Friday, July 19, 2019

بانو قدسیہ کا دل ہلا دینے والا مضمون

بانو قدسیہ کا دل ہلا دینے والا مضمون
*مرد_ھوس_کا_پجاری*
*جب عورت مرتی ھے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ھے ۔اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ھے ۔۔۔ پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ھے۔ باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ھے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ھے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ھے۔ اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ھے ۔۔۔ واقعی بہت ھوس کی نگاہ سے دیکھتا ھے ۔۔۔ ھوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ھے ۔۔۔ اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ھے ۔۔۔ اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ھے۔ اور اسی ھوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ھوس کا پجاری ھے۔''*
*لیکن جب ھوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ھے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ھے تو یہ واقعی ھوس کا پجاری بن جاتا ھے ۔۔۔ اور کیوں نا ھو؟؟*
*کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ھی ھوتا ھے ۔۔۔*
*جب عورت گھر سے باھر ھوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ھے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ھے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ھیں*
*ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ھوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ و امریکہ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے*
*"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو*
*ھم نے سر_بازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے"*
2
*مرد*
*میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ھے اور ان کے بعد ھمارا کیا ھوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ھاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رھی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ھوگئی آپ نے کرتا خرید لیا اپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ھے جو خراب ھوگئی ھوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ھے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاو گی۔ ابھی میں ساتھ ھوں جو خریدنا ھے آج ھی خرید لو۔*
*میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ھوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ھوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ھوتی ھوئی آنکھیں بتارھی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ھوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ھے اسے رونے نہیں دیگا۔*

