Thursday, July 31, 2025

وقف بل کے بعد جذباتی رد عمل

 وقف بل کے بعد جذباتی ردعمل اور حقیقی تجزیہ

1. جذباتی ردعمل:

- وقف بل کے پاس ہونے پر کئی افراد نے غصے، ناراضگی، اور سیاسی لیڈروں (نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو وغیرہ) پر الزامات کا اظہار کیا۔

- بعض افراد نے انہیں "غدار" تک کہا۔


2. سوال: اصل غدار کون؟

- اصل غدار وہ نہیں، بلکہ *ہم خود* ہیں، جنہوں نے اپنے وسائل کا مؤثر استعمال نہیں کیا۔


3. وقف: ایک عظیم وسائل، مگر غیر استعمال شدہ:

- *وقف کی کل اراضی:* تقریباً *6 لاکھ ایکڑ*  

  *(ماخذ: Sachar Committee Report, 2006)*

- *وقف جائیدادیں:* 5 لاکھ سے زائد


 ہم وقف کی مدد سے بنا سکتے تھے:

- ہزاروں اسکولز

- سینکڑوں ہسپتال

- درجنوں یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز

- خواتین و بزرگوں کے لیے فلاحی مراکز

- ہاسٹلز اور ہنر سازی کے ادارے


4. تعلیمی و سماجی پسماندگی کے اعداد و شمار:


- *اعلیٰ تعلیم میں مسلم نمائندگی:* صرف *4 فیصد سے بھی کم*  

  *(ماخذ: Ministry of Education, GoI & NSSO)*

  

- *6-14 سال کے مسلم بچوں کی تعلیمی حالت:*  

  تقریباً *25 فیصد* بچے اسکول سے باہر یا اسکول چھوڑ چکے  

  *(ماخذ: Sachar Committee Report)*


- *مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ:* *3 فیصد*  

  *(ماخذ: Sachar Committee Report)*


- *شہری غربت کی شرح:* *38.4 فیصد*  

  جو کہ *SC/ST سے بھی بدتر* ہے  

  *(ماخذ: NSSO, 2011-12)*


5. تعلیمی اداروں کی موجودہ حالت:


- ہندوستان میں *ایک بھی وقف فنڈ سے چلنے والا* ایسا میڈیکل کالج نہیں جو غریب مسلم طلباء کو *سبسڈی کے ساتھ MBBS* تعلیم دے۔

- موجودہ مسلم پرائیویٹ کالجز عام کالجوں کی طرح *بھاری فیس* لیتے ہیں۔

- شمال و جنوب کے اکثر مسلم ادارے فیس کے معاملے میں قابل دسترس نہیں۔


6. ناکامی کی وجوہات:

- *70 فیصد وقف اراضی پر قبضہ یا غلط استعمال*  

  *(ماخذ: Times of India, 2021)*

- *وقف بورڈز میں بدعنوانی اور سیاسی اثرورسوخ*

- کوئی *اسٹریٹجک منصوبہ بندی* یا اجتماعی وژن موجود نہیں

- کوئی *احتساب* کا نظام نہیں


7. دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت:

- *عیسائی برادری:* CMC Vellore جیسا ادارہ - عالمی معیار اور کم خرچ

- *سکھ، جین کمیونٹیز:* ہاسٹل، تعلیمی ادارے، ہسپتال کامیابی سے چلاتے ہیں


8. ہماری حالت؟

- ہم بحث کرتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہیں کرتے۔

- ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہم پیچھے رہ گئے، مگر *اپنے ہی وسائل کو ضائع کر بیٹھے*


9. *وقف: ایک زمین نہیں، ایک لائف لائن، ایک امانت* 

وقف صرف چند ایکڑ زمین یا جائیداد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی فریضہ، ایک سماجی لائف لائن، اور اللہ کی ملکیت ہے۔ اس پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل عالم اسلام کے ایک مقدس عمل پر حملہ ہے۔


آج، وقف کی اس قیمتی میراث پر اسلام دشمن اور ملک دشمن عناصر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جیسے بھارت کے بدھ مت کے ماننے والوں نے بدھ بہار کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی، ویسے ہی وقف کے تحفظ کی لڑائی بھی بین الاقوامی سطح پر لڑی جائے۔ کیونکہ یہ حملہ صرف ایک خاص قوم یا علاقے پر نہیں، بلکہ اللہ کی اس ملکیت پر ہے جو پوری امت مسلمہ سے جُڑی ہوئی ہے۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سیاسی، سماجی، اور عوامی ہر سطح پر اپنے وجود اور غیرت کا ثبوت دیں۔ نسل نو کو بیدار کرنا ناگزیر ہے۔ یہ لڑائی اگر قیامت تک بھی جاری رکھنی پڑے تو رکنی نہیں چاہیے، کیونکہ یہ کسی فرد کی ملکیت کی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی امانت کی بات ہے۔ اور اللہ کی امانت کے لیے اہل ایمان کو کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

 *یہ وقت ہے خود احتسابی کا* 

صرف کھانے، سونے اور شکایت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

ہمیں سوچنا ہوگا، منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔


آئیے مل کر ملک کی دیگر اقلیتوں کی طرح ہم بھی اپنی لڑائی خود لڑیں اور بیساکھیوں کا سہارا لینا بند کریں۔


خیر اندیش ۔ محمد شہادت حسین فیضی۔

کیا علماء کا وقار انحطاط پذیر ہے

 *کیا علماء کا وقار انحطاط پذیر ہے؟* 

(تیسری اور آخری قسط)

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں

خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں

اپنے ایک دیئے کو چاند بتانے کے لیے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

دُنیا اور دُنیا کے لوگوں سے ڈر اور خوف جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خود غرضی یہ سب انسانیت اور انسانوں کے لیے ہلاکت خیز بیماریاں ہیں۔ جس کی تباہی و بربادی سے دو چار ہو کر ہم *انحطاط پذیر* ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے زخموں اور مجروح اعضاء پر یہ کہہ کر نمک پاشی کی جاتی ہے کہ یہ ہمارے رہبر اور رہنما ہیں۔ ہمارے امام ہیں اور مدارس کے معلمین ہیں۔ دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور کیسے کر رہے ہیں؟


وہ ذوی الاحترام عہدے، منصب اور القابات جو ہمارے اسلاف کے لیے کبھی شان و عظمت کی علامتیں ہوا کرتی تھیں، آج ہمارے لیے طعن و تشنیع اور ضرب المثل کے الفاظ ہو گئے ہیں۔ مثلاً:


1۔اسٹیج سے لڑائی جھگڑے کے انداز میں ناسمجھ میں آنے والی گرجدار اور کریہہ آواز جب شریفوں اور بیماروں کے کانوں سے ٹکراتی ہیں۔تو بس صرف ان کی آه ہی نکلتی ہے اور طنز سے کہتے ہیں کہ وہ دیکھو یہ فلاں علامہ ہیں جو قوم و ملت کو دھوکا دے رہے ہیں۔


2۔رنگ برنگ کی ٹوپی اور کرتا کے ساتھ جب گویوں اور جوکروں کی ٹولی جو کسی نہ کسی مدرسے کی علامتی تخلص کے ساتھ گھنٹوں ممبر رسول کی حرمت پامال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی تعلیم یافتہ شریف لوگ اور دین و سنت کو سیکھنے کی نیت سے آنے والے حضرات یہ کہہ کر رخصت ہونے لگتے ہیں کہ جو وعظ و نصیحت سننے کا وقت تھا وہ تو برباد ہو گیا، اب یہاں کیا رکھا ہے؟


3۔کيا، یہ صحیح نہیں ہے؟ کہ ہم اپنی غلط روی کی وجہ سے منزل سے بہت دور ہو گئے ہیں؟ ہاں، یہ بھی صحیح ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کی دنیا چمک رہی ہے، لیکن آخرت کے لیے ان کے پاس بھی کچھ نہیں ہے ۔وہ کون سی عبادت و ریاضت اور دین و سنت کی خدمات ہیں جو ریا و سمہ سے پاک ہیں؟ جو خالصتاً لوجہ اللہ ہے؟


واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی


برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی


رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی نہ رہی


فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی


جلسوں کی روحانیت ختم ہو گئی۔ صرف تماشہ، ریاکاری، مکاری رہ گئی ہے، العیاذ باللہ۔ الا ماشاء اللہ۔


