Islamic Culture is a platform of interpersonal intelligence. Valuable articles, scientific research and valuable words for great researchers, multilingual writers and thinkers. A collection of articles on humanity and socialism, and how Islam leads towards peace and satisfaction.
Monday, August 5, 2019
Islamic Scholars must research on Article 370 & A/35
क्या हैअनुच्छेद 370 और इससे कश्मीर को क्या मिला?
क्या हैअनुच्छेद 370 और इससे कश्मीर को क्या मिला?
भारतीय संविधान का अनुच्छेद 370 जम्मू-कश्मीर को विशेष राज्य का दर्जा देता है.
अगर इसके इतिहास में जाएं तो साल 1947 में भारत-पाकिस्तान के विभाजन के वक्त जम्मू-कश्मीर के राजा हरि सिंह स्वतंत्र रहना चाहते थे.
लेकिन बाद में उन्होंने कुछ शर्तों के साथ भारत में विलय के लिए सहमति जताई.
इसके बाद भारतीय संविधान में अनुच्छेद 370 का प्रावधान किया गया जिसके तहत जम्मू-कश्मीर को विशेष अधिकार दिए गए.
लेकिन राज्य के लिए अलग संविधान की मांग की गई.
इसके बाद साल 1951 में राज्य को संविधान सभा को अलग से बुलाने की अनुमति दी गई.
नवंबर, 1956 में राज्य के संविधान का काम पूरा हुआ और 26 जनवरी, 1957 को राज्य में विशेष संविधान लागू कर दिया गया.
संविधान के अनुच्छेद 370 दरअसल केंद्र से जम्मू-कश्मीर के रिश्तों की रूपरेखा है.
प्रधानमंत्री जवाहर लाल नेहरू और शेख मोहम्मद अब्दुल्ला ने पांच महीनों की बातचीत के बाद अनुच्छेद 370 को संविधान में जोड़ा गया.
अनुच्छेद 370 के प्रावधानों के अनुसार, रक्षा, विदेश नीति और संचार मामलों को छोड़कर किसी अन्य मामले से जुड़ा क़ानून बनाने और लागू करवाने के लिए केंद्र को राज्य सरकार की अनुमति चाहिए.
इसी विशेष दर्जें के कारण जम्मू-कश्मीर राज्य पर संविधान का अनुच्छेद 356 लागू नहीं होता. इस कारण भारत के राष्ट्रपति के पास राज्य के संविधान को बरख़ास्त करने का अधिकार नहीं है.
अनुच्छेद 370 के चलते, जम्मू-कश्मीर का अलग झंडा होता है. इसके साथ ही जम्मू -कश्मीर की विधानसभा का कार्यकाल 6 वर्षों का होता है.
भारत के राष्ट्रपति अनुच्छेद 370 की वजह से जम्मू-कश्मीर में आर्थिक आपालकाल नहीं लगा सकते हैं.
एक बेहद ज़रूरी सूचना
एक बेहद ज़रूरी सूचना
क्या आपको कल केन्द्र सरकार के लिए एक निर्णय की जानकारी है ? नहीं होगी।
अव्वल तो यह कि सोशल मीडिया पर कोई काम की बात होती नहीं सिर्फ भसड़ और हेहे ठेठ्ठे होती है और दोयम यह कि "कुछ बड़ा होने वाला है" ने यह खबर छुपा दी।
देश में गृहमंत्री अमित शाह है तो थोड़ा सचेत रहा करिए , कब कौन सा आदेश आ जाए जो आपको किसी परेशानी में डाल दे , उसके पहले वक्त रहते बचाव की व्यवस्था कर लीजिए।
खबर यह है कि केन्द्र सरकार "आसाम" की तर्ज़ पर पूरे देश में "राष्ट्रीय जनसंख्या रजिस्टर" बनाने का निर्णय ले चुकी है और यह पंजीकरण 1 अप्रेल 2020 से 30 अप्रेल 2020 तक किए जाएँगे।
तो तैय्यार कर लीजिए सारे प्रमाण क्युँकि आपसे 1947 , 1965 या कोई और समय से भारत में रहने और यहाँ का नागरिक होने को सिद्ध करने का फरमान सुनाया जा सकता है , बिल्कुल आसाम की तरह इसे शेष भारत में सरकार की लागू करने का निर्णय है।
तो अपने पिता , दादा , परदादा का सिज़रा और निवास प्रमाण पत्र , अपना जन्म प्रमाणपत्र , पासपोर्ट बनवा लीजिए , वोटर आईकार्ड , आधार कार्ड और अन्य वह सभी सरकारी दस्तावेज जो भारत के नागरिक होने की पुष्टि करते हैं उन सबको संभाल कर रखिए और 1 अप्रेल 2020 के बाद तुरंत अपना नाम रजिस्टर में पंजीकरण कराएँ।
مغربی عورت نامرد اور نااولاد ہے بلکہ نارشتہ بھی۔
مغربی عورت کی کوئی عزت نہیں ہے کوئی شوہر نہیں ہے جو کہے بیگم تم گھر رہو میں ہر چیز تمہیں گھر لا کے دونگا.
