Saturday, July 27, 2019

استاد جی آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو روپے،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک روپیہ دیا۔

شاگرد بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو روپے ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو روپے کیسے خرچ کیئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ روپے کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک روپیہ ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک روپے کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔ آمین
اپنی نیوز فیڈ میں پوسٹ کر دیں شاید کِسی ایک کو سمجھ آجائے۔شکریہ
جزاک اللہ۔۔

مسلم ہیں کیا؟

مسلم ہیں؟ آپ کو کرایہ پر مکان نہیں ملے گا

منور رانا کا مشہور شعر ہے: یہ دیکھ کر پتنگیں بھی حیران ہو گئیں۔ اب تو چھتیں بھی ہندو مسلمان ہو گئیں۔ رانا کی شاعری میں یہ اچھا شعر ہے لیکن ہندوستان کے موجودہ تناظر میں یہ  زمینی حقیقت ہے اور اس زمینی حقیقت کا سب سے زیادہ سامنا اس مسلم طبقہ کو کرنا پڑتا ہے جو کسی بڑے شہر میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، تجارت کرنا چاہتا ہے یا مزدوری کے بہانے ہی کوئی مکان کرائے پر لینا چاہتا ہے۔
  سامنا یوں کرنا پڑتا ہے کہ اسے کرائے پر صرف اس لیے مکان دست یاب نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان ہے۔ ہاں! اس برے کردار کا مظاہرہ بہت سنہرے بہانوں کی شکل میں ہوتا ہے جیسے: آپ نان ویج کھاتے ہیں اور ہم اپنے مکان میں اسے کھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، اگر کوئی بلند ہمت یا لبرل قسم کا مسلمان اس بہانے کو نکارتے ہوئے یہ صفائی دے کہ وہ ٹھیٹھ ویجیٹیرین ہے تو دوسرا حیلہ یہ کیا جاتا ہے کہ آپ کے تعلقات غلط تنظیموں سے ہو سکتے ہیں یعنی دہشت گردی اور اسلامو فوبیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سرکاری روزگار کا حوالہ دے  یا اپنی اعلی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوا لے اور ٹال مٹول کا کوئی بہانہ نہ چھوڑے تو اسی مکان کے دوسرے عام  کرایہ داروں کے مقابل اس مسلمان کے لیے اتنا زیادہ کرایہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ مستقل طور پر برداشت کرنے کے لائق نہیں ہوتا یعنی بہانہ کچھ بھی ہو بہر حال آپ مکان مالک کے لیے مسلمان ہیں اور یہ آپ کا وہ ناکردہ جرم ہے جو ہندوستان کے موجودہ سماج کے بڑے شہروں کو برداشت نہیں۔ یہ وہ خیالات ہیں جن کا اظہار ایڈووکیٹ محمد ادریس نے 1/ فروری 2019 میں  انگریزی ویب سائٹ "نیوز کلک" کے لیے House Apartheid In Jaipur کے عنوان سے  لکھے گئے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیا ہے۔
  محمد ادریس فی الوقت جےپور راجستھان کی ہائی کورٹ میں ریسرچر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ازیں قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے جج محترم آفتاب عالم صاحب کے ماتحت دو سال تک مشق کر چکے ہیں۔ بلند جذبات کا حامل یہ نوجوان بنیادی طور پر راجستھان کے ناگور ضلع کا رہنے والا ہے اور اپنے متعلقہ میدان میں بہترین صلاحیتوں کا مالک ہے۔ محمد ادریس کو دوران طالب علمی بھی جے پور میں کرائے پر مکان حاصل کرنے کے سلسلے میں بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی یادیں ان کے حاشیہ ذہن میں محفوظ تھیں لیکن بھولی بسری ہو چکی تھیں لیکن اب جب دوبارہ وہ بطور ملازم جےپور شفٹ ہوئے اور کرائے پر مکان تلاش کرنے کی کوششیں کیں اور اس بار پھر انہیں 2012 کی تلخ حقیقتیں اپنی نگاہوں کے سامنے نظر آئیں تو انھوں نے اپنے اس مقالے میں کھل کر ان کا اظہار کیا، کس موقع پر کس مکان مالک کا کیا ری ایکشن رہا وہ بھی لکھا اور زندگی کے ان تلخ مراحل میں ان کا ذاتی تاثر کیا ہے وہ بھی انہوں نے واضح انداز میں لکھا۔ان کا یہ مضمون درد مند، حساس طبع اور بلند فکر طبقے کے ساتھ ملت اسلامیہ کے سرمایہ دار طبقے کے لیے بھی لائق مطالعہ ہے۔