نصاب تعلیم

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کےلیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔
تعلیم کی مثلث ہے؛ استاد ،طالب علم اور نصاب جس میں نصاب پہلی اینٹ ہے جس پر کسی قوم کی تعلیمی عمارت استوار ہوتی ہے۔
" تعلیمی نصاب یا Curriculum ”کا لفظی مطلب ہےایسا راستہ جس پر دوڑ لگائی جائے”ْ۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیمی نصاب کے راستے بچوں کے لیے اتنے کٹھن ہیں کہ ان کے لیے منزل تک پہنچنا دشوار ہوچکا ہے۔
ایک اچھانصاب نہ صرف طالب علم کو خواندہ بنانا ہے بلکہ طالب علم کو اس کے ماحول سےمطابقت پیدا کرنے اور معاشی سرگرمیوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل بھی بناتا ہے۔
تعلیمی نصاب کا اولین مقصدطالب علم کی ایسی تربیت کرنا ہے کہ وہ عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سلجھاتے ہوئے معاشرے میں باوقارشہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکے۔ 
طالب علم کی کردار سازی کے علاوہ اس کی فکری، تمدنی اور تہذیبی تربیت کا انحصار بھی تعلیمی نصاب پر ہوتاہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی نصاب اس بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں سے فارغ ہونے والے طلبااور طالبات اپنے مضا مین میں ماہر ہوں۔
اگر کوئی طالب علم معاشیات سیکھ رہا ہے تو اسے ایک اچھا ماہر اقتصادیات اور ذمہ دار شہری بن کر نکلناہوگا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب اس معیار پر پورا نہیں اترتا جوطلباء کو ڈگری دینے کے علاوہ انہیں عملی زندگی میں کامیاب اور مہذب شہری بناسکے۔
ہمارے نظام تعلیم کا کوئی سمت متعین نہیں کہ ہمیں اپنے طالب علم کو کیا پڑھانا ہے؟ اور کس طرح پڑھانا ہے؟
ہمارے مدرسوں کا نصاب بجائے تطبیق کے بیشترجذباتیت پر مبنی ہے اور عصری اداروں کے نصاب میں فرسودہ روایات اور گھسی پھٹی کہانیوں کو نصاب کا حصہ بنا کر طلباء کی سوچ کو محدود کر دیا گیا ہے۔
ہر گزرتے دن کےساتھ سائنس ترقی کر رہی ہے۔لیکن ہمارے ہاں آج بھی گزشتہ صدی کا نصاب رائج ہے جس میں کئی نسلوں سے ترمیم نہیں کی گئی۔
عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ہم تعلیم کے میدان میں اقوام عالم سے دو دہائیاں پیچھے ہیں۔
نصاب تعلیم نسل نو کی نفسیات و ماحول کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔
مشہور فلسفی وہائٹ ہیڈ کا قول ہے “علم زیادہ ہے اور زندگی چھوٹی، اس لیے زیادہ مضامین مت پڑھائیں لیکن جو کچھ پڑھائیں اسے بھرپور انداز میں پڑھائیں”۔
ہمارے یہاں نصاب میں معیار کے بجائے مقدار پرزور دیا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں درسی کتابیں اتنی ضخیم ہوچکی ہیں کہ بچے کے لیے ان کا پڑھنا تو کجا اٹھانا بھی بوجھ ہوتا ہے۔
درسی نصاب کی موجودہ کتابوں میں غیر ضروری مواد زیادہ ہوتا ہے جس کا عام زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ نصاب میں اکثر ابواب اتنے خشک اور بورنگ ہوتے ہیں کہ ان میں بچے کی دلچسپی کے لیے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ 
کتابوں کے اسباق بھی بےترتیب ہوتے ہیں جن سے بچوں کو اپنا ذہنی تسلسل برقرار رکھنے میں خاصی دشواری ہوتی ہے۔
نصاب کو عام فہم اور دلچسپ انداز میں ترتیب دیا جانا چاہیے۔
ملک کے مختلف دینی اداروں میں اپنا مخصوص تعلیمی نصاب رائج ہے جو کبھی ایک دوسرے کی نفی بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں تفریق اور عدم توازن کی فضا فروغ پارہی ہے۔
ایک بچے کی زبان کچھ اور ہوتی ہے لیکن اس کا نصاب کسی اور زبان میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔
جرمنی، فرانس، چین ، جاپان سمیت ایسے کئی ممالک ہیں جنہوں نے اپنی ضروریات کے پیش نظر انگریزی کے بجائے اپنی قومی زبانوں میں تعلیمی نصاب تشکیل دیا اور آج ان کی شرح خواندگی اور معاشی ترقی دنیا کے لیے روشن مثال ہے۔
دینی نصاب تعلیم کا انحصار ریاستی ملکی اور عالمی سطح پر تبلیغی و دعوتی پالیسی پر ہوتا ہے جس میں مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جاتا ہے اور درآمدہ ممکنہ مسائل اور چیلنجز کو فیس کرنے کوشش ہوتی ہے۔لہذا وقت اور حالات کے تحت جہاں دیگر ریاستی امور و معاملات تغیرات سے گزرتے ہیں وہیں تعلیمی اہداف کی جہتیں بھی لچکدار ہونی چاہیے۔
[ ] مدارس اسلامیہ میں جدید تعلیمی تکنیک کا فقدان ہے۔ اور جو منہج رائج ہے وہاں تطور عنقا ہے۔جب کہ زمانہ تغیر پذیر اور انسان جدت پسند ہے۔
[ ] (تلخیص ایک غیر مرقوم مضمون سے۔ م ں الأزهري)
[ ] یہ مضمون مدارس دینیہ کے لیے کارگر اور نتیجہ خیز نصاب کی ترتیب کے جذبے سے پوسٹ کر رہا ہوں تاکہ آپ حضرات اس پہلو پر اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی مشورے دیں۔۔۔ امید کہ آپ حضرات اس میں دلجسپی دکھائیں گے اور مفید معلومات فراہم کریں گے۔۔۔