وہاں کوئی بیٹا نہیں ہے جو کہے ماں تم گھر سے نہ نکلو مجھے حکم دو.
وہاں کوئی بیٹی نہیں ہے جو کہے ماں تم تھک گئی ہو آرام کرو میں کام کر دونگی
وہاں عورت گھر کے کام خود کرتی ہے...
اور روزی کمانے کے لئے دفتروں میں دھکے بھی خود کھاتی ہے.
کل تک آزادی کے نعرے لگانے والی آج سکون کی ایک سانس کو ترس رہی ہے.
کوئی مرد انہیں نہیں اپناتا
نہ ان کی ذمہ داری اٹھاتا ہے.
وہ صرف استعمال کی جاتی ہیں بس...
مسلمان عورتو !
تم کسی ملکہ سے کم نہیں ہو باپ کے سایہ میں لاڈوں سے پلی ہو.
بھائی تمہارا محافظ ہے
شوہر تمہارا زندگی بھر کا ساتھی ہے.
تم کیا سمجھتی ہو گھر میں بیٹھ کر ہانڈی روٹی کر کے تم ملازمہ ہو؟
نہیں نہیں یہ بھول ہے تمہاری یہ ہانڈی روٹی کا سامان جو تمہارا شوہر لے کر آتا ہے یہ گرمیوں کی دھوپ اور گرم لوُ وجود پگھلنے والے سورج سے لڑ کر لاتا ہے.
تمہیں تو مغربی عورتوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے.
لیکن تم کو آزادی نسواں کے سنہرے خواب دکھا کر تمہارے وقار کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے .
اس سازش کو نہیں سمجھو گی تو تم بھی متاعِ کوچہ و بازار بن جاؤ گی.
پلیز یورپی کلچر کی محبت کو دل سے نکال دیجیے ورنہ صرف پچھتاوا ہاتھ آئے گا اور کچھ نہیں.اگر کسی کو کوئ بات بری لگئ ہو تو اسکو اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے.