اپنے ایک دیئے کو چاند بتانے کے لیے


بستی کا ہر ایک چراغ بجھانا پڑا ہمیں


جلیل ہادی صاحب کا یہ شعر جب میں پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ شعر ہم لوگوں کے لیے ہی لکھا تھا۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے ؟کہ ہم صرف اپنے ایک مدرسہ کو عظیم جامعہ (یونیورسٹی) اور بین الاقوامی سطح کا ادارہ بتانے کے لیے سینکڑوں مدارس کے پڑھائے ہوئے بچوں کو ہائی جیک کر کے داخلہ لیتے ہیں اور پھر ان بچوں کو اپنا پڑھایا ہوا طالب علم کہہ کر قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارا اور ہمارے ادارے کی شہرت و نامواری ہو۔ شاید ہم ایسا کر کے ان سيکروڑوں مدارس کا گلا گھوٹ رہے ہوتے ہیں، جو سو دو سو روپے کا چندہ کر کے انتہائی جانفشانی کے ساتھ کم وسائل میں بھی دین و سنت کی خدمت کر رہے ہیں۔


اور ٹھیک ایسا ہی ہم میں سے جو بڑے ہیں، خواہ وہ بڑے علمائے کرام، مدارس کے معلم ہوں یا شاعر و خطیب ہوں یا امام مسجد۔ ہم صرف ایک اپنی ذات کو چمکانے کے لیے اور خود کو فقیہ اعظم، مرشد اعظم یا شاعر اسلام اور خطیب اعظم بنا کر پیش کرنے کے لیے کبھی کسی کے جاسوسی کرتے ہیں، عیب جوئی کرتے ہیں اور پھر غیبت اور بہتان تراشی کر کے، کسی کو صلح کلی، کسی کو فاسق، گمراہ اور کافر و مرتد تک کہہ دیتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ، العیاذ باللہ۔


علامہ اقبال کے یہ اشعار بھی شاید ہمارے لیے ہی ہے۔


گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا


کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ


اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک


نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ


یا اللہ! اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے ہم سب کو ان موذی اور مہلک امراضِ ہوا و ہوس سے شفاء عطا فرما۔ ہم سب کو اخلاص و لِلّٰہیت کے ساتھ دین و سنت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بے شک تو ستار و غفار ہے اور کارساز و مالک ہے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔


 *محمد شھادت حسین فیضی* 

                              +91 94315 38584

مادر وطن میں مذہبی تعلیم اور اس کے اثرات

ہندوستان میں سینکڑوں مذاہب و مسالک ہیں۔گوناں گوں تہذیب و ثقافت اور زبانیں ہیں۔ ان میں ہندو، مسلم، سکھ ،عیسائی اور جین یہ پانچ مذاہب مشہور و معروف ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے درجنوں اور سینکڑوں فرقے ہیں۔ چونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اس لیے ہر ایک کو یہاں اپنے اپنے مذہب و مسلک اور فرقے کی تبلیغ و اشاعت کا حق حاصل ہے اور دستور اس کی آزادی دیتا ہے۔ اس میں سب سے بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہے، جس میں ہزاروں ذات، برادریاں اور فرقے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی، متحرک اور جامع تنظیم آر ایس ایس ہے جو بادل ناخواستہ ہی سہی تمام ذات برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتی ہے اور کوشش بھی کرتی ہے۔ ان کا نقطہ اتحاد ہندوتواد، ہندوازم یا سناتن ہے۔ جس میں وہ آج کافی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ یہ جماعت آج بھاری اکثریت کے ساتھ سینٹرل حکومت میں بھی ہے اور راجدھانی کی ریاستی حکومت میں بھی۔ یہ عدلیہ اور انتظامیہ میں نیچے سے اوپر تک ہر عہدوں پر ہندوتوادی وچار دھارا کے ساتھ مضبوط گرفت بنائے ہوئے ہیں۔ موجودہ وقت میں وہ اس قدر حاوی ہیں کہ اپنی پسند کے مطابق قانون بھی بناتے ہیں اور انتظامیہ اور عدلیہ کے ذریعے اسے نافذ بھی کرتے ہیں بلکہ جمہوریت کے چوتھے کھمبے پر چڑھ کر اپنے نظریات کا برملا اظہار اور اس کا پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی بھی مفاد کی من مانی توضیح و تشریح کے ساتھ اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔ عدالتوں سے اس کو قانونی جامہ پہناتے ہیں۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ آج عدالتیں ان کے حساب سے فیصلہ سناتی ہیں اور ملک کی دونوں ایوانیں ان کے اشاروں پر ناچتی ہیں۔ یہ آج کے ہندستان کی وہ حقیقت ہے جسے سیکولر ملک کی حکومت خود ہی چینخ چینخ کر بڑی بے شرمی اور دیدہ دلیری کے ساتھ خود ہی بیان کرتی ہے۔ اس کی سیکڑوں مثالیں آپ کو صرف گزشتہ ایک دہائی میں ہی مل جائیں گی۔ میرے عزیزو ، 2011 کی مردم شماری کے مطابق اس ملک میں ہندو – تقریباً 79.8% (تقریباً 96 کروڑ) ہیں، مسلمان – تقریباً 14.2% (تقریباً 17 کروڑ) ہیں، عیسائی – تقریباً 2.3% (تقریباً 2.9 کروڑ) ہیں ، سکھ – تقریباً 1.7% (تقریباً 2 کروڑ) ہیں، بدھ مت کے پیروکار – تقریباً 0.7% (تقریباً 85 لاکھ)، جین مت کے پیروکار – تقریباً 0.4% (تقریباً 45 لاکھ) ہیں، جبکہ دیگر مذاہب اور غیرمذہبی لوگ – تقریباً 0.9% ہیں۔ 

ملک میں دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں ملک کی دوسری اور تیسری سب سے بڑی اقلیت عیسائیوں اور سکھوں کی ہے، جو مسلمانوں کے مقابلے میں تعداد میں بہت کم ہیں لیکن تعلیم و تجارت میں یہ لوگ بہت آگے ہیں۔

 2019 کے عام انتخابات (17ویں لوک سبھا) میں مسلمان ایم پی 27 (تقریباً 5%)، جبکہ آبادی میں ان کا تناسب 14.2% ہے۔ عیسائی ایم پی 6-7 (تقریباً 1.2%)، جبکہ ان کی آبادی کا تناسب 2.3% ہے۔سکھ ایم پی 13 (تقریباً 2.4%)، جبکہ سکھ آبادی 1.7% ہے، اسی طرح ریاستی سطح پر دیکھیں تو ریاستی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی موجودگی مختلف ریاستوں میں مختلف ہے۔ لیکن ان میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔ اتر پردیش میں تقریباً 17% مسلمان ہیں، لیکن اسمبلی میں ان کا تناسب 6-8% کے قریب رہتا ہے۔بہار میں مسلم آبادی 16%، جبکہ نمائندگی 7-9%۔مغربی بنگال میں مسلم آبادی 27%، لیکن نمائندگی 15-18% کے درمیان ہے، گو کہ ہندوستان میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر کمیونٹیز کی سیاسی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے، لیکن ان میں مسلمانوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ عیسائیوں اور سکھوں کے پاس اپنی لیڈرشپ ہے اور ان کے ایم پی اور ایم ایل اے کافی مضبوط پاورفل ہیں۔ وہ انتظامیہ اور عدلیہ میں بھی اپنا بھاری وجود رکھتے ہیں۔ یہ لوگ مذہبی معاملات میں بھی میری ناقص رائے کے مطابق (باطل عقائد رکھنے کے باوجود) اپنے مذہب و کلچر کے حوالے سے مسلمانوں سے کہیں زیادہ پختہ ہیں اور اپنی مضبوط مذہبی شناخت بھی رکھتے ہیں۔ سکھ ہے تو سر پہ پگڑی ہوگی اور عیسائی ہے تو گلے میں نشان صلیب لازماً ہوگا۔ یہ اپنی شناخت کے ساتھ اس قدر منصف ہیں کہ رائٹ ونگ ہندوتوادی حکومت بھی ان کے پرسنل لاء اور مذہبی شعار میں مداخلت سے ڈرتی ہے ، ان کے خلاف یا ان کے مذہبی اداروں یا ثقافتی ورثوں کے خلاف کسی بھی طرح کا اقدام کرنے سے کوسوں دور رہتی ہے۔ ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ ہندؤں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آر ایس ایس اور ہندستان کی تین چھوٹی اقلیتیں سکھ عیسائی اور جین کے کامیابی کے راز کیا ہیں؟

قیامت کی دو اہم نشانیاں

دین اسلام میں ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اعتدال کو بنیادی صفات قرار دیا گیا ہے۔ شریعت نے ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں کو اہمیت دی ہے، لیکن بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی عمل کی اصل قدر و قیمت اس کی نیت، اخلاص اور ترجیحات میں توازن کے ساتھ ہے۔ یہی اصول مساجد کی تعمیر و تزئین اور دیگر دینی امور میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔


حسنِ تعمیر اور زیبائش خود شریعت میں ممنوع یا ناپسندیدہ نہیں، بلکہ جب معاشرہ اپنے فرائض، دین کی ضروریات اور اصل تقاضوں کی تکمیل کر رہا ہو تو ایسے مستحب اور تزئینی کام باعثِ اجر و سعادت ہیں۔لیکن یہ اس وقت متوازن ہے جب کمیونٹی کی اصل دینی فرائض ،اخلاقی اور تعلیمی ضروریات اور ترجیحات پسِ پشت نہ ڈال دی جائیں۔ مثال کے طور پر، اگر نمازیوں کی تعداد کم ہے، ائمہ و مؤذنین کی ضروریات اور حقوق پورے نہیں ہو رہے، غریب و نادار مسلمانوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا، دینی تعلیمات کمزور ہیں اور اصلاحِ اخلاق پر محنت نہیں ہو رہی تو محض ظاہری خوبصورتی پر زور دینا ہرگز مناسب نہیں۔


سیرتِ نبوی ﷺ پر غور کریں تو یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ تشکیل دیا تو سب سے پہلی توجہ شخصیت سازی، عدل و انصاف کے قیام اور اخلاق کی اصلاح پر دی۔ حضورِ اکرم ﷺ کو اقتدار و اختیار ملا، مگر آپ نے نہ کبھی عالی شان محل بنایا، نہ شاہی انتظامات قائم کیے، نہ حکومتی اندازِ حکمرانی کے دنیاوی پیمانے اپنائے۔ مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر بھی سادگی کا نمونہ تھی، اور اس کی چھت کھجور کی پتیوں سے بنی تھی۔ سہولت اور سادگی کا یہ منظر خود احادیث میں محفوظ ہے۔


عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قال:  

جَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ حَتَّى سَالَ السَّقْفُ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ  

(صحيح البخاري: ٦٣٨)

ترجمہ: ایک بادل آیا اور بارش ہوئی، حتی کہ مسجد کی چھت (جو کھجور کی شاخوں کی بنی تھی) ٹپکنے لگی۔ نماز قائم ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا، حتی کہ آپ کی پیشانی پر کیچڑ کا نشان دیکھا۔


عن عبدِ اللهِ بنِ أنيسٍ رضي الله عنه قال:  

أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأُرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ  

(صحيح مسلم: ١١٦٨)


قال أبو سعيد:  

فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ  

(السُّنن الكبرى للبيهقي: ٢٦٥١)

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی، اور اس کی صبح میں مجھے پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تیئسویں رات بارش ہوئی، آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، اور جب واپس لوٹے تو پیشانی اور ناک پر پانی و کیچڑ کے نشان تھے۔


بابُ تَرْكِ مَسْحِ الْجَبْهَةِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ  

(السُّنن الكبرى للنسائي: ١١٣٦)


ان تمام روایات سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اصل توجہ ظاہر پر نہیں، بلکہ عبادت میں خشوع، سادگی اور اخلاص پر دی۔ مسجد کی ظاہری تزئین اگر اصل مقصد اور ضرورتوں کے بعد ہو تو باعثِ اجرہے؛ بصورتِ دیگر یہ ترجیح دینا باعثِ نقصان و محرومی بھی بن سکتا ہے۔


حالاتِ حاضرہ خصوصاً بھارتی دیہی مسلمانوں کے ماحول میں مشاہدہ کیا جائے تو تعمیراتِ مساجد، مینار و محراب کی زیبائش اور دوسری طرف دین کے نام پر بے سود جلسے اور اعراس پر بہت مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں؛ جبکہ راست دینی اور اصلاحی مقاصد اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔مستحب امور پر اس قدر زور و شور ہے کہ فرائض اور ضروریات کمزور یا نظرانداز ہو چکے ہیں۔


یہ صورتحال نبی اکرم ﷺ کے اس تربیتی اسلوب سے مختلف ہے جہاں مسجد کی تعمیر سے بڑھ کر نمازیوں کی تعمیر کو فوقیت دی گئی۔ روحانی صفائی، اجتماعیت، تعلیمِ قرآن، اخلاقِ فاضلہ ، قیام عدل و انصاف،  تعلیم و تدریس اور تربیت کے شعبے ترجیحات میں رہے ہیں۔


اب اس ضمن میں علماء و مفتیان کرام سے نہایت ادب سے سوال ہے کہ  

اگر کوئی ایک سادہ مٹی کی مسجد ہو، دوسری مضبوط سیمنٹ کی، تیسری عالی شان قالین و سنگ مرمر اور قمقموں سے آراستہ ہو، تو سب سے زیادہ فضیلت کس میں؟  


ناچیز کی رائے میں تو اصل فضیلت اس جگہ ہے جہاں خلوص، عاجزی، جماعت کا اہتمام، قلبی خشوع اور فقر کا اثر ہو۔ جس جگہ سجدے کا نشان پیشانی پر باقی رہ جائے، جیسا کہ "من أَثَرِ السُّجود" سے بھی اشارہ ملتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ان نمازیوں کے لیے جن کی پیشانی پر سجدے کے غبار ہوں، جب تک غبار ہو، فرشتے ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔

 *دوسری غلط ترجیح* 

دوسری طرف، ہمارے معاشرے میں بے سود  جلسے، جلوس اور اعراس جیسی رسوم زیادہ رائج ہو گئی ہیں بلکہ فرائض و ترجیحات پر غالب ہیں۔

ذرا اس عہدِ پر فتن کے رنگین دھوکے پر غور کیجیے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے علاقے میں ایک جلسہ ہوا، جس پر اندازاً دس لاکھ روپے بہا دیے گئے۔ غالباً یہ عظیم الشان منصوبہ اس طرح رچا گیا ہوگا کہ امام صاحب کے پاس ایک جوشیلے نوجوان نے آکر عرض کیا ہوگا: "حضور! ایک ایسا جلسہ ہونا چاہیے کہ پورے ضلعے میں گونج اٹھے، گاؤں کا نام روشن ہو جائے!" چنانچہ مقامی کمیٹی، امام صاحب، نوجوانانِ ملت اور قرب و جوار کے علما سب شریکِ مشورہ و مصرف ہوئے، طوعا کرھا ٹارگیٹڈ بجٹ سمیٹا گیا ہوگا۔ مقصد؟ بس نام، شہرت، تعریف اور داد! خطیب، نقیب، شاعر اور پیرانِ کرام ہر سُو سے آئے، لیکن نیتیں اکثراً "نذرانے" اور "لفافے" کی تھیں۔

سامعین بھی کچھ کم نہ تھے۔ مرد، عورتیں سب آئے، مگر جذبہ؟ صرف یہ کہ "فلاں صاحب کی تقریر سننی ہے"، یا "نعت کیسے پڑھتے ہیں دیکھیں!"

کاش کہ میرا یہ اندازہ غلط ہو! کاش کوئی ایک بھی ایسا نکلے جو اخلاص، للّٰہیت اور دین سیکھنے کے شوق سے آیا ہو۔ لیکن اگر یہ گمان درست ہے... تو پھر یاد رکھیے! وہ گھڑی قریب ہے جس کی خبر سرورِ کائنات ﷺ نے دی تھی *قیامت نزدیک ہے!*

 *حدیث پاک:*

يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ

(شعب الإيمان: ٣/٣١٧)

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا، قرآن میں صرف رسم و خط باقی رہ جائے گا، ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، انہی سے فتنہ پیدا ہوگا اور انہی میں واپس لوٹ آئے گا۔

اسی طرح:

السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ۔

(الکامل لا بن عدی)

سنت ان کے لیے بدعت اور بدعت ان کے لیے سنت بن جائے گی۔

ایک روایت ہے کہ؛ 

أَتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ هَمُّهُمْ بُطُونُهُمْ وَشَرَفُهُمْ مَتَاعُهُمْ وَقِبْلَتُهُمْ نِسَاؤُهُمْ وَدِينُهُمْ دَرَاهِمُهُمْ

(مسند الفردوس للديلمي)


یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگوں کی قدر و وقعت مال و دولت اور کھانے پینے تک محدود رہے گی، قبلۂ زندگی عورتیں ہوں گی اور دین فقط دنیاوی منفعت تک رہ جائے گا۔


ان سب مثالوں، احادیث اور معاشرتی پہلوؤں سے آج یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ  

تزئینِ مسجد و دینی عمارت و اعراس وغیرہ کوئی حرام یا مطعون کام نہیں، بلکہ اگر اصل دینی ترجیحات مضبوط ہوں تو یہ بھی باعثِ اجر ہیں، لیکن اگر فرائض اور ضروری حقوق نظرانداز ہو جائیں تو پھر یہ ترجیحات تبدیلی کی متقاضی ہیں۔


اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم شریعت کی اصل روح کو سمجھیں، اپنی ترجیحات کو درست رکھیں اور ظاہری کاموں کے ساتھ اصل دینی ضرورتیں، ایمانی صفائی اور معاشرتی فلاح کو کبھی نہ چھوڑیں۔ آمین۔