بدلنے کے تین اصول

بدلنے کے تین اصول۔۔
صحبت ۔۔محنت۔۔استقامت
مسلک کے لحاظ سے تعصب نہ ہو
سیاست کے نام پر ٹسل نہ ہو
لسانیت کے نام پر نفرت نہ ہو
قومیت کے نام پر امتیاز نہ ہو
عزت دو محبت دو یہی دعوت کا پیغام ہے
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد رہا
آپ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے کھوئے ہوے ماضی کو بحال کریں تو باقیوں کا ذہن بنانا ہوگا انسانیت کا درد رکھنا ہوگا۔۔۔۔
آج ہم نے ہر کام کو کام سمجھا ہے لیکن دعوت کا کام جو ہم پر فرض ہے اسے کام کیوں نہیں سمجھتے۔دین کے اس کام کو کام سمجھیں۔۔
شیطان اگر ہم سے بڑے بڑے گناہ نہیں کرواپاتا تو صبح و شام ہم سے مومنوں کی بے حرمتی کروایا رہتا ہے۔ اگر آپ نے کسی برائی کو ختم کرنے پر کوئی عملی قربانی نہیں دی اور صرف باتیں بنائیں تو سمجھو کہ تم صحیح معنوں میں قوم کا ہمدرد نہیں ہو۔۔۔
محمد بن حسن الشيباني: ہم اگر سو گئے تو ان کا کیا ہوگا جو ہم پر تکیہ کرکے سو گئے ہیں۔۔۔
رویہ behaviour بدلنے کے سات مراحل ہیں؛
1:سوچ۔۔۔۔ اس لیے سوچو اور اتنا سوچو کہ وہ آپ کو عمل پر امادہ کردے۔ اور سوچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ سوچی ہوئی چیز کو نہ سوچو بلکہ کچھ نیا سوچو۔
2۔ مزعومہ عقیدے believe... جب تک آپ اسے درست نہیں کرتے آپ کا رویہ نہیں بدلے گا۔ آپ نے دماغ میں مان لیاہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے یا لوگوں کا ماننا ہے کہ آپ سے یہ کام نہیں ہوسکتا تو سمجھیے کہ آپ کا عقیدہ ٹھیک نہیں ۔ اس لیے خود کو بدلنا ہے یا سماج کو بدلنا ہے تو اسے ٹھیک کیجیے۔
3۔تجربہ ۔۔۔ اس کا تجربہ یہ کہتا ہے ۔میرا تجربہ یہ کہتا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے مجھے ویسا نہیں کرنا چاہیے یہ اپنے آپ میں ایک غلط تجربہ ہے اگر آپ بدلاو چاہتے ہیں تو ان تمام تجربات سے اوپر اٹھنا ہوگا۔اور کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ آپ لوگوں کے لیے تجربہ اور ریسرچ بن جائیں۔
4۔ تربیت۔۔ اپنی ذات کی تربیت کیجیے اور اتنی اچھی تربیت کیجیے کہ لوگ آپ کو دیکھ کر اپنی اصلاح شروع کردیں۔
5۔ علم و نالج۔ صحیح علم اور نالج اکٹھا کیجیے کیوں کہ غلط علم غلط راستے کی طرف آپ کو ڈھکیل سکتا ہے۔
6۔ شخصیت کی نوع۔ types of personality.
7۔ فطرت nature..
آخری بات اور سب سے اہم بات یہ ہےکہ شروع کے پانچ مراحل وہ ہیں جسے ہم خود بدل سکتے ہیں۔ ہم سب کے اندر یہ طاقت ہے کہ اگر ان پانچوں میں کہیں کوئی کمی ہے تو ہم اسے درست کر سکتے ہیں اور جس دن ہم ان پانچ کو درست کرلیں ہمارا رویہ بدل جائے گا۔۔ لیکن آخر کے دو ہم نہیں بدل سکتے لیکن یہ بھی بدل جاتے ہیں اگر شروع کے پانچ بدل گئے۔۔