۔۔۔۔۔۔۔
1.عورت کوٹھے پہ ناچے تو اسکو مجرا کہا جاتا ھے
2.گورنمنٹ کے کہنے پہ ناچے تو یوتھ فیسٹیول
3.تعلیمی اداروں کے کہنے پہ ناچے تو ویلکم/فیئرویل پارٹی
4۔ٹی وی چینلز کے مارننگ شوز میں بےحیائی کا فروغ
تینوں صورتوں میں تماشا ھماری عزت بنی
کوٹھا تو غلط ھے ہی گورنمنٹ اور تعلیمی ادارے بھی غلط ھیں۔ تربیت گاہیں قوم بنا نہیں تباہ کر رہی ہیں۔
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ۔
مجھے راھزنوں سے گلا نھیں
تیری رھبری کا سوال ھے
۔۔۔۔۔۔۔
ھمارے معاشرے کا مرد ۔۔۔۔ جب کسی بھی میدان میں عورت کا مقابلہ نہیں کر پاتا ۔۔۔۔ تو وہ ۔۔۔۔ اس کے کردار پر انگلی اٹھا کر ۔۔۔۔ اسے توڑ دیتا ھے ۔۔۔۔ اور عورت صفائی دینے سے بہتر ہار مان لینا محسوس کرتی ھے ۔۔۔۔ اور مرد ۔۔۔۔ یہ سب کرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔ وہ خود کو ۔۔۔۔ مرد کہتا ھے۔۔۔
روہنگیا کے مسلمان ایک جائزہ۔
روہنگيا كے مسلمان : ايك جائزه
نوٹ؛
مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہم مرصد الازہر قاہرہ مصر اور پوری جامعہ ازہر ٹیم کے شکری کے ساتھ اسے شائع کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
سلمان آج کے دور میں دنیا کی سب سے زیادہ پسی ہوئی قوم ہے دنیا میں جہاں بھی ظلم و تشدد ہو مسلمان ہی اس کا نشانہ بنتے ہیں ، اور جس طرح كہ فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ الازہر صاحب نے بورما ميں ہونے والے واقعات كى شديد مذمت كرتے ہوئے كہا تھا كے اگر دنيا كى كسى اور قوم كے ساتھ ايسے واقعات پيش آ رہے ہوتے تو شايد دنيا كا يہ موقف نہ ہوتا، کشمیر سے لیکر فلسطین اور فلسطین سے لیکر شام ،عراق اور اب برما تقریبا ہی سبھی جگہ مسلمانوں پر ظلم و جبر جاری ہے۔
بورما ميں ہونے والے ظلم وستم كے واقعات كو كون نہيں جانتا!! ليكن اس پر مزيد روشنى ڈالنے كے لئے ہم قارئين حضرات كے لئے روہنگيا اور رخائن كے بارے ميں كچھ تفصيلى معلومات پيش كرتے ہيں :
روہنگیا کون ہیں؟
میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں. حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ ميانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں. ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے. اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں.
بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں. انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے.
رخائن میں کیا ہو رہا ہے؟
میانمار میں موگڈوو سرحد پر نو پولیس افسران کے مارے جانے کے بعد گزشتہ ماہ ریاست رخائن میں سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا تھا. کچھ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں نے کیا تھا. اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے موگڈوو ضلع کی سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا اور ایک وسیع آپریشن شروع کر دیا.
روہنگیا کارکنوں کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے. ميانمار کے فوجیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین الزام لگ رہے ہیں جن میں تشدد، عصمت دری اور قتل کے الزامات شامل ہیں. تاہم حکومت نے اسے سرے سے مسترد کر دیا ہے. کہا جا رہا ہے کہ فوجی روہنگیا مسلمانوں پر حملے میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کر رہے ہیں.
میانمار میں 25 سال بعد گزشتہ سال اليكشن ہوئے تھے. اس انتخاب میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی کو بہت بڑى كاميابى حاصل ہوئى، تاہم آئینی قوانین کی وجہ سے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی صدر نہیں بن پائی تھیں ليكن کہا جاتا ہے کہ اصل کمان سو چی کے ہاتھوں میں ہی ہے.
بین الاقوامی سطح پر سو چی نشانے پر ہیں. الزام ہے کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہونے کے باوجود وہ خاموش ہیں. حکومت سے سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر رخائن میں صحافیوں کو کیوں نہیں جانے دیا جا رہا؟ صدر کے ترجمان زاو ہنی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کی غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے.آنگ سان سو چی ابھی اپنے ملک کی حقیقی لیڈر ہیں. تاہم ملک کی سلامتی آرمڈ فورسز کے ہاتھوں میں ہے. اگر سوچی بین الاقوامی دباؤ میں جھکتی ہیں اور ریاست رخائن کو لے کر کوئی قابل اعتماد انکوائری کراتی ہیں تو انہیں آرمی سے تصادم کا خطرہ اٹھانا پڑ سکتا ہے اور ان کی حکومت خطرے میں آ سکتی ہے.