  محمد ادریس ایک ایمان دار قسم کے مکان مالک کے تاثرات کو اپنے مضمون کی شہ سرخی بناتے ہوئے لکھتے ہیں:
One landlord told me, “Muslims live in filthy ghettos and use filthy language. Riots and street fighting are in their blood.”
ایک مکان مالک نے مجھ سے کہا: "مسلمان گندی گلیوں میں رہتے ہیں اور گندی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ فسادات اور گلیوں کی لڑائی ان کے خون میں ہے"۔
ادریس نے نقل مکانی کے تعلق سے انسانی جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے:
شفٹ کرنے کا مطلب صرف جسم اور سامان کو منتقل  کرنا نہیں ہوتا، دماغی طور پر بھی اپنے آپ کو منتقل کرنا ہوتا ہے اور یہ سب سے مشکل کام ہوتا ہے ۔
لیکن جب  نقل مکانی کے اس تازہ غم پر بھی کسی کومذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑے تو اس مسافر ذہن کے دل و دماغ پر کیا نقوش ابھرتے ہیں، ادریس نے اپنے اس مضمون میں اس دماغی کیفیت کی خوب ترجمانی کی ہے۔ 
سن 2012 میں جب ادریس بطور طالب علم جے پور آئے، انھیں کسی نے کرایہ پر مکان نہ دیا، ایک مکان مالک کو شبہ ہو گیا اور اس نے ادریس کی بھولی شکل سے دھوکہ کھا کر یہ سمجھتے ہوئے اپنے پی جی میں رہنے کی اجازت دے دی کہ وہ مسلمان نہیں لیکن دو ماہ بعد جب اسے پتہ چلا کہ یہ ادریس ہے تو اس نے پولیس کی مدد سے ادریس کو اپنے پی جی سے باہر کیا اور مجبوراً ادریس کو کہیں دوسری جگہ ٹھہرنا پڑا۔ اس مکان مالک نے صاف کہا: وہ ادریس کے معصوم چہرے سے دھوکہ کھا گیا تھا کیوں کہ اسے ادریس شکل سے مسلمان کی طرح نظر نہیں آ رہا تھا۔
ادریس کا ماننا ہے کہ 2012 سے 2018 ہو گیا لیکن تعصب کی  دبیز چادر آج بھی جوں کی توں تنی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس بار ادریس نے ایک ہتھکنڈہ اپنایا کہ اپنا پورا نام بتانے کی بجائے صرف نام کا پہلا جز بتاتے جس سے بارہا فائنل شناخت نہیں ہو پاتی لیکن جیسے ہی پورا بتایا جاتا اور یہ ظاہر ہوتا کہ ادریس مسلمان ہیں، ان کے مطابق : دوسری جانب سے واضح جواب ہوتا : مسلمان کے لیے کوئی رہائش نہیں۔
ادریس لکھتے ہیں:جب مجھے میری پسند کے مکان نہیں ملتے اور میں مسلمان ہونے کا جرم پوچھتا تو بہانہ بازی کی پہلی دلیل ہوتی: وہ ایسے لوگوں کو کرایہ دار نہیں بنانا چاہتے  جو نان ویج کھاتے ہیں لیکن یہ صرف ایک بہانہ تھا، اسے رد کرنے کے لیے میں نے ان سے کہا کہ میں مکمل طور پر شاکاہاری ہوں اور کچھ بھی کھانا بنانا نہیں جانتا ، میں کھانا پکانا نہیں چاہتا، مجھے صرف رہنے کی جگہ چاہیے، میں باہر کھایا کروں گا ۔
لیکن اس معقول جواب پر بھی  مکان نہیں ملتے اور گاہے گاہے تو جب مکان مالکان کو کوئی معقول بہانہ نہیں مل پاتا تو موجودہ شرح سے کئی گنا زیادہ کرایہ مانگتے تاکہ ایسے کرایہ دار کہیں دوسرا ٹھکانہ تلاش کرنے پر مجبور ہوں۔
ادریس لکھتے ہیں: کبھی کبھی ایسا لگتا تھا جیسے مکان مالکان کرایہ دار نہیں، داماد تلاش کر رہے ہیں جس میں ان کے موہوم معیار کے مطابق کڑی شرطیں ہوں۔ ادریس کی ملاقات ایک ایسے مکان مالک سے ہوئی جو کایستھ تھا، جب ادریس نے اسے اپنی صلاحیتوں اور سرکاری ملازمت کے بارے میں بتایا وہ بہت خوش ہوا لیکن جیسے ہی اس نے نام سنا، تمام خوشیاں کافور ہو گئیں۔