محمد شہادت حسین فیضی 

9431538584

Monday, January 18, 2021

زحمت،رحمت اور فطرت

*زحمت، رحمت اور فطرت*

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی جس کی بھلائی چاہتا ہے اس کو مصیبت میں مبتلا فرماتا ہے۔(بخاری: 843 / 2)

اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے کبھی کسی کو بغیر کسی آزمائش کے ہی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی آزمائشوں کے بعد کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث پاک میں ہے۔ یقینا آج پوری دنیا کے مسلمان ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہیں۔ اب اگر مسلمان ان حالات میں اپنے مصائب و مشکلات اور کٹھنائیوں کو اوسر  کے طور دیکھیں تو ضرور ایک شاندار کامیابی ہماری مقدر ہونے والی ہے۔بیشک ہرسختی کے بعد آسانی ہے.(الشرح:٦) 

اگر کوئی پریشان‌ حال ہے تو اسے آسانی کی امید‌ بھی رکھنی چاہیے.(البقرة:٢٨٠)

میں یہاں اس کی صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔

(1) *جنگ بعاث:-* 

جنگ بعاث ہجرت سے چار یا پانچ سال پہلے یثرب میں اوس و خزرج کے درمیان لڑی جانے والی اس جنگ کا نام ہے جس میں کثیر تعداد میں اوس و خزرج کے جوان اپنے بھائیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ عورتیں بیوہ ہوئیں اور بچے یتیم ہوئے۔ نیز اس آپسی جنگ نے معاشی طور پرانہیں اس قدرکمزور کیا کہ ان میں سے اکثر مفلسی کے شکار ہوگئے۔ اور اس جنگ کے بعد ان میں سے چھ لوگ جب حج کے لیے گئے تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت اس طرح پیش کی کہ "میں لوگوں کو ایک اللہ کے عبادت کی،اور اخلاق حسنہ کے ساتھ اتحاد و بھائی چارگی کی دعوت دیتا ہوں۔ کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے تو وہ پھر تمام مسلمانوں کا بھائی ہو جاتا ہے اور مسلمان آپس میں مل کر ایک مضبوط دیوار کی طرح ہیں اور ایک جسم کی طرح ہیں کہ تکلیف جسم کے کسی بھی اعضاء میں ہو، اس کا درد پورا جسم محسوس کرتا ہے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو سن کر ان لوگوں نے فورا اسلام قبول کرلیا۔ کیونکہ جنگ بعاث میں انہیں جو عظیم نقصانات ہوئے تھے اسلام میں انہیں اس کی تلافی نظر آئی۔ جبکہ جنگ بعاث سے پہلے انہی لوگوں کو حج کے موقع پر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جب اسلام کی دعوت پیش کی تھی،تو انہوں نے حقارت کے ساتھ اسلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔ اس لیے کہ اس وقت انہیں اسلام میں اپنی آزادی سلب ہوتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ گویا جنگ بعاث جس میں کافی جانی و مالی نقصانات سے وہ دو چار ہوئے تھے،بعد میں وہی ان کے لیے ایک عظیم کامیابی یعنی حصول ایمان کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد جس نعمت پر اوس وخزرج بہت زیادہ متشکر رہتے تھے وہ نعمت تھی صدیوں پرانی دشمنی کا ختم ہونا۔ اور ایک ترقی پذیر مذہب کا حصہ ہو کر شعور زندگی سے آگاہی اور سماجی وقار کا حاصل کرنا۔

(2) رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم کےوصال کے صرف پچیس سال بعد‌، آنے ولے تقریبا پانچ سالوں‌ میں  (یعنی 18 ذی الحجہ 35ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت  کے وقت سے لے کر 19 رمضان 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک) لگ بھگ ایک لاکھ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ جس میں ہزاروں صحابۂ کرام شامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد منہج نبوت پر گامزن خلافت راشدہ کے پچیس سالہ دور میں بشمول صحابۂ کرام کے مسلمانوں کی اکثریت دعوت و تبلیغ اور تحریک و جہاد کی جانب گامزن رہی۔ لیکن اس کے بعد کے پانچ سالوں میں ایک لاکھ مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہونا مسلمانوں میں ایک عظیم انقلاب برپا کر گیا۔ اس مصیبت کے نتیجے میں تعلیم یافتہ صحابۂ کرام میں ایک انقلاب پیدا ہوا اور انھوں نے سیکڑوں حفاظ و محدثین کی شہادت کو بے حد seriously لیا اور دن بدن علماء کے اٹھنے کی وجہ سے علم کے اٹھنے اور مٹنے کے خدشے نے انہیں بے چین کردیا اور انھوں نے علوم اسلامیہ کی تدوین و تحقیق اور تراث اسلامی کی حفاظت پر کمر کس لی۔اس کے لیے ہر طرف علمی و تحقیقی تحریک چلائی۔اس کے لیے مخصوص ادارے اور درسگاہیں قائم کی۔یہ تبدیلی اسلام کے لیے بے حد سود مند ثابت ہوا۔ محدثین و مفسرین اور فقہاء صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت نظام خلافت و حکومت اور سیاست سے الگ ہو کر تعلیم قرآن و تفسیر قرآن، تدوین احادیث اور تفہیم دین کے تعلق سے اپنی اپنی درس گاہیں قائم کیں۔ اور دوسری جانب تصنیف و تالیف اور مسائل کے استخراج و استنباط کا اہم کام شروع ہوا۔ آج دنیا کے پاس جو لاکھوں احادیث کا ذخیرہ، سیرت رسول، سیرت صحابہ اور دینی مسائل پر مشتمل جو بڑی بڑی اور ضخیم کتابیں ہیں یہ انہیں صحابۂ کرام کی مرہون منت ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوتے دیکھ کر جہاد و قتال اور حکومت و سیاست سے منہ موڑ کر اپنی پوری توانائی درس قرآن،درس حدیث اور خالص دینی و علمی کاموں میں صرف کردی۔ گویاجنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان جیسے جنگوں نے مسلمانوں کو وہ علمی سرمایہ فراہم کیا جس کی سخت ضرورت تھی۔ ایسی ہزاروں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن میں یہاں صرف ان دو مثالوں کے بعد مسلمانوں کو  درپیش مسائل وحالات کے تناظر میں ایک مثبت تجزیہ پیش کرتا ہوں۔

6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ہی ہمارے ملک میں مسلمانوں کے لیے مشکلات اور پریشانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے صرف ایک جہت سے نہیں بلکہ ہر چہار جانب سے اور مختلف ذرائع اور طریقوں سے مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کی توانائی کو آپسی تنازعات میں الجھا کر اور آپس میں لڑوا کر ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ دوسری جانب انہیں احتجاجی جلسہ و جلوس اور پھر کچھ سطحی وعدوں میں الجھا کر جدید عصری علوم سے دور رکھا گیا۔ گویا ہم اپنی تباہیوں کا علاج وقت اور سرمایہ کی بربادی سے کرتے رہے۔ اور جب ہماری حالات و حیثیت کی زمینی تحقیق سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ ہم ہریجن اور آدیواسی سے بھی معاشی اور تعلیمی طور پر بہت پیچھے ہو چکے ہیں۔ جبکہ صرف دو سو سال پہلے تک اسی ملک میں تقریبا آٹھ سو سالہ ہماری حکومت رہی ہے۔ جب ہم زمانے میں معزز تھے تو ہمیں زمانے میں معزز ہی رہنا چاہیے تھا کہ ہم مؤمن ہیں۔ لیکن ہم ذلیل و خوار کیوں ہیں؟ ہمارے قائدین کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

 مسلمانوں کو نہ خواندہ اور قلاش بنانے کے نئے نئے تجربے ہوتے رہے۔ اور ہم گھر، محلہ، گاؤں سے لے کر ملکی سطح اور پھر بین الاقوامی سطح پر ہر جگہ آپسی اختلافات کےفرسودہ موضوعات پہ مناظرہ،مباحثہ، سیمینار وغیرہ منعقد کرکے مزید منتشر ہوکر تباہ و برباد ہوتے رہے اور مرتے مٹتے رہے۔ یہاں تک کہ 2014ء میں کٹر مسلم مخالف اور جارح تنظیم آر ایس ایس کی حمایت سے بی جے پی کی حکومت قائم ہو گئی۔ جس نے سب سے پہلے ان لوگوں کے ذریعے جنہیں انہوں نے اپنے اسکولوں اور کوچنگوں کے ذریعےاعلی عہدے تک پہنچایا تھا۔ تمام آئینی اداروں کو اپنے شکنجے میں لیا۔اور پھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کو جائز ٹھہرانے کے لیے غیر قانونی و غیر انسانی قانون سازی کی تاکہ انتظامیہ اور عدلیہ کو مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ اس کے بعد احتجاج کرنے والوں اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو اس بے دردی کے ساتھ سلاخوں میں ڈالا گیا کہ عالمی برادری بھی چیخ اٹھی۔یہاں تک کہ مسلمانوں پر ظلم و استحصال کی مقابلہ آرائی ہو نے لگی کہ مسلمانوں پر جو زیادہ مظالم ڈھاتے ہیں انہیں اعزازات سے نوازا جانے لگا.