گزشتہ چھ ہفتوں سے آنگ سان سو چی مکمل طور پر خاموش ہیں. وہ اس معاملے میں صحافیوں سے بات بھی نہیں کر رہیں. جب اس معاملے میں ان پر دباؤ پڑا تو انھوں نے کہا تھا کہ رخائن اسٹیٹ میں جو بھی ہو رہا ہے وہ 'رول آف لا' کے تحت ہے. اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھ رہی ہے. میانمار میں روہنگیا کے بارے میں ہمدردی نہ کے برابر ہے اور روہنگیا کے خلاف آرمی کے اس اقدام کی جم کر حمایت ہو رہی ہے.
بنگلہ دیش کے اعتراض
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے میانمار کے سفیر سے اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے. بنگلہ دیش نے کہا کہ پریشان لوگ سرحد پار کر محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں یہاں آ رہے ہیں.
بنگلہ دیش نے کہا کہ سرحد پر نظم و ضبط قابو میں رکھا جانا چاہیے. بنگلہ دیش اتھارٹی کی جانب سے سرحد پار کرنے والوں کو پھر سے میانمار واپس بھیجا جا رہا ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے.
بنگلہ دیش روہنگیا مسلمانوں کو پناہ گزین کے طور پر قبول نہیں کر رہا. روہنگیا پناہ گزین 1970 کی دہائی سے ہی میانمار سے بنگلہ دیش آ رہے ہیں. ہیومن رائٹس واچ كى ایک سیٹلائٹ تصویر کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں میں روہنگیا مسلمانوں کے 1،200 گھر گرا دیے گئے ہيں .
میانمار میں جہاد
2015 میں تحریک طالبان کے ایک گروپ جماعۃ الاحرار نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف میانمار میں جہاد شروع کرنے کی اپیل کردی۔ جماعۃ الاحرارکے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہم میانمار (برما) کے مظلوم مسلمانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں ،میانمار کے مسلمانوں کو وہاں حکمرانوں کے خلاف جہاد شروع کردینا چاہیے، طالبان کے وسائل اور تربیت فراہمی کی سہولت ان کے لئے حاضر ہے۔
اپنے آڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان نے کہا میں برما کے نوجوانوں کو خطاب کر کے کہتا ہوں کہ تلوار اٹھاؤ اور اللہ کے راستے میں قتال شروع کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، ہمارے سنٹر، ہمارے وسائل، ٹریننگ، لوگ اور ہر چیز آپ کی سہولت کیلئے حاضر ہے۔
ليكن کیا راخائن میں کوئی جہاد ہورہا ہے؟
روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ سراسر لسانی مسئلہ ہے اور ان کی عسکری تنظیم اراکان روہنگیا سلویشن آرمی اس معاملے کو قومی جنگ قرار دیتی ہےروہنگیا مسلمانوں کی تنظیم کا قیام 2013 میں کراچی میں پیدا ہونے والے ایک برمی عطااللہ نے کیا جسے ابوامر جنجونی کے نام سے جانا جاتا ہے-عبداللہ سلویشن آرمی کے ترجمان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے معاملے کو جہاد کی کوئی قسم نہ سمجھا جائے، ان کی لڑائی مذہبی نہیں ہے-برما کے حکام بھی رخائن مسلمانوں کی مزاحمت کو جہاد سے تعبیر نہیں کرتے بلکہ انہیں بنگالی دہشت گرد کہتے ہیں، میانمار میں 27 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، ان میں ایک سلویشن آرمی بھی ہے اور ان کو بنگالی دہشت گرد قرار دے کر پابندی عائد کی گئی ہے-
برما اور روہنگیا مسلمانوں میں وجہ تنازع مذہب نہیں، بلکہ شہریت ہے، میانمار انہیں اپنے ملک کا شہری تسلیم نہیں کرتا، انہیں بنیادی حقوق کے ساتھ سفر کی سہولیات سے محروم رکھا ہوا ہے اور شہریت کا یہ تنازع برما کے ایک ڈکٹیٹر کی پالیسی سے شروع ہوا، جس کی حمایت آنگ سانگ سوچی بھی کررہی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے-میانمار کا معاملہ مذہبی جنگ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف پوری دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کا مسئلہ ہے، روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج ظلم کررہی ہے اور دنیا کو تمام تفریقات بالائے طاق رکھ کر اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا، بلا شك وشبہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ایک غیرانسانی فعل ہے مگر اس نسل کشی پہ دکانیں چمکاتے انتہاپسندی کے ٹھیکے دار بھی قابل مذمت ہیں.