ادریس اپنا ایک تجربہ بیان کرتے ہیں جب 2013 میں حیدر آباد  میں بم دھماکہ ہوا، ادریس نے فیس بک پر خبر پڑھی اور پڑھتے ہی اپنی مکان مالکن سے ٹی وی پر خبر دیکھنے کے لیے کہا۔ چند دنوں بعد مکان مالک سمیت دیگر کچھ رشتہ داروں نے ادریس کی یہ سوچ کر خفیہ جانچ شروع کر دی کہ اسے بم دھماکہ کی اتنی جلدی اطلاع کیسے ہوئی۔  
  ادریس کے تجربات کے مطابق عام طور پر مکان مالکان ایسے کرادیے دار چاہتے ہیں جو صبح کام  پر چلے جائیں اور شام کو لوٹ آئیں ۔ اسی طرح اگر تعلیم یافتہ، مہذب یا مہذب نظر آنے والے کرایے دار مل جائیں، اچھا سمجھاجاتا ہے۔ ادریس کے مطابق: میں ان خوبیوں میں سے چند خوبیوں کا حامل تھا لیکن جیسے ہی میرا نام سنا جاتا، پورا تصور بدل جاتا۔ ادریس نے ایک بار ایک ایسے مکان مالک سے ملاقات کی، جس نے دعوی کیا کہ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کر رہا ہےاور تعلیم کے شعبے میں طویل تجربہ رکھتا ہے۔  وہ سب گھر والے کرایہ پر تیار تھے، بات مکمل ہو چکی تھی لیکن 10 منٹ کے بعد جب انھوں نے آخر میں  نام پوچھا تو ان کا لبرل ازم ختم ہوگیا اور ان کے چہرے سے محسوس کیا جا سکتا تھا کہ یہ طے شدہ معاملہ صرف اس لیے کینسل ہو رہا ہے کہ کرایہ دار مسلمان ہے۔
ان تجربات کی روشنی میں ادریس کا ماننا ہے کہ مسلمانوں پر فرقہ واریت ، نسل پرستی اور مظالم تھونپے گئے ہیں۔  ملک بھر میں مسلمانوں کو  گندے علاقوں میں رہنے کا الزام دیا جاتا ہے اور اسی طرح ان پر یہ الزام  لگایا جاتا ہے کہ وہ دوسری ثقافتوں کے ساتھ مل جل کر نہیں رہتے بلکہ الگ رہنا پسند کرتے ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایسے علاقوں میں رہنے کے لیے مجبور کیا جا تا ہے اور اگر وہ ان گندے علاقوں سے باہر نکلنے کی کوشش کریں تب بھی انھیں خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔
اختتامی نوٹ کے طور پرادریس  اس بات کی تکرار کرتے ہیں کہ مسلم معاشرے کو ہر سطح پر الگ کیا جاتا ہے چاہے وہ ذات پات کے نام پر ہو، یا درجہ بندی کے نام پر، مذہب کے نام پر ہو،  یا پیشے کے نام پر، صنف کے نام پر ہو، یا  رنگ کے نام پر۔ اور امیدکرتے ہیں کہ ان کی تحریر سے آنے والی نسلوں کو یہ احساس ہوگا کہ ان کے پرکھوں کو کس طرح کی بد ترین نسل پرستیوں کا سامنا کرنا پڑا۔دریں اثنا انھیں ایک رہائشی مکان حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کو سمجھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔
ایڈووکیٹ ادریس کے ان تجربات اور احساسات سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی لیکن ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے علاوہ اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں بچا کہ ہندو مسلم منافرت کی یہ زہریلی ہوا ہر گھر میں داخل ہو چکی ہے اور اب اس ملک میں نہ کوئی ایک جے پور ہے اور نہ کوئی ایک ادریس بلکہ ہر شہر جے پور ہے اور ہر مسلمان ادریس۔  اور اس ناحیہ سے یہ ہندی سماج کا وہ نازک پہلو  ہے، جس پر مسلم معاشرے کو توجہ مرکوز کرنا از حد ضروری ہے۔
یہ نزاکت تب اور بڑھ جاتی ہے جب سروے یہ بتاتے ہیں کہ  کسی بھی اچھے شہر میں آ کر بسنے کا رواج بڑی تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے اور اسی کے ساتھ بد قسمتی سے مسلمانوں کے تئیں  شہروں میں مذہبی تعصب بھی بڑھتا جا رہا ہے اوریہ  صورت حال دن بہ دن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