ان حالات پہ غور کرنے کے بعد اس حدیث کو ایک بار پھر سے پڑھیں۔ جس کو میں نے شروع میں بیان کیا ہے۔ کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اس کو مصیبت میں مبتلا فرماتاہے۔ ہم بے شمار مصائب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ تو کیا اب ہمارے لیے کامیابی کے راستے کھلنے والے ہیں؟ اور اللہ تعالی کے فرمان کہ ہر سختی کے بعد آسانی ہے کہ مطابق شان و شوکت اور راحت و آرام کے دن آنے والے ہیں؟۔

 ایک کہاوت ہے کہ عقل مند لوگ مصائب کو بھی کامیابی کے مواقع میں تبدیل کر لیتے ہیں اور ہمیں اللہ اور رسول کے فرمان پر ایمان بھی ہے۔ اور یہ یقین بھی ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ عقل مند مسلمان ہیں۔ اگر ان باتوں میں سچائی ہے تو لازما ہمیں اس عالم اسباب میں مثبت اقدام کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا ہوگا۔ مصیبت سے فائدہ اٹھانے کی تین مثالیں پیش کرتا ہوں۔

 *(1) تین طلاق بل:-*

 اس بل کے قانون بن جانے کے بعد مسلمانان ہند نے دوطرح کی تحریکیں شروع کیں:

▪️ کچھ لوگوں نےجلسہ، جلوس، اشتہارات و اخبارات اور شوشل میڈیا کے ذریعے اس کی مخالفت کی۔ کچھ دن سرخیوں میں رہے اور پھر خاموش ہو گئے۔

 ▪️جبکہ اکثریت جس میں "تنظیم اہل سنت ضلع کورما" بھی شامل ہے نے تین طلاق قانون کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے سیمینار اور تعلیمی و تربیتی پروگرام وغیرہ منعد کی  اور عوامی بیداری تحریک چلا کر ایک بارگی تین طلاق کے استعمال سے روکنے کی کوشش کی۔ کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شرعاً حرام ہے اور قانونا جرم بھی ہے۔ بے شک اس کے بہتر نتائج سامنے آئے۔

(2) *لو جہاد کے نام پہ بننے والا غیر انسانی قانون:-*

 اس میں بھی مسلمانوں کی ایک بہت ہی چھوٹی تعداد ہے جو اس کو مسلم مخالف قانون بتا کر شور مچا رہی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس سے راحت کی سانس لی ہے۔ظاہر ہے کہ وہ مسلم لڑکے جو غیر مسلم لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں وہ اپنے خاندان کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ اور وہ مسلم سماج کے لیے بھی پریشانی کا سبب ہیں۔ کیونکہ جتنے لڑکے غیر مسلم لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں اتنی ہی مسلم لڑکیاں کنواری رہ جاتی ہیں۔ گویا یہ جو ہو رہا تھا دوہرے خسارے کا کام تھا۔ اب اگر ہم اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو غیر مسلم سے شادی کرنے کے مضر اثرات سے واقف کراتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ظالمانہ کارروائی سے ڈراتے ہیں اور نتیجتا ہمارے بچے اس قبیح فعل سے بچتے ہیں۔ تو یقینی طور پر اس کا فائدہ مسلمان کو ہی ہوگا۔

 *(3)تعلیم اور ملازمتوں میں تعصب:-*

اچھی ملازمت یا اچھی یونیورسٹی وغیرہ میں داخلہ کے لیے اگر مساوی صلاحیت میں تعصب کی بنیاد پر کامیابی نہیں ملتی ہے۔ تو یہاں بھی کچھ لوگ دھوکے میں آکر احتجاج کرتے ہیں۔ جبکہ اس سے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے حریف سے برتر صلاحیت حاصل کریں تاکہ ناکامی کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ اور اگر پھر بھی مقصد میں ناکامی ملتی ہے تو اس وقت بھی ہم فائدے میں ہیں کہ اس وقت ہم اتنی صلاحیت کے مالک ہو چکے ہوں گے کہ اس طرح کی ملازمت ہم دوسروں کو دے سکتے ہیں۔ اس کے عملی نمونے بہت ہیں۔

 الغرض مذکورہ بالا حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ: 

(1) آپس میں اتحاد قائم کیا جائے۔

(2)  ردعمل اور احتجاج سے باز رہا جائے۔ 

(3) اپنی ساری توانائی اور قوت کو تعلیم،تجارت اور تنظیم و تعمیر میں لگائی جائے۔

(4) منصوبہ بندی اور حکمت عملی جو مسلمانوں کا حق اور خاصہ بھی ہے کو ہمیشہ زیر عمل رکھا جائے۔

(5) تمام مسلمان ایک دوسرے کے خیر خواہ،معاون و مددگار اور محافظ ہو جائیں۔

یہ پانچ باتیں جو قرآن و سنت سے منصوص ہیں اگر ہم نے صدق دل سے عمل کیا تو إن شاء الله! ہم ہی سرخرو اور بلند و بالا ہوں گے۔

محمد شہادت حسین فیضی

9431538584

 

Sunday, January 10, 2021

*صبر کرنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا*

 

ایک عینی مشاھدہ: ایک شخص زمین کے ایک ٹکڑے کا دعویدار تھا۔ اور محلے والوں کا کہنا تھا کہ یہ زمین صرف اس کی نہیں ہے بلکہ پورے گاؤں والوں کی ہے۔ وہ شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ زمین پر قبضہ کرنے کی نیت سے وہاں آکر بیٹھ گیا۔ دوسری جانب محلے والے انہیں وہاں سے بھگانے کے لیے شورو غل کے ساتھ زدوکوب کرنے لگے۔ وہ شخص صبر کرتا رہا اور بدلے میں نہ اس نے ہاتھ اٹھایا اور نہ ہی زبان درازی کی بلکہ خاموشی کے ساتھ دفاع کرتا رہا۔ وہ خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی جوابی کاروائی یا کسی بھی طرح کی بدزبانی سے‌دور رکھا۔ اہل محلہ کے کسی‌ بھی طرح کے ظلم کے خلاف وہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا رہا۔ ایک دن اچانک سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے  اس کی موت ہوگئی۔ اب پورے محلے والوں کی ہمدردی اس کے ساتھ ہو گئی۔ لوگوں نے زمین  اس کے بچوں کے حوالے کردیا اور ماضی کی تمام تر تلخیاں اس گھر کے صبر استقلال کی وجہ سے یکسر ختم ہو گئیں۔ نتیجہ اس کے حق میں اس لیے ہوا کہ اس نے صبر کیا۔ ورنہ اگر وہ بھی جوابی کارروائی کرتا اور اہل‌محلہ میں سے کوئی ایک بھی دکھی  یا زخمی ہوا ہوتا یا کوئی فوت ہوجاتا تو انجام الٹا ہوتا۔

بات زمین کی آگئی ہے تو ایک حدیث بھی پڑھ لیں۔ ترجمہ: حضرت ابو سلمہ روایت کرتے ہیں کہ میرے اور کچھ لوگوں کے درمیان زمینی تنازعہ تھا۔ تو انھوں نے اس کا تذکرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ تو انہوں نے فرمایاکہ۔ اےابوسلمہ زمین کے معاملے میں بچو (اور اس کو چھوڑ دو) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی دوسرے کی زمین ایک بالشت بھی قبضہ کرلی تو اسے قیامت میں سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری: ج 1- ص332) 

بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جس نے کسی دوسرے کی زمین ایک بالشت بھی قبضہ کرلی تو اسے قیامت میں سات زمینوں میں دھنسایا جائے گا۔ (بخاری: ج 1- ص332) 

 ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت ابو سلمہ کو نہ لڑائی جھگڑا کی صلاح دی اور نہ ہی کیس مقدمہ کرنے کی بلکہ صبر کرنے کی تلقین کی کہ اس میں دنیا کا بھی فائدہ ہے اور آخرت کا بھی۔

 *صبر :* 

صبر کا مفہوم بہت ہی وسیع معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کو صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ وسیع چیز بخشی نہیں گئی ہے (بخاری) 

اس حدیث پاک کے مفہوم کو ہم مختلف جملوں میں استعمال کر سکتے ہیں مثلا:

(1) زندگی کے اعلی اقدار میں صبر سے زیادہ مؤثر کوئی دوسرا عمل نہیں ہے۔

(2) جس کو صبر کی خوبی حاصل ہوگئی وہ سب سے زیادہ طاقتور انسان بن گیا۔

(3) جمالیاتی خوبیوں میں صبر سب سے افضل و اعلیٰ خوبی ہے۔

(4) صبر کے مقابلے میں مادی ضروریات، اعلی اقدار کو ختم کرتی ہے۔

(5) جس کو صبر کی دولت مل گئی اس کو دنیا کی ساری دولت و عزت مل گئی۔ 

(6)وہ عمل جو تمام بھلائیوں، خوبیوں اور محاسن کا جامع ہو۔اسکا نام صبر ہے۔

(7) صبر کے بغیر اعلی تہذیب و تمدن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

(8) جس پر کسی دوسری چیز کو ترجیح نہیں دی جاسکتی وہ صبر ہے۔ 

(9)صبر کے ذریعہ ہی ذہن و فکر میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔

(10)صابر سب سے پہلے اپنی مدد آپ کرتا ہے۔

(11) صبر کرنے والا ہر طرح کی پریشانی، مشکلات اور تنگی سے نجات پاتا ہے۔

(12) صبر کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت رہتی ہے۔

 اس کے اور بھی مفہوم بیان کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کا سب سے جامع مفہوم آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے 63 سالہ حیات طیبہ ہے جو صبر و شکر کا مجموعہ ہے۔

 *حیات طیبہ کے چند گوشے* 

(1) ظالم کےظلم پہ مظلوم جب خاموش رہتا ہے تو اللہ تعالی ظالم سے بدلہ لیتا ہے۔ صحن کعبہ میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے دیکھ کر ابوجہل نے غصے میں جل بھن کر آقا کریم پر پتھر پھینک دی جس سے چوٹ لگی اور خون بہنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخم کو دبا کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کرنے لگے۔ ٹھیک اسی وقت حضرت حمزہ ابن ابی طالب تشریف لائے۔ کسی نے کہا کہ دیکھ ابوجہل نے تمہارے بھتیجے کو زخمی کر دیا ہے۔ اور جب حضرت حمزہ نے آقا کریم کا خون دیکھا تو ان کا بھی خون کھول گیا۔ اور انہوں نے اسی وقت ابو جہل کی خبر لی اور خوب پٹائی کر دی۔ یہاں تک کہ وہ معافی مانگنے لگا۔ تو اسے چھوڑ کر حضرت حمزہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ خوش ہو جائیں میں نے ابو جہل سے بدلہ لے لیاہے۔ جواب میں حضور نے فرمایا کہ ابو جہل کو زیادہ سخت چوٹ اس وقت لگے گی جب آپ ایمان لے آئیں گے۔ اور مجھے بھی اسی وقت سچی خوشی ہوگی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ طیش میں آکر اسی وقت داخل اسلام ہو گئے۔ ("رحمۃ اللعالمین" از قاضی محمد سلیمان ص: 63/ ج 1)

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی معجزہ ہے لیکن سادگی اتنی ہے کہ تمام انسانوں کے لیے آپ کی زندگی کو اللہ تعالی نے نمونہ بنا دیا ہے۔

(2) اللہ تعالی فرماتا ہے۔ نیکی اور بدی برابر نہیں ہے۔ جب کسی سے بحث ہوجائے تو سب سے بہتر جملوں سے بحث کرو۔ ایسا کرنے سے تمہارے درمیان اور اس کے درمیان جو دشمنی ہے وہ دوستی میں بدل جائے گی اور وہ تمہارا گہرا دوست ہو جائے گا۔ اور یہ دولت صرف اور صرف صبر کرنے والوں کو ملتی ہے۔ (جسے دشمن کو دوست بنانے کا ہنر آگیا) وہ بہت بڑا نصیب والا ہے۔(حم السجدة:34-35)

صابروں کے جملے ہمیشہ میٹھے ہوتے ہیں اس لئے جو ان سے گفتگو کرتا ہے وہ اس کا اسیر ہو جاتا ہے۔ حیات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گوشہ ملاحظہ کریں۔ حضرت زید بن سنعہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نبی آخر الزماں کی تمام صفات کو دیکھ لیا تھا۔ انہیں صرف ایک صفت(صبر) کی آزمائش کرنی تھی۔ کہ آخری نبی کی صفت ان کی کتاب میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ انہیں جتنا زیادہ غصہ دلایا جائے گا وہ اتنا ہی نرم ہوتے جائیں گے۔(یعنی ردعمل اور غصہ ان میں ہوگا ہی نہیں) اس کے لئے انہوں نے آقا کریم صلی اللہ وسلم کو قرض دیا اور وصولی کے ليے وقت مقررہ سے پہلے ہی تقاضا کرنے حضور کے گھر پہنچ گئے۔ اور سخت جملوں کے ساتھ تقاضہ کرنے لگے۔ جوں جوں یہ سخت سے سخت جملے استعمال کرتے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نرم اور اچھے سے اچھے جملوں سے اس کا جواب دیتے۔ حضرت عمر جو وہاں موجود تھے برداشت نہیں کر سکے۔ اور آقا کریم سے اس کے ساتھ سختی کرنے کی اجازت چاہی تو حضور نے فرمایا عمر جاؤ اس کا قرض ادا کر دو۔ اور تم نے جو ان کو ڈانٹا ہے اس کے بدلے میں کچھ زیادہ ہی دے دینا۔ اس واقعہ کے بعد حضرت زید مسلمان ہوگئے۔ اور اعلان فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی ایک ہے۔ اور آپ اللہ تعالی کے سچے رسول ہیں۔

(3) صبر کا ایک ماخذ صبورہ ہے جس کا معنی بنجر زمین کے ہیں یعنی اس میں دانہ اور پانی جو بھی ڈالا جائے لیکن اس میں پودا نہیں اگتا۔ ایسا ہی معاملہ صابر کے ساتھ بھی ہے کہ اس کے ساتھ جس طرح سے بھی پیش آ یاجائے اس میں ردعمل کا اور انتقام کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے کے رد عمل کے طور پر کیا جانے والا کام، اور بولے جانے والے جملے گھر، سماج اور معاشرہ میں انتشار،انتقام اور لڑائی جھگڑے کے سبب بنتے ہیں۔ نیز یہ انسانیت، مصلحت اور سنت رسول کے خلاف ہیں۔

▪️آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ ایک دیہاتی پیچھے سے آیا اور دوش مبارک پر رکھی چادر کو زور سے کھینچا جس سے گردن سرخ ہو گئی۔ پھر اس نے بلند آواز سے کہا کہ اےمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اتنا اتنا اور فلاں فلاں سامان دو۔ یہ سب جو تمہارے پاس ہے وہ نہ تیرا ہے نہ تیرے باپ کا ہے۔ اگر ردعمل اور غصہ سے اس کا جواب دیا جاتا تو اس دیہاتی کی زندگی خطرے میں تھی۔ لیکن آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پوری بات صبر و تحمل کے ساتھ سن کر ارشاد فرمایا۔ کہ آپ نے بالکل سچ کہا ہے۔ بیشک یہ چیزیں نہ میری ہیں نہ میرے باپ کی۔ بلکہ میں اللہ تعالی وحدہٗ لاشریک کا بندہ ہوں اور یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ہی ہے۔ پھر حضور نے صحابہ کو حکم دیا کہ جو کچھ یہاں ہے وہ انہیں دے دو۔ وہ دے دیا گیا۔ لیکن اس دیہا تی کو یہ بہت کم لگا اور اس نے پھر ایک سخت جملہ کہا۔ اور یہ کہا کہ مجھے کچھ دیا ہی نہیں گیا ہے۔ یہ حقیر سی چیز لینے کے لیے میں یہاں نہیں آیا ہوں؟۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ اپنا گھر لے گئے ان کی ضیافت کی۔ دوسرے دن انہیں ان کی خواہش کے مطابق مال و دولت دی۔ تو وہ بہت خوش ہوا۔ اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نےآپ کو دنیا کا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ سخی پایا ہے۔ تو حضور نے فرمایا کہ جاؤ یہ جملہ میرے صحابہ سے کہہ دو تاکہ وہ بھی تم سے خوش ہو جائیں۔ انہوں نے صحابہ کے پاس جا کر وہ خوش کن جملے بھی کہے اور واپس آکر مسلمان بھی ہو گئے۔

(4) صبر کا مفہوم یہ بھی ہے کہ فریق ثانی کی طرف سے جو بھی اشتعال انگیزی کی جائے یا مصیبتیں ڈالی جائیں یا ظلم و زیادتی کی جائے ان سب کو خاموشی کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ اور پھر جب حالات نارمل ہو جائیں تو عقل و فہم کا استعمال کر کے مثبت اقدام کے ذریعہ اس نفرت کو کم یا ختم کرنے کی کوشش کرنے کا نام صبر ہے۔ اس لیے کہ جب آدمی بے صبری کے ساتھ اپنے مقابل کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے پاس سفلی جذبات اور سطحی محرکات ہوتے ہیں۔ اب وہ اس وقت جو بھی کرے گا یا بولے گا اس سے غلطیاں سرزد ہوں گی۔ جو بعد میں اس کے لیے رسوائی کا سبب ہو گا۔ جب کہ ان حالات میں صبر کرنے والا یعنی وقتی ردعمل سے عاری شخص ہر حال میں محفوظ و مامون ہوتا ہے۔ اس کو اس واقعہ سے سمجھتے ہیں۔

