پن رہتے ہوئے اس سے نفع اٹھا تے رہو”(بخاری : 5/1987/4889 ، ناشر : دار ابن کثیر)اس حدیث کے پیش نظر بیوی کی کم فہمیوں اور کج روی کی اصلاح کے لیے شوہر کو انتہائی محتاط طریقہ اختیار کرنا چاہیے ،موقع محل کی مناسبت سے کبھی سختی کرے توکبھی نرمی ۔
شوہر اور بیوی پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مزاج شناس ہوں۔کیونکہ قرآن کریم میں میاں بیوی کے تعلق کو لباس سے تشبیہ دی گئی ہے ۔لباس سے انسان اچھی طرح تب ہی نفع حاصل کرسکتا ہے جب اس کی کوالٹی سے اور سلائی ، دھلائی ،خشک کرنے ،اور استری کرکے زیب تن کرنے کے طریقہ کار سے واقف ہو۔ایسےمیاں بیوی ایک دوسرے سے دنیا میں تب ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب وہ شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی ایک دوسرے کے مزاج شناس ہو کرتادم حیات ایک دوسرے کے مزاج کی رعایت کرنے کی حامی بھرلیں۔اس سے پورے گھر کا ماحول جنت کا منظر پیش کرنے لگے گا۔
شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کی دلجوئی ورضامندی کے لیے ہر وہ کام کرے جس میں شرعا کوئی حرج نہ ہو۔
بیوی کے لیے اپنی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئےدن یارات میں کوئی وقت مخصوص کرلے،چاہے وہ آدھا گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو ۔اس میں اس سے اپنے معاملات کے بارے میں مشورہ لے ، اگر اس کی کوئی شکایات ہوں ان کو دور کرے ،اس کے رشتہ داروں کی خیر خبر لے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا:”تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے”(بخاری : 2/679/1874 ، ناشر : دار ابن کثیر))

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...