الله رب العزت نے انسان كو اشرف المخلوقات كا درجہ ديا اور انسانى جان كو نہايت بلند اور عظيم مرتبہ ديا ہے، يہاں تك كہ ايك انسان كے قتل كو پورى انسانيت كا خون كرنے كے برابر مقرر كيا ہے ، قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ــ’’جس نے کسی انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان کو محفوظ بنایا اور اسی طرح جب کسی نے بے گناہ انسان کا خون بہایا گويا کہ اس نے انسانیت کا خون کیا ہے‘‘اس بات سے واضح ہوتاہے کہ اسلام کسی بھی صورت میں خون کے بہانے کے حق میں نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کلام مجید میں صرف مسلمانوں کے خون کی بات نہیں کی گئى بلکہ لفظ ناس (یعنی لوگ ) کا استعمال کرکے بات کو صاف اور واضح انداز میں بیان فرمادیا کہ اسلام مسلمان يا غیر مسلمان ،کافر و مومن،فاسق و فاجر،ظالم و عادل سبھی کی جان و مال کی حفاظت کی تاکید کرتاہے تاوقتیکہ ان سے کھلا جرم و ظلم ثابت نہ ہوجائے اور پھر طاغوتیت کے ارتکاب کی صورت میں بھی حدود و قیود مقرر کردی ہیں کہ قصاص میں قتل کیاجائے گا ، سزا تجویز کرنے کا اختیار ملك كى حکومت و عدالت کو ہوگا، بذات خود قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا،بلكہ اس كو لينا جرم ہوگا ،سزادیتے وقت اس میں مبالغہ و زیادتی نہیں کی جائے گی بقدر جرم سزا مقدر ہوگی۔ كيونكہ اسى طريقہ سےملک و ملت میں امن و سلامتی کی صورتحال مستحکم رہ سکتى ہے۔
عید الاضحى جوکہ اطاعت، قربانى اور خوشیوں کا پيغام لے كر آتى ہے روہنگیا مسلمانو ں پر جاری ظلم وتشدد کی نظر ہوگئی۔ ظلم وتشدد كے یہ واقعات روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پہلی دفعہ تو نہیں ہو ر ہے بلکہ اس سےپہلے بھی روہنگیا کے مسلمان برما کی حکومت اور فوج کے غیض و غضب کاشکار بن چکے ہیں۔ہم سبھی اس سے قبل روہنگیا کے مسلمانوں پر جبر و استعدادکی خبروں سے بے خبر رہتے آئے ہیں۔جب گزشتہ سال روہنگیا کی مسلمانوں پر برما کی زمین تنگ کردی گئی ۔تب ہمیں اخبارات اور سوشل میڈیاکے ذريعہ کسی حد تک آگاہی حاصل ہوتی رہی تاہم بعد میں ظلم و جبر کا سلسلہ تھم گیا۔اور حالات پر کسی حد تک قابو پالیا گیا۔اچانکہ پھر سے 25 اگست کی شام سے سوشل میڈیا پر روہنگیا کے مسلمانوں پر مظالم کی تازہ خبروں، تصاویر اور ویڈیوز نے نہ صرف مسلمانوں بلكہ انسانيت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان پر ايسے انسانیت سوزمظالم ڈھائے جارہے ہیں۔جنہیں دیکھ کر انسانیت بھی شرماگئى ہے ليكن تاریخ پر نظر ڈورانے سے پتہ چلا کہ اس کے پیچھے بہت سارے عوامل کرفرما ہیں۔