مدینہ ایجو کیشن ٹرسٹ کا ماسٹر پلان برائے طلبہ مدارس

مدینہ ایجو کیشن ٹرسٹ کا ماسٹر پلان برائے طلبہ مدارس
طلبہ مدارس بالعموم اور فارغین مدارس کو بالخصوص انگریزی زبان و ادب،کمپیوٹر، بقدر ضرورت انٹرنیٹ، میڈیا اور ٹکنیکل کورسیز و پروگرام کی تعلیم دینے کے لیے مدینہ ایجوکیشن ٹرسٹ، جولوہ آباد، کوڈرما نے پہلی بار ایک ماسٹرپلان ان کے لیے ترتیب دیا ہے۔جسے ولایتی سطح پر آنے والے وقتوں میں مختلف اداروں میں پہنچایا جائے گا۔ 
عنقریب اس کی پہلی اور مرکزی سینٹر کا اعلان کیاجائے گا۔
واضح رہے کہ الگ الگ صوبوں میں بھی اس کی مختلف شاخیں قائم کی جائیں گی۔ لیکن ابتداء میں یہ کام ضلع کوڈرما و نواح سے ہوتا ہوا صوبائی سطح پر کام کرےگا۔
آج کے زمانے میں وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کے لیےفضلائے مدارس کا انگریزی زبان و ادب اور کمپیوٹر کی تعلیم سے مزین ہونا بےحد ضروری ہے۔
اسی تقاضےکے پیشِ نظر ٹرسٹ نے فضلائے مدارس کے لیے اپنے اعتبار کا پہلا کورس “ڈپلوما اِن انگلش لینگویج اینڈ کمپیوٹر" ماہرین اسکالروں کی نگرانی میں ترتیب دیاہے۔ جسے سب سے پہلے ٹرسٹ کے تحت چل رہے ادارہ مدرسہ مدینة الرسول میں لانچ کیا جانا ہے۔ اور یہ کام ٹاسک رہائشی کوچنگ سینٹر اور قلندریہ پبلک اسکول کے تعاون سے پورا کیا جائے گا۔
۔دو سالہ اس کورس کو پڑھنے والے فضلائے مدارس معیاری انگریزی میں بولنے اور لکھنے پر قادر ہونے کے ساتھ جنرل اسٹڈیز اور کمپیوٹر سائنس میں بھی جہاں قابلِ قدرمقام حاصل کریں گے وہیں وہ اپنی زندگی کو معیاری بھی بنا سکیں گے۔

"ویلن ٹائن ڈے "