اس تعصب کا مسلمانوں کو تعلیم،تہذیب اورتجارت وغیرہ بہت سے اہم میدانوں میں نقصان ہوتا ہے۔ مسلم کرایہ دار اچھی رہائش نہ مل پانے کی بنیاد پر ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں اور اسی الجھن کی وجہ سے بارہا نئے شہروں میں تعلیمی یا تجارتی سطح پر وہ کام یابی حاصل نہیں کر پاتے جو ان کا خواب ہوتی ہے۔ جبکہ  کئی بار تعصب والی جگہوں پر رہائش مل جانے کی وجہ سے دین و دیانت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں بلکہ کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ غیروں کے درمیان رہائش کی بنیاد پر مذہب بھی داؤں پر لگا بیٹھتے ہیں۔ در اصل انسان کی زندگی میں اس کی رہائش اور رہائشی علاقے کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کھان پان کی ہے کیوں کہ نسب اور خاندان سے اتنا نہیں سیکھا جا سکتا جتنا ماحول اور معاشرے سے سیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اچھی صحبت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اچھے اور مناسب رہائشی مکانات نہ مل پانے کی بنیاد پر بارہا طلبہ اپنا خاصا تعلیمی نقصان کر چکے ہوتے ہیں۔ بڑے شہروں میں اس کی بہت مثالیں ملتی ہیں۔  اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس اہم مگر خاموش کام کی طرف بھی خاطر خواہ توجہ مبذول کی جائے ، جس کے طریقے یہ ہو سکتے ہیں:
(الف) ہر بڑے شہر میں مسلم ہاسٹلز، مسافر خانے یا کم سے کم کرائے کے مکانات دست یاب ہوں تاکہ دوسری جگہوں سے آنے والے مسلمانوں کو در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑے۔ یہ ذمہ داری شہر کے معزز ، سرمایہ دار اور ذمہ دار حضرات اٹھائیں۔ اسی طرح علما کو بھی اس طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔ مسلم تنظیمیں بھی انکم کی نیت سے یہ کام کر سکتی ہیں۔
(ب) مسلم سرمایہ دار حضرات تجارت کی نیت سے بالخصوص اچھے اور صاف ستھرے علاقوں میں اپنے فلیٹ بنائیں تاکہ تعلیم یافتہ اور نوکری پیشہ مسلمانوں کو مناسب ٹھکانے مل سکیں۔
(ج) ہاسٹل اور اسکولوں سے جڑے ہوئے افراد جہاں سستے علاقوں میں یہ سہولیات فراہم کریں، وہیں پاش علاقوں میں بھی اپنا کام پھیلائیں تاکہ جہاں ان کا دائرہ وسیع ہو، وہیں ہمارے ضرورت مند افراد کی ضرورتیں بھی پوری ہوں۔ 
(د) اسی طرح مسلمانوں کو یہ بھی چاہیے کہ ایک ملک کے باشندوں کے درمیان دشمنی کی جو دیوار اتنی وسیع ہو چکی ہے، اپنی حکمت عملی سے اسے ڈھانے کی مسلسل کوششیں کرتے رہیں تاکہ ہماری آئندہ نسلوں کو اس نا کردنی کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔
(ھ) مسلمانوں کی ایک اجتماعی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی، لڑائی جھگڑوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کے تعلق سے اپنی اور اپنے علاقوں کی امیج شفاف بنانے کی فکر کریں  اور اپنے اوپر چسپاں ہو چکے ان خواہی نخواہی الزامات کو دور کرنے کی مقبول مساعی کریں۔
(و) بہت ممکن ہے مسلم ہاسٹلز ہونے کی صورت میں جہاں ہم دوسروں کے دست نگر نہ رہیں، دوسرے ہماری پناہ گاہوں میں مکین ہوں اور نتیجتاً ہماری تہذیب و تمدن سے متاثر ہو کر ہمارے مذہب کے اسیر بھی۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ یہ تجارتی پہلو بجائے خود تبلیغ دین کا ذریعہ بن سکتا ہے  یا کم سے کم اسلام کے تئیں نادانوں کی بد گمانیاں دور  کرنے کا سبب ہو سکتا ہے۔ 
در اصل مسلمانوں کی بڑی غلطی یہ رہی ہے کہ وہ غیروں کے ساتھ داعیانہ تعلقات استوار کرنے میں نا کام رہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں طبقات کے درمیان باہمی نفرتوں کی خلیج بڑھتی رہی اور آج ان نفرتوں نے تعصب کی شکل اختیار کر لی ہے جبکہ ازیں قبل جب تک ہمارا مزاج داعیانہ تھا، اغیار ہم سے مانوس بھی تھے اور اسلام سے قریب بھی۔
تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی

نمازکی حفاظت سےمتعلق امور

نمازکی حفاظت سےمتعلق امور
نمازوں کی حفاظت میں کچھ وہ امورہیں جونمازپرمقدم ہیں مثلًا یہ کہ انسان کی توجہ نماز کےوقت کی طرف مبذول رہے اور جیسےہی نماز کا وقت شروع ہو وہ نماز کی تیاری میں مصروف ہوجائے وضوکرے اور پاک اور صاف لباس پہنے جماعت سے نماز پڑھنےکےلیے مسجد کی طرف روانہ ہو اورنمازشروع کرنے سے پہلے اپنے دل کو دنیاوی وسوسوں سے فارغ کرلے اور غیراللہ کی طرف توجہ سے خالی الذہن ہوجائے اوردکھاوے اورسنانےسےحتی الامکان احترازکرے
اورکچھ وہ امور ہیں جونمازمیں داخل ہیں مثلًا یہ کہ قرات کے دوران اس کا ذہن متوجہ ہو اور نماز میں دائیں بائیں توجہ نہ کرے
حدیث میں ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں نماز میں اپنی نظر کہاں رکھوں ?
آپ نے فرمایا  اے  انس اپنے سجدہ کی جگہ
اور کچھ وہ امور ہیں جونمازسےمؤخرہیں اوروہ یہ ہیں کہ نمازپڑھنےکےبعدفضول کاموں اورلھوولعب میں مشغول نہ ہو اورنمازپڑھنےکےبعد حتی الامکان گناہوں سےبچارہے
محمدمجاہدالاسلام برکاتی

ظاہر کا دل سے رشتہ

*ظاہر کا دل سے رشتہ*

قدرت نے انسان کی ظاہری صورت اور دل میں ایسا رشتہ رکھا ہے کہ ہر ایک کا دوسرے پر اثر پڑتا ہے اگر آپ کا دل غمگین ہے تو چہرہ پر اداسی چھا جاتی ہے اور دیکھنے والا کہہ دیتا ہے کہ خیر تو ہے چہرہ کیوں اداس ہے ۔۔۔ ؟
دل میں خوشی ہے تو چہرہ بھی کھلا کھلا ہوجاتا ہے معلوم ہوا کہ دل کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے اسی طرح ڈاکٹر کہتے ہیں  کہ ہارٹ پیشنٹ  کو اچھی ہوا میں رکھو اچھے اور صاف کپڑے پہناؤ اس کو فلاں دوا کے پانی سے غسل دو ۔
حالانکہ  بیماری تو دل میں ہے یہ ظاہری جسم کا علاج کیوں ہورہا ہے اسی لئے کہ اگر ظاہر اچھا ہوگا تو اندر بھی اچھا ہوجائے گا۔ یونہی  تندرست آدمی کو چاہئے کہ روزانہ غسل کرکے صاف کپڑے پہنے صاف گھر میں رہے تو تندرست رہے گا ، ورنہ بیمار ہو جائے گا ۔