میانمار کاصوبہ رخائن جسے اراکان بھی کہا جاتا ہے انسانيت سوز جرائم پر گواہى دے رہا ہے ۔عورتوں كى عزت خطره ميں ہے ۔بچوں اور بوڑھوں پر ترس کھانے والا کوئی نہیں۔اس تناظر میں میانمار کی عالمی امن نوبل انعام یافتہ رہنما کی خاموشی بہت سارے سوالات جنم دے رہی ہے۔میڈیا کے سامنے كہا جاتا ہے کہ میانمار کے صوبے راخائن میں کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے سب ٹھیک ہے ۔میڈیا میں جو کچھ دیکھا یا جا رہا ہے یہ ماضی سے جڑی خبریں ،تصاویر اور ویڈیوز ہیں جنہیں ایک خاص طبقہ میانمار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کررہا ہے ۔
2012 سے لے كر آج تك شيخ الازہر نے ان لا چار مسلمانوں كا ساتھ دينے كى ہر ممكن كوشش كى ہے ، 2015 نےاس مسئلہ كو قريب سے ديكھنے اور سمجھنے كے لئے نے بورما كے مسلمانوں كے مفتى سے ملاقات كى، جنورى 2017 ميں ايك بڑے كانفرنس كا انعقاد ہوا جس ميں بورما كے مختلف مذاہب كے پيروكاروں نے شركت كى اور جس ميں شيخ الازہر نے ان كو انسانيت كے پرچم تلے جمع ہونے كى دعوت دى ۔ چند دن پہلے ہى آ پ نے ايك پر زور بيان ديا جس ميں ہر زمہ دار شخص يا اداره سے اپنى زمہ دارى اٹھانے كا مطالبہ كيا ، مرصد الازہر نے بھى 2015 سے اس مسئلہ پر روشنى ڈالنے كے لئے " بورما كے مسلمان " كے عنوان سے ايك كتاب لكھى ، ہم دنيا بھر كى مختلف زبانوں ميں اپنى آواز پہنچانے كى كوشش كرتے ہيں ، ہمارا يہ چھوٹا سا عمل بظاہر چھوٹا ہی صحیح مگر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سكتے ہیں۔ہم ہر فورم ، ہر سطح اورہر جگہ برما کے مسلمانوں کے حق میں اور برما کی حکومت اور فوج کے ظلم كے خلا ف اپنا احتجاج ریکارڈ کريں گے . اپنے اس موضوع كا اختتام ہمش يخ الازہر كے بيان كے آخرى الفاظ سے كرتے ہيں : آپ اس ظالمانہ حملے كے سامنے ڈٹے رہیں ، ہم آپ کے ساتھ ہيں ، اور ہم آپ کو ہرگز بے يار ومددگار نہيں چھوڑيں گے، الله تعالى مددگار اور حامى ہے.. اور جان لو كہ بے شک الله تعالى فاسدوں كے عمل كو درست نہيں كرتا، اور يہ كہ " جنہوں نے ظلم كيا ہے وه بھى ابھى جان ليں گے كہ كس كروٹ الٹتے ہيں" (سورۀ الشعراء: )
Sunday, August 4, 2019
مسلمان ہندوستان میں سب سے سستا ووٹر ہیں
Featured Post
خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...
-
نظامت کے واسطے بہترین اشعار ایک موقع پر ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا کہ اگر خلاف ہے تو ہونے دو کوئی جان تھوڑئ ہے ...
-
جو ممالک اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، ان میں سب سے پہلا نمبر نیوزی لینڈ کا، دوسرا لکسیم برگ، تیسرا آئر لینڈ، چوتھا آئیس لینڈ...
-
کیا مشت زنی نقصان دہ ہے ؟ مادہ تولید کے خون یا ہڈیوں کے گودے سے بننے میں کتنی صداقت ہے؟ جواب : نہیں- مادہ تولید نہ تو خون سے بنتا ہے اور...