"ویلن ٹائن ڈے "
مغربی تہذیب نے بہت سے بے ہودہ رسوم و رواج کو جنم دیا۔ اوربدتہذیبی اور بد کرداری کے نئے نئے طریقوں کو ایجاد کیا۔جس کی پلیٹ میںاس وقت پوری دنیا ہے اور بطور خاص مسلم معاشرہ اس کی فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتے جارہا ہے۔ مختلف عنوانات سے دنوں کو منانے اور اس میں رنگ ریلیاں رچانے کے کلچر کو فروغ دینا شروع کیا۔اور اس کی آڑ میں بہت سی خرافات و اہیات اور بد اخلاقی و بے حیائی کو پھیلانے لگے۔چناں چہ ان ہی میں ایک 14 فروری کی تاریخ ہے جس کو ’’یوم عاشقاں ‘‘یا ’’یوم ِ محبت ‘‘کے نام سے منانا جاتا ہے اور تمام حدوں کو پامال کیا جاتا ہے۔ بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہر ہوتا ہے۔ اور تہذیب وشرافت کے خلاف کاموں کو انجام دیا جاتا ہے۔ اور ناجائز طور پر اظہار محبت کے لئے اس دن کاخاص اہتما م کیا جاتا ہے۔ چند سال قبل یہ لعنت اس درجہ ہمارے معاشرہ میں عام نہیں تھی لیکن اب رفتہ رفتہ نوجوان طبقہ اس کا غیر معمولی اہتمام کرنے لگا ہے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء وطالبات میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے اور گویا کہ یہ دن ان کے لئے دیگر تمام دنوں سے زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا کیوں کہ اس دن وہ اپنی آرزو کی تکمیل اور اپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں اور غیر شرعی و غیر اخلاقی طورپر محبت کا راگ الاپ سکتے ہیں۔جب کہ شرعی اور اخلاقی نیز معاشرتی اعتبار سے اس کی بہت ساری خرابیاں اور مفاسد ہیں لیکن ان تمام کو بالائے طاق رکھ کر جوش ِ جنوں اور دیوانگی میں اس دن کو منانے کی فکروں میں اضافہ ہی ہوتے جارہا ہے۔آئیے اس کی حقیقت اورتاریخ کو جانتے ہیں تاکہ اس لعنت سے مسلم نوجوانوں کو بچایاجا سکے۔
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت
ویلنٹائن ڈے کے بارے میں بہت سے اقوا ل ہیں، اس کی ابتداء کے لئے کئی ایک واقعات کو منسوب کیا جاتا ہے۔ جن میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ :سترھویںصدی عیسوی میںروم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ایک راہبہ کی محبت میں مبتلا ہوگیا، چوں کہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا، اس لئے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات بھی قائم کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جا ئے گا۔راہبہ نے اس پر یقین کرلیا اور دونوں نے سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموما ہوا کرتا ہے یعنی ان دونوں کو قتل کردیا گیا۔ کچھ عرصے بعد چند لوگوں نے انھیں محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا اور ان کی یاد میں یہ دن مناناشروع کردیا۔( ویلنٹائن ڈے :7)
بعض کے نزدیک یہ وہ دن ہے جب سینٹ ویلنٹائن نے روزہ رکھا تھا اور لوگوں نے اسے محبت کا دیوتا مان کر یہ دن اسی کے نام کردیا۔ کئی شرکیہ عقائد کے حامل لوگ اسے یونانی کیوپڈ( محبت کے دیوتا ) اور وینس ( حسن کی دیوی ) سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ لوگ کیوپڈ کوویلنٹائن ڈے کا مرکزی کردار کہتے ہیں جو اپنی محبت کے زہر بھجے تیر نوجوان دلوں پر چلاکر انہیں گھائل کرتا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔( پادریوںکے کرتوت:285)اور بعض نے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے حوالہ سے یہ بھی لکھا ہے کہ:سینٹ ویلنٹائن ڈے کو آج کل جس طرح عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جارہا ہے یاویلنٹائن کارڈ بھیجنے کی جو نئی روایت چل پڑی ہے اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق یاتو رومیوں کے دیوتا لوپرکالیا کے حوالہ سے پندرہ فروری کو منائے جانے والے تہوار بار آوری یا پرندوں کے ایام اختلاط سے ہے۔ (ویلنٹائن ڈے، تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں: 40)