اسی طرح غذا کا اثر بھی دل پر پڑتا ہے۔ سؤر کھانا شریعت نے اسی لے حرام فرما دیا کہ اس سے بے غیرتی پیدا ہوتی ہے کیونکہ سؤر بے غیرت جانور ہے اور سؤر کھانے والی قومیں بھی بے غیرت ہوتی ہیں جس کا تجربہ ہورہا ہے۔۔۔
چیتے اور شیر کی کھال پر بیٹھنا اسی لئے منع ہے کہ اس سے غرورپیدا ہوتا ہے، اور بکری کی کھال پر بیتھنے سے عاجزی پیدا ہوتی ہے ، کیونکہ بکری ایک عاجز جانور ہے ۔

غرضیکہ ماننا پڑے گا کہ غذا اور لباس کا اثر دل پر ہوتا ہے تو اگر کافروں کی طرح کا حلیہ بنایا گیا یا کفار کی سی صورت بنائی گئی تو یقینا دل میں کافروں سے محبت اور مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوجائے گی اور یہ کسی مسلمان کے لیے سب سے بڑی ہلاکت ہے ۔ اس لئے حدیث پاک میں آیا ہے ''مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ''  جو کسی دوسری قول سے مشابہت پیدا کرے وہ ان میں سے ہے۔

*(المعجم الاوسط، الحدیث ۸۳۲۷، ج ۲، ص ۱۵۱)*

لہذا ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے مسلمانوں کی سی صورت بنانی چاہئے تاکہ مسلمانوں ہی کی طرح سیرت پیدا ہو اور مسلمانوں سے محبت پیدا ہو  اور پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم  کی سنتوں کو اپنانا چاہئے  تاکہ ہمیں ان سے محبت پیدا ہو اور ہماری دنیا و آخرت سنور جائے ۔
*منجانب  : سوشل میڈیا ، دعوت اسلامی*

نظامت کے واسطے بہترین اشعار

نظامت کے واسطے بہترین اشعار

ایک موقع پر ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا کہ

                 اگر خلاف ہے تو ہونے دو کوئی جان تھوڑئ ہے
                 یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑئ ہے
                ارے سبھی کا خون شامل ہے یہاں کی مٹی میں
                یہ ہندوستان کسی کے باپ کا تھوڑئ ہے

جب یہ بات دہلی کے ایک شاعر منصور عثمانی تک پہنچی تو انھوں نے کہا کہ


                      ہمارے جیسے کسی کی اڑان تھوڑئ ہے
                      جہاں پے ہم ہیں وہاں آسمان تھوڑئ ہے

اور جب یہ بات مراداباد کی سرزمین پر پہنچتی ہے تو مجھے یاد آتا ہے کہ وہاں کے ایک شاعر ہاشم قدوسی نے کہا



                    رسولِ پاک کے جیسے کسی کی شان تھوڑئ ہے
                     میاں نعت نبی کہنا کوئی آسان تھوڑئ ہے
                     ارے نبی کے نام لیوا ہیں نبی پر جان دیدینگے
                    نبی کی جان سے بڑھ کر ہماری جان تھوڑئ ہے



اور جب یہ بات مہاراشٹر کے شاعر مالیگا ؤں تک پہنچی جناب فرحان دل تک تو مجھے یاد آتا ہے کہ انہوں نے کہا


                       زمانے میں جسے کاغذ قلم دونوں میسر ہیں
                      وہ کاغذ اور قلم سے کام لے لے ایسا تھوڑئ ہے
                     خدا توفیق دیتا ہے تو لب حرکت میں آتے ہیں
                     کوئی بھی مصطفیٰ کا نام لے لے ایسا تھوڑئ ہے


سامعین جب یہ بات بہار سیتا مڑھی کے ایک اپاہچ شاعر مجاہد حسنین حبیبی تک پہنچی تو وہ یہ کہنے لگے کہ