غزوہ مریسیع جس کو غزوہ بنی مصطلق بھی کہتے ہیں۔ جو ماہ شعبان 5 ہجری مطابق 626 عیسوی کو پیش آیا تھا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کے ساتھ حسب سابق فتح کے بعد بھی کچھ دنوں کے لیے چشمہ مریسیع کے پاس ہی قیام پذیر رہنا پسند فرمایا۔ کہ ایک دن حضرت عمر فاروق کے غلام جہجاہ غفاری کنواں کے پاس پانی لینے کے لیے گئے اسی وقت سنان بن دبرجہنی بھی کنواں سے پانی نکالنے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ دونوں نے بے صبری کا مظاہرہ کیا۔ نتیجتاً دونوں کے ڈول ٹکرائے۔ اور پھر دونوں میں دھکا مکی ہوگئی۔ اور تیز آواز میں بحث بھی کرنے لگے یہاں تک کہ دونوں میں لڑائی ہوگئی۔ اور جہجاہ غفاری نے ایک ضرب لگائی جس سے سنان کا خون بہنے لگا۔ وہ گھبرا کر یا معاشر الانصار کی صدا بلند کر دی۔ جواب میں جہجاہ نے بھی یا معاشر المہاجرین کی آواز بلند کی۔ اب انصار و مہاجرین دونوں کود پڑے۔ قریب تھا کہ انصار و مہاجرین جو آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے تھے جنگ چھڑ جاتی فی الفور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں فرمایا کہ تم لوگ بے صبری میں جاہلیت کی صدا بلند کر رہے ہو جب کہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہوں۔ دونوں کو الگ کیا اور فورا کوچ کرنے کا حکم صادر فرمایا کہ کہیں بات اور نہ بڑھ جائے۔ غزوہ مریسیع کی کامیابی صرف دو بے صبروں کی وجہ سے ناکامی میں بدل جاتی کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حسن ترکیب سے تنازع ختم ہوا اور بھائی چارگی جو انصار و مہاجرین میں تھی باقی رہی۔ اس واقعہ میں ایک اور بات جو ہمارے لیے سبق ہے وہ یہ ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروپ کو الگ کر دیا۔ ان کے درمیان فوری طور پر فیصلہ نہیں کیا کہ ایسے ماحول میں فیصلہ کے نفوذ بھی  محال ہو جاتا ہے اور بات بننے کے بجائے اور بھی بگڑ جاتی ہے۔

 صبر کا سب سے اعلیٰ اور بہترین قسم یہ ہے کہ جب کوئی کسی کو تکلیف پہنچائے تو بدلے میں اس کو بھی تکلیف نہ دے بلکہ اس کے ساتھ بھلائی کرے اور اس کے لیے خیر کی دعا کرے۔ اور یہ صفت تمام انبیاء و مرسلین کی ہے۔ تمام نبیوں اور رسولوں نے اپنی اپنی امت سے کہا ہے کہ۔ تم جو ہمیں ستا رہے ہو اس پر ہم ضرور باالضرور صبر کرتے ہیں۔ (ابراہیم:12)

یعنی ہم بدلے میں تمہارے ساتھ ظلم و ستم کا معاملہ نہیں کریں گے۔ بلکہ ہم تمہاری بھلائی کی کوشش کرتے رہیں گے۔

الغرض صبرایک فولادی قوت کا نام ہے جس سے بڑے سے بڑا معرکہ سر کیا جاسکتا ہے۔ اور کامیابیوں کے بلند ترین مقام تک پہنچاجاسکتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.