واقعہ بہر حال جو بھی ہو اور جس مقصد کے لئے بھی اس کا آغاز کیا گیا ہو لیکن آج اس رسم ِ بد نے ایک طوفان ِ بے حیا ئی برپا کردیا۔ عفت و عصمت کی عظمت اور رشتہ ٔ نکاح کے تقد س کو پامال کردیا۔ اور نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں میں آزادی اور بے باکی کو پیدا کیا۔ معاشرہ کو پراگندہ کرنے اور حیا و اخلاق کی تعلیمات، اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ بر سرعام اظہار محبت کے نت نئے طریقوں کے ذریعہ شرم و حیا،ادب وشرافت کو ختم کرڈالا۔اس کی وجہ سے جو نہایت شرمناک واقعات رونماں ہورہے ہیں اور تعلیم گاہوں اور جامعات میں جس قسم کی بے حیائی بڑھتی جارہی ہے اس کے لئے بعض قلم کاروں نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں ( اوپر حوالے میں جن کتابوں کے نام ہم نے پیش کئے اس کا مطالعہ بھی کافی ہے ) تاکہ اس بے ہودگی سے نوجوان نسل کو روکا جاسکے۔
ویلنٹائن ڈے کی تباہیاں
ویلنٹائن ڈے نے پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بے دردی کے ساتھ بد امن اور داغ دار کیا ہے۔ اخلاقی قدروںکو تہس نہس کیا ہے، اور رشتوں، تعلقات، احترام، انسانیت تمام چیزوں کو پامال کیا ہے۔ لال گلاب اور سر خ رنگ اس کی خاص علامت ہے، پھول کی تقسیم اور اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ کا تبادلہ بھی اظہارِمحبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بڑی پیمانے پر اس کی تجارت ہوتی ہے اور ہوس پرست اس کو منھ بولے دام میں خریدتے ہیں۔ منچلوں کے لئے ایک مستقل تفریح کا سامان بن گیا۔ ویلنٹاین کی جھوٹی محبت کا انجام کیا ہوتا ہے اس کو مختصر جملوں میں بیان کیا کہ:٭عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا، محبت کی شادمی کا دردناک انجام، خاوند کے ہاتھوں محبوبہ کا قتل۔ ٭عشق کی خاطر بہن نے بھائی کا قتل کردیا۔٭محبوبہ محبوب سمیت حوالات میں بند۔٭محبت کی ناکامی پر دوبھائیوں نے خود کشی کرلی۔٭محبت کی ناکامی نوجوان ٹرین کے آگے گود گیا، جسم کے دوٹکڑے۔٭ناکام عاشق نے لڑکی کو والدین چچا اور ایک بچی سمیت قتل کرڈالا۔یہ وہ اخباری سرخیا ں ہیں جو نام نہاد محبت کی بناپر معاشرتی المیہ نبی آئے روز اخبارات کی زینت بنتی جارہی ہیں۔( ویلنٹائن ڈے، تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں :119)
آخری بات
یہ وہ تلخ حقائق اورویلنٹائن ڈے کی تباہ کاریوں کی ایک مختصر روداد ہے،جس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے عنوان سے پوری دنیا میں کیا تباہ مچائی جاتی ہے اور کس طرح ایمان و اخلاق سے کھیلاجاتا ہے،معاشرہ کو بے حیا بنانے اور نوجوانوں میں بے غیرتی اور بے حیائی کو فروغ دینے میں اس دن کی کیا تباہیاں ہیں، اس حقیقت سے کسی عقل مند اور سلیم المزاج انسان کو انکار نہیںہوسکتا کہ اس وقت پوری دنیا میں بے حیائی کو پھیلانے اور بدکاری کو عام کرنے کی منصوبہ بند کوششیں ہورہی ہیں، نوجوانوں کو بے راہ رو کرنے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں سے جذبہ ٔ ایمانی کو کھرچنے اور حیا واخلاق کے جوہر سے محروم کردینے کے یہ دن اور اس طرح کے بہت سے حربے اسلام دشمن طاقتیں استعمال کررہی ہیں۔امت ِمسلمہ کے نوجوانوں کو ان تمام لغویات اور واہیات قسم کی چیزوں بچنا ضروری ہے، اور معاشرہ کو پاکیزہ بنانے اور اخلاق وکردار کو پروان چڑھانے کے لئے اس طرح کے بے حیائی کو فروغ دینے والے دنوں کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے، اور ا س کے بالمقابل اسلام کی حیا کی پاکیزہ تعلیمات کو عام کرنے سکولوں،کالجوں، یونیورسٹیوں کے ماحول میں بالخصوص اور نوجوان اپنے افراد واحباب اور دوستوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ اس دن کو حیا کا دن منانے اور حیا کو عام کرنے کی ترغیب دینے کا دن بتانے کی کوشش کریں۔ ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچائیں جو کسی بھی اعتبار سے معاشرہ میں بے حیائی کے پھیلنے کا ذریعہ بنے اور دنیا والوں کو اسلام کی بلند ترین تعلیمات کا خوبصورت نمونہ پیش کرنے والے بنیں۔