                      مجاہد لاکھ کالا ہے مگر مغرور تھوڑئ ہے
                     اپاہچ پیر سے ہے ذہن سے معذور تھوڑئ ہے
                    ہزاروں میل کی دوری بتاکر کیوں ڈراتے ہو
                     ہو سچا عشق گر دل میں مدینہ دور تھوڑئ ہے




اور میرے دوستوں جب یہ بات دل خیرآبادی تک پہنچتی ہے تو وہ بھی چار مصرعے کہتے ہیں کہ



                    سبھی کا عرش کی تختی پے نام تھوڑئ ہے
                    میرے نبی کا کوئی ہم مقام تھوڑئ ہے
                   صحابہ جتنے بھی ہیں سب سادگی کے قائل ہیں
                 ابو لہب کی طرح تام جھام تھوڑئ ہے



اسکے بعد جب یہ بات حسنپور کے علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پہنچی جسے ہم گنگوار کے نام سے جانتے ہیں اسکے ایک باشندے کے کانوں میں جب یہ آواز پہنچتی ہے محمد طالب گنگواری تک تو وہ بھی قلم اٹھاتے ہیں اور چار مصرعے یوں رقم کرتے ہیں کہ



                   طالب لاکھ عاصی ہے مگر منکر تھوڑئ ہے
                   یقیناً علم تو کم ہے مگر جاہل تھوڑئ ہے
                  ارے نبی کی نعت تو لکھی دنیا کے اکثر لوگوں نے
                 نبی کی نعت کو کوئی تام کردے ایسا تھوڑئ ہے

انہیں اشعار کے ساتھ میں اپنے ہر دلعزیز مہمان شاعر کو آواز دیتا ہوں کہ حضرت تشریف لائیں اور اور اپنی خوبصورت آواز کا لوگوں کے دلوں میں جادو چلائیں

نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک کے بارے درست معلومات

یقینا گنبد خضرا وہ گنبد ہے، جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں بستا ہے۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کے دل میں گنبد خضرا کی زیارت کی خواہش انگڑائی نہ لیتی ہو۔ اللہ کے محبوب نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر قائم اس گنبد خضرا کے نیچے اور روضہ شریف کے اندر کیا ہے، اس کے متعلق کہی کہانیاں مشہور ہیں۔ انٹرنیٹ پر کئی جعلی تصاویر گردش میں رہتی ہیں۔ انواع و اقسام کی قبروں کو قبر رسول کے نام سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے۔ کبھی کسی آدمی کی تصویر اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے کہ یہ خادم رسول ہیں اور قبر مبارک کی صفائی کی خدمت پر مامور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے سب دعوے بے بنیاد اور مصنوعی ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟ روضہ شریف کے اندر کیا ہے؟ کیا کوئی قبر مبارک تک رسائی رکھتا ہے؟ ان سب سوالوں کے جوابات کچھ عرصہ قبل سعودی حکومت نے باضابطہ طور پر دیئے ہیں اور اندرونی ہال کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں، جن سے سب بناوٹی باتوں کا قلع قمع ہوتا ہے۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وصال ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں ہوا تھا اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ اس کے بعد پھر حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہما بھی وہاں مدفون ہوئے۔ اس طرح روضہ شریف کے اندر اس وقت تین قبریں ہیں۔ اس طرح کوئی بھی ایسی تصویر جس میں صرف ایک قبر ہو، وہ کسی صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقد کی نہیں ہو سکتی اور ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی کوئی تصویر دنیا میں موجود نہیں ہے. اس لیے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔ اور اس سے پہلے کیمرا موجود ہی نہیں تھا کہ اس کی کوئی تصویر ہوتی۔
وہ حجرہ شریف جس میں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے دو اصحاب کے قبریں ہیں، اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے۔ یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔ اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان موجود ہی نہیں ہے۔ روضہ رسول ﷺ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر پڑے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں چیچن صدر کی وڈیو وائرل ہوئی ہے
روضہ رسولﷺ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیوں کے سوراخوں سے انہیں بس وہ پردہ ہی نظر آ سکتا ہے، جو حجرہ شریف کی پنج دیواری پر پڑا ہوا ہے۔ اس طرح سلام پیش کرنے والے زائرین اور آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر اطہر کے درمیان گو کہ چند گز کا فاصلہ ہوتا ہے لیکن درمیان میں کل چار دیواریں حائل ہوتی ہیں۔ ایک سنہری جالیوں والی دیوار، دوسری پانچ کونوں والی دیوار، تیسری ایک اور پنج دیواری، اور چوتھی وہ چار دیواری جو کہ اصل حجرے کی دیوار تھی۔
گزشتہ تیرہ سو سال سے اس پنج دیواری حجرے کے اندر کوئی نہیں جا سکا ہے سوائے دو مواقع کے۔ ایک بار 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں ان کا غلام اور دوسری بار 881 ہجری میں معروف مورخ علامہ السمہودی کے بیان کے مطابق وہ خود۔
ذہن میں رہے کہ نور الدین زنگی علیہ رحمہ والے واقع میں جو سیسہ پلائی دیوار بنائی گئی تھی وہ زمینی تھی اور وہ تقریبا 200 فٹ نیچے اور جو واقعہ میں پاؤں نظر آیا تھا وہ بھی سرنگ کے ذریعے نظر آیا تھا نہ کہ قبر مبارک کی طرف سے۔ بہرحال اس موقع پر بھی قبر کی زیارت ثابت نہیں۔
مسجد نبوی میں قبلہ کا رخ جنوب کی جانب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔ بڑے ہال کمرے کے اندر جانے کا دروازہ مشرقی جانب ہے یعنی جنت البقیع کی سمت ہے۔ یہ دروازہ صرف خاص شخصیات کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہوں تو بائیں جانب حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی محراب ہے۔ اس کے پیچھے ان کی چارپائی (سریر) ہے۔ العربیہ ویب سائٹ نے محقق محی الدین الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ ہال کمرے میں روضہ مبارک کی طرف جائیں تو سبز غلاف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوار نظر آتی ہے۔ 1406 ہجری میں شاہ فہد کے دور میں اس غلاف کو تبدیل کیا گیا۔ اس سے قبل ڈھانپا جانے والا پردہ 1370 ہجری میں شاہ عبد العزیز کے زمانے میں تیار کیا گیا تھا۔ مذکورہ دیوار 881 ہجری میں اُس دیوار کے اطراف تعمیر کی گئی جو 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تعمیر کی تھی۔ اس بند دیوار میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ قبلے کی سمت اس کی لمبائی 8 میٹر، مشرق اور مغرب کی سمت 6.5 میٹر اور شمال کی جانب دونوں دیواروں کی لمبائی ملا کر 14 میٹر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 91 ہجری سے لے کر 881 ہجری تک تقریباً آٹھ صدیاں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو نہیں دیکھ پایا۔ اس کے بعد 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے بوسیدہ ہو جانے کے باعث ان کی تعمیر نو کرنا پڑی۔ اس وقت نامور مورخ اور فقیہ علّامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی علیہ رحمہ مدینہ منورہ میں موجود تھے، جنہیں ان دیواروں کی تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔
وہ لکھتے ہیں 14 شعبان 881 ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ میں نے رسول کریم ﷺ اورآپ کے دونوں خلفاء کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہٴ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔ میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا ابھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبر تھی۔ قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔ اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔
السمہودی نے اپنی کتاب میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔ حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔ اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“۔
یہ سب معلومات معروف کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم“ کے مؤلف السمہودی نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں۔ مسجد نبوی، حجرہ شریف اور قبر مبارک کے حوالے سے یہ کتاب سب سے مستند حوالہ ہے۔ اس کتاب میں مدینہ منورہ کی تاریخ سے متعلق تمام معلومات جمع کی گئی ہیں. علامہ السمہودی کی وفات 911 ہجری میں ہوئی۔ 881 ہجری یا 1477 عیسوی سے لے کر اب تک تقریباً ساڑھے پانچ سو سال کے عرصے میں کوئی انسان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت نہیں کر سکا ہے. جہاں تک چیچن صدر کو لے جایا گیا، وہاں سے آگے مزید چار دیواریں اور ہیں۔
۔۔۔۔

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...