 محمد شہادت حسین فیضی

9431538584

Sunday, January 3, 2021

تاریخ اسلام کا ایک ورق

*اہل طائف کا شرطیہ اسلام قبول کرنا*
طائف مکہ مکرمہ سے تقریبا ایک سو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے پہاڑوں سے گھراہوا ایک خوبصورت و خوشحال شہر تھا۔ اس کے قرب و جوار کے علاقے میں انگور، سیب اور انار جیسے خوش رنگ و خوش ذائقہ پھلوں کے بکثرت باغات تھے۔ دوسرے خطۂ عرب کے مقابلے میں وہاں کے باشندے علم و ہنر میں مہارت رکھتے تھے۔ علم طب اور علم نجوم کے ماہرین کی ایک بڑی جماعت وہاں موجود تھی۔ پورے خطۂ عرب میں عربوں کی ملکیت والا وہ واحد قلعہ بند شہر تھا جس کے کنارے اونچی اونچی فصیلیں تعمیر تھیں، جسے ایرانی ماہرین آرکٹیچر اور  انجینئروں نے عربی طرز تعمیر اور خوبیوں کے ساتھ ڈیزائن کیا تھا۔ اس کی دیوار اتنی مضبوط تھی کہ منجنیق کے ذریعے پھینکے گئے بڑے بڑے پتھروں سے بھی مخدوش نہیں ہوئی۔
 *اہل طائف کو اسلام کی پہلی دعوت*
12 فروری 610 عیسوی کو پہلی وحی نازل ہوئی تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کے درمیان اعلان نبوت کے ساتھ دعوت توحید دینی شروع کی۔ تو آپ کے خونی رشتہ داروں کے ساتھ پورا اہل مکہ آپ کا جانی دشمن ہو گیا۔ تاہم حضرت ابو طالب کے بنو ہاشم کے سردار ہونے کی وجہ سے اور ان کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے اتلاف جان کا خطرہ نہیں تھا لیکن 5 رجب عام الحزن کو ان کے وصال کے بعد جب بنو ہاشم کی روایات کے مطابق ابولہب بنو ہاشم کا سردار ہوا تو اس نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی درمیان صرف 35 دن کے بعد 10 رمضان کو حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کا وصال ہو گیا۔ اسی لیے اس کا نام عام الحزن ہے۔ قبائلی معاشرہ میں بغیر کسی قبیلے کی حمایت کے کسی شخص کا کوئی تحریک چلانا تو دور کی بات ہے زندہ رہنا مشکل ہے۔ ان حالات میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مضبوط قبیلے کی حمایت کی سخت ضرورت تھی۔ اس کے لیے سب سے پہلے انھوں نے طائف جانا پسند فرمایاکہ قریش کے بعد سب سے مضبوط اور طاقتور قبیلہ طائف کے بنو ثقیف‌کا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے خادم حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ طائف تشریف لے گئے اور وہاں کے ہر گھر میں جا کر توحید کی دعوت دی۔ یہاں تک کہ طائف کے جو تین بڑے سردار تھے عبد یالیل بن عمرو۔ مسعود بن عمرو اور حبیب بن عمرو یہ تینوں سگے بھائی تھے۔ ان کے یہاں بھی جا کر انفرادی طور پر دعوت پیش کی۔ لیکن کسی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول نہیں کی بلکہ الٹا بداخلاقی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ اوباش لڑکوں کو لگا دیا کہ انہیں پتھر مار کر شہر سے باہر نکال دیں۔ حضور سخت کبیدہ خاطر ہوئے لیکن رحمة اللعالمین تھے اس لیے اس دعا کے ساتھ شہر سے باہر نکلے کہ یا اللہ یہ لوگ مجھے نہیں پہچان رہے ہیں انہیں ہدایت عطا فرما تاکہ ان کی نسلیں ایمان لے آئیں۔
 *دوسری دعوت*
قبیلہ بنو ثقیف قبیلہ بنو ہوازن کی ہی شاخ تھی جو طائف میں آباد تھی۔ 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد قریش کی خودسپردگی سے ناراض ہوکر قبیلہ بنو ثقیف نے قبیلہ بنو ہوازن کے علاوہ قرب وجوار کے دیگر قبائل کے ساتھ مل کر حنین میں ایک خونریز جنگ کی تھی۔ یہ جنگ 10 شوال مطابق 30 جنوری 630 عیسوی کو ہوئی تھی جس میں چار صحابہ شہید ہوئے اور 70 کفار مارے گئے۔ مسلمانوں کو مال غنیمت کے طور پر (6000) چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار (24000) اونٹ، چالیس ہزار (40000) بکریاں اور چارہزار(4000) اوقیہ چاندی ملے تھے۔
 یہ شکست بنو ہوازن کی تھی اور بنو ثقیف کے لوگ بھاگ کر طائف میں قلعہ بند ہوگئے۔ طائف کا قلعہ بلند اور مضبوط تھا اس لئے منجنیق کے ذریعہ بڑے بڑے پتھر پھینکے گئےلیکن فصیل توڑی نہ جا سکی اور بنو ثقیف کے تیروں کی زد میں آکر 12 صحابہ شہید بھی ہو گئے۔ اور بہت سارے زخمی بھی۔ لوگوں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے بد دعا کرنے کی گزارش کی توآقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالی سے دعا کی کہ یا اللہ یہ لوگ نا سمجھ ہیں دوسری مرتبہ ہم نے انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ جواب میں تیر اور پتھر پھینکتے ہیں یا اللہ انہیں ہدایت دے۔ انہیں اسلام کے لیے میرے پاس آنے کی توفیق عطا فرما۔ پھر صحابہ کو حکم دیا کہ محاصرہ ختم کردیا جائے۔ وہاں سے جعرانہ تشریف لائے۔ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کو اپنی رضاعی بہن حضرت شیما رضی اللہ تعالی عنہا اور ہوازن کےدوسرے لوگوں کی درخواست پر رہا کر دیا گیا اور کچھ ساز و سامان بھی واپس کر دیے گئے۔ اس میں ایک حکمت بھی تھی کہ اس رہائی اور عفو و درگزر سے طائف والوں کو یہ سمجھ آجائے کہ اسلام قبول کرنے کے یہ فائدے ہیں۔
 *تیسری دعوت*
حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اور اجازت چاہی کہ طائف میں جا کر اسلام کی دعوت دوں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے مزاج کو سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے فرمایا کہ صبر و حکمت سے کام لینا اور ایک بارگی اپنے اسلام کو ظاہر نہ کرنا۔ لیکن انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل طائف مجھے اپنی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ وہ میری باتوں کا انکار نہیں کریں گے۔ اور میری بات مان لیں گے۔ لیکن وہ اپنی اس خوش فہمی کے ساتھ جب طائف پہنچے اور اپنے چھت کی بلندی پر جا کر خود کو مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور اسلام کی دعوت پیش کی۔ تو لوگوں نے تیروں سے حملہ کر کے شہید کر دیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی تو ان کے بلندی درجات کی دعا مانگی اور فرمایا کہ عروہ بن مسعود ثقفی میرے بھائی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی طرح ہیں۔ عملا اور شکلا بھی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا عروہ کے مثال صاحبِ یسین (حضرت عیسیٰ) جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم کو خدا کی طرف بلایا اور اس نے ان کو شہید کردیا (مستدرک حاکم: ٦١٦/٣)
عروہ بن مسعود ثقفی صاحب یسین(حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام) کی طرح کیسے ہیں، اس مماثلت کو سمجھنے کے لیے ذرا سورۂ یسین کی آیت نمبر 13 سے 25 کا مطالعہ کریں۔
ترجمہ:
 اور بیان کرو ان سے اس شہر والوں کی مثال۔ کہ جب ان کے پاس آئے رسول۔ اور ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے۔ تو شہر والوں نے ان کو جھٹلایا۔ تو ہم نے تیسرےرسول کے ذریعے طاقت بخشی۔ پس ان تینوں نے شہر والوں سے کہا کہ ہم لوگ تم لوگوں کو اللہ تعالی کی وحدانیت کی دعوت دینے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تو شہر والوں نے کہا کہ تم لوگ تو ہم ہی لوگوں کی طرح بشر ہو۔ رحمان نے کچھ نہیں بھیجا ہے تم لوگ جھوٹے ہو۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ اس نے ہمہیں تمہاری طرف بھیجاہے۔ اور ہماری ذمہ داری تو صرف صاف صاف اللہ کا حکم پہنچانا ہے۔ تو شہر والوں نے کہا کہ ہم لوگ تمہیں منحوس سمجھتے ہیں۔ تم لوگ اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ نہیں تو ہم لوگ ضرور تمہیں سنگسار کریں گے۔ اور ہم لوگوں کے ذریعہ تمہیں سخت دردناک تکلیف پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست ہی تمہارے ساتھ ہے۔ تمہیں سمجھایا جاتا ہے تو تم بدکتےہو۔ بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
*اسی درمیان شہر کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔اور کہا کہ اے میری قوم!ان رسولوں کی پیروی کرو۔ یہ تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتے۔ اور یہ ہدایت یافتہ ہیں۔ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ ہم اس کی بندگی نہ کریں جس نے مجھے پیدا کیا۔ اور اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ کیا اللہ تعالی کے سوا اور کوئی خدا ٹھہراؤں؟ اگر رحمان میرا کچھ برا چاہے تو ان کی سفارش کچھ کام نہ آئے۔ اور نہ وہ مجھے بچا سکیں۔ بے شک جب تو میں کھلی گمراہی میں ہوں۔ بے شک میں تمہارے رب پہ ایمان لاتا ہوں۔ تم میری بات سنو۔وہ شہر والوں کو سمجھا رہے تھے اور بدلے میں شہر والوں نے انہیں پتھر مار کر شہید کر دیا* اسی نوجوان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عروہ بن مسعود ثقفی کی تمثیل پیش کی: کہ "انہوں نے اپنی قوم کو دین کی دعوت دی تو ان کی قوم نے تیر مار کر انہیں شہید کر دیا"۔
 *چوتھی دعوت* 
حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے کچھ دنوں بعد انہوں نے قبیلہ ہوازن پہ نظر ڈالی جو شکست کے بعد بھی رسول کونین کے عفو و درگزر سے خوشحال تھے۔ قریش کی خود سپردگی کے بعد جعرانہ میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دلجوئی کے لیے مال غنیمت میں سے اتنا دیا کہ اس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ پھر قرب و جوار کے تمام قبائل کا جوق در جوق اسلام قبول کرنا اور ایک پاکیزہ زندگی کی ابتدا کرنا بھی ان کے پیش نظر تھی۔ ان اسباب وعلل کے ساتھ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے لیے تین مرتبہ ہدایت کی دعا کرنا بھی قبول ہوئی۔ *اور بنو ثقیف نے یہ مشورہ کیا کہ ہمارا بھی ایک وفد مدینہ جاکر اپنے شرطوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہونے کی بات کرے*۔ چنانچہ ان کے سردار  عبد یالیل بن عمرو اپنے دو حلیفوں کے ساتھ اور قبیلہ بنو مالک میں سے تین کل چھ افراد پر مشتمل یہ وفد رمضان 9 ہجری میں مدینہ پہنچا۔ مسجد نبوی میں ان کے لیے خیمہ لگایا گیا تھا تاکہ یہ لوگ صحابہ کو نماز پڑھتے ہوئےدیکھ سکیں اور قرآن سن سکیں۔ پھر ایک دن ان لوگوں نے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ان شرطوں کے ساتھ اسلام قبول کرنے کی بات کی کہ ہم نماز نہیں پڑھیں گے، زکات نہیں دیں گے، جہاد نہیں کریں گے، شراب نوشی اور سود خوری نہیں چھوڑیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور کر لیا۔ تو وہاں موجود صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ کیسا اسلام ہے؟ اس کے جواب میں آقا کریم کی یہ حدیث ملاحظہ کریں۔ جو حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب وہ زکات بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ پہلے یہ مسلمان تو ہوجائیں۔ (ابو داود کتاب الخراج باب طائف حدیث نمبر 1251-1252) 
ان لوگوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ ہم بت نہیں توڑیں گے۔ تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ شرط نہیں مانی۔ اور فرمایا کہ شرک کے ساتھ اسلام قبول نہیں ہے۔ بت کو توڑنے ہی ہوں گے۔ اب اگر تم اپنے ہاتھ سے نہیں توڑنا چاہتے ہو تو میں خالد بن ولید کو بھیجتا ہوں وہ طائف جاکر "لات" کے مجسمہ کو توڑ دیں گے۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے طائف جاکر وہاں کے بتوں کو توڑ ڈالا تھا۔ بےشک آقاکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام اور امن کی خاطر صلح حدیبیہ کے بعد یہ دوسرا مرحلہ تھا جب کفار کے بے جا اور نامعقول شرائط کو بھی قبول کرلیاتھا۔ لیکن نتائج کے اعتبار سے مہینوں نہیں۔ بلکہ کچھ ہی دنوں بعد طائف کے لوگ کامل مؤمن اور صحابی رسول بن گئے۔ جس کی فضیلت بے شمار ہیں۔ دین طاقت سے نہیں بلکہ اخلاق حسنہ اور حکمت عالیہ سے پھیلا ہے اور حکمت و دانائی مومن کا حق ہے۔ جو آج ہم سے دور ہے۔ کامیابی کے لیے ہمیں اصل اسلام کی طرف لوٹ کر پاکیزہ کلمات، اخلاق حسنہ اور حکمت و دانائی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگااور دین کی دعوت پیش کرنی ہو گی۔
 محمد شہادت حسین فیضی
9431538584

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...