بڑا آدمی کیسے بنا جائے؟

بڑا آدمی کیسے بنا جائے؟
ایک دن پروفیسر صاحب سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا: ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘
پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا: ’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘
بچے کا اگلا سوال تھا: ’’کیسے؟‘‘
پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر
دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘
پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘
دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا
اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (Skill) لکھا۔
بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا:
ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘
پہلا زینہ محنت ہے.
آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے.
آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘
آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔
پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".
اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.
ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے.
وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔
آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘
زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘
تم ایماندار ہو جاؤ گے۔
کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے.
آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.
اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے.
آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا.
"آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.
پروفیسر نے بچے کو بتایا۔
’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں.
لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔
آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘
ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا'
آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔
پروفیسر نے بچے کو بتایا۔
"میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘
کیوں؟
کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی'
اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘-
’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو، تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں ؟؟؟؟

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کراچی کی مثال لے لیں جہاں 2010 میں طلاق کے40410کیسسز رجسٹرڈ ہوئے ۔ 2015 میں صرف خلع کے 13433 سے زیادہ کیسسز نمٹائے گئے ۔ پنجاب میں 2012 میں 13299 ، 2013 میں 14243 ، 2014 میں 16942 جبکہ 2016 میں 18901 صرف خلع کے مقدمات کا فیصلہ دیا گیا ۔ چئیرمین آربیٹریشن کونسل اسلام آباد کے مطابق صرف لاہور شہر میں 2017 میں خلع کے واقعات 18901 سے بڑھ کر 20000 تک پہنچ گئے ۔ آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی ۔ یہ میرے نہیں سیشن کورٹ گجرانوالہ کے الفاظ ہیں ۔ آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق محض 10 مہینوں میں 12913 خلع کے مقدمات تھے ۔ صرف ستمبر کے مہینے میں گجرانوالہ شہر میں 2385 خلع کے مقدمات آئے ۔ آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 5000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 3000 ” لو میرجز ” تھیں ۔ پاکستان کے دوسرے بڑے اور پڑھے لکھے شہر میں روزانہ اوسط 150 طلاقیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔ یہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے ۔ عرب ممالک میں طلاق و خلع کا اوسط تو کئی یورپی ممالک سے بھی گیا گذرا ہے ۔ اس سے انکار نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سارے واقعات میں عام طور پر سسرال والوں کا لڑکی سے رویہ اور شوہر کا بیوی کو کوئی حیثیت نہ دینا بھی اصل وجوہات ہیں لیکن آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں ایک دارالافتا میں ایک خط آیاجس میں شوہر نے لکھا تھا کہ ” رات آنکھ کھلی تو بیوی بستر پر نہیں تھی ، بیڈروم سے باہر آیا تو صوفے پر لیٹی موبائل میں مصروف تھی ۔ اب وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے اور ہمارا ایک بچہ بھی ہے “۔ میں نے خود یہ واقعات سنے ہیں کہ شوہروں کے پیچھے عورتوں نے ان کی امانت میں خیانت کی ہے ۔ نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔ ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔ لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔ آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔ یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے ۔ حضرت عمر نؓے فرمایا ” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔ قربانی ، ایثار ، احسان ، درگذر ، معافی ، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔ کمال تو یہ ہے کہ ان جوڑوں کی طلاق زیادہ جلدی ہوجاتی ہے جو ” جوائنٹ فیملی ” میں نہیں رہتے ہیں ۔ مصر میں عبد الفتاح سیسی جیسا حکمران تک طلاقوں سے پریشان ہے ۔ کیونکہ مصر میں 40 فیصد شادیاں اگلے پانچ سالوں میں طلاق کی نذر ہوجاتی ہیں ۔ جنرل اتھارٹی برائے شماریات کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ہر ایک گھنٹے میں پانچ طلاقیں ہوتی ہیں ۔ جبکہ عرب نیوز کے مطابق 2016 میں 157000 شادیوں میں سے 46000 کا انجام طلاق کی صورت میں ہوا ہے ۔ خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔ محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔ سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔ پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔ لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔ یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔ مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔ لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔ بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔ زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔ خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔ خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔ یاد رکھیں مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔ ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اوریہی اسلام کی منشاء ہے ۔

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...