Thursday, July 31, 2025

خود احتسابی کا فقدان

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے

ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ناکامی کا سامنا کرنے کے بجائے ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی فرد یا جماعت ملت کی بہتری کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھاتی ہے تو ہم اس پر فرقہ وارانہ لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ ہم کسی کی نیت، اخلاص، یا جدوجہد پر غور کرنے کے بجائے اسے مسلکی اور گروہی خانوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔

یہی رویہ ہماری اجتماعی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اتحاد و یکجہتی کے اصول پر کاربند رہے تو دنیا پر حکمرانی کی، مگر جب فرقہ واریت، حسد، اور الزام تراشی نے ہمارے رویوں کو جکڑ لیا تو ہم مغلوب ہو گئے۔ 

 *الزام تراشی کی روایت اور اس کے نقصانات* 

آج ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ اگر کوئی مسلمان قوم و ملت کے لیے اچھا کام کرتا ہے تو ہم بجائے اس کی حوصلہ افزائی کے، اس پر مسلکی یا نظریاتی لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی اصلاحی تحریک چلتی ہے تو ہم اسے ایک خاص طبقے یا گروہ سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے ہمیں علمی، معاشی اور سیاسی میدان میں کمزور کر دیا ہے۔  


ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے جھوٹے نعرے بلند کرتے ہیں اور جن لوگوں کو حقیقتاً امت کی رہنمائی کرنی چاہیے، انہیں مسلکی تعصبات میں الجھا دیتے ہیں۔ ایسے نام نہاد قائدین کو ہم "شیر ببر" قرار دیتے ہیں جو صرف الفاظ کی گرج رکھتے ہیں لیکن عمل سے خالی ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جو لوگ واقعی ملت کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں، انہیں ہم اپنے بے بنیاد الزامات کا نشانہ بنا کر راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔  

 *تاریخ سے سبق* 

تاریخ میں جب بھی مسلمانوں نے خوداحتسابی کی روش کو ترک کر کے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا، زوال ان کا مقدر بن گیا۔ خلافتِ عباسیہ کا زوال، اندلس کی بربادی، اور برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ، یہ سب اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ جب مسلمان خود کو دھوکہ دینے لگتے ہیں اور اصل مسائل سے منہ موڑ لیتے ہیں، تو ان کی عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔  

ہمیں مذکور امور پر سو فیصد عمل کرنے کی ضرورت ہے؛

 *خوداحتسابی پر عمل* 

   ہمیں اپنی ناکامیوں کا سبب خود تلاش کرنا ہوگا اور اپنی اصلاح کی طرف بڑھنا ہوگا۔  


 *فرقہ واریت اور مسلکی تعصب سے دوری* 

   اگر ہم اتحاد کے اصول پر عمل کریں اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے ان کے اچھے کاموں کو سراہیں، تو ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔  


 *عملی اقدامات* 

   صرف نعروں اور الزامات سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں عملی طور پر تعلیمی، سیاسی، سائنسی، اور اقتصادی ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔  

 *حقیقی قیادت کو پہچان* 

   ہمیں جھوٹے نعروں کے پیچھے جانے کے بجائے ان لوگوں کی قیادت قبول کرنی چاہیے جو واقعی ملت کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کے پلان پر چلنے کی ضرورت ہے جو محنت اور تجربے سے مسائل کی جڑ تک پہنچ کر اس کا حل اور پلان پیش کرتے ہیں نہ ان کی جو اسٹیج پر پان جباتے جباتے پلان بناکر پیش کرتے ہیں اور نعروں کی گونج ختم ہوتے ہی سرد ہو جاتے ہیں۔ یعنی ہمیں سنجیدہ اور ریسرچ و تحقیق پر مشتمل پلاننگ کی ضرورت ہے نہ کہ لفاظیوں کی۔

اگر ہم نے اپنا طرزِ فکر تبدیل نہ کیا اور الزام تراشی کی روایت کو جاری رکھا، تو مزید پستی میں چلے جائیں گے۔ ہمیں ایک متحد امت بننے کے لیے خوداحتسابی کی راہ اپنانا ہوگی، تعمیری سوچ کو فروغ دینا ہوگا، اور ایک دوسرے کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ہمیں بھی ان قوموں کی فہرست میں شامل کر دے گی جو اپنی نادانی کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے مٹ گئیں۔


محمد شہادت حسین فیضی

وقف بل کے بعد جذباتی رد عمل

 وقف بل کے بعد جذباتی ردعمل اور حقیقی تجزیہ

1. جذباتی ردعمل:

- وقف بل کے پاس ہونے پر کئی افراد نے غصے، ناراضگی، اور سیاسی لیڈروں (نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو وغیرہ) پر الزامات کا اظہار کیا۔

- بعض افراد نے انہیں "غدار" تک کہا۔


2. سوال: اصل غدار کون؟

- اصل غدار وہ نہیں، بلکہ *ہم خود* ہیں، جنہوں نے اپنے وسائل کا مؤثر استعمال نہیں کیا۔


3. وقف: ایک عظیم وسائل، مگر غیر استعمال شدہ:

- *وقف کی کل اراضی:* تقریباً *6 لاکھ ایکڑ*  

  *(ماخذ: Sachar Committee Report, 2006)*

- *وقف جائیدادیں:* 5 لاکھ سے زائد


 ہم وقف کی مدد سے بنا سکتے تھے:

- ہزاروں اسکولز

- سینکڑوں ہسپتال

- درجنوں یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز

- خواتین و بزرگوں کے لیے فلاحی مراکز

- ہاسٹلز اور ہنر سازی کے ادارے


4. تعلیمی و سماجی پسماندگی کے اعداد و شمار:


- *اعلیٰ تعلیم میں مسلم نمائندگی:* صرف *4 فیصد سے بھی کم*  

  *(ماخذ: Ministry of Education, GoI & NSSO)*

  

- *6-14 سال کے مسلم بچوں کی تعلیمی حالت:*  

  تقریباً *25 فیصد* بچے اسکول سے باہر یا اسکول چھوڑ چکے  

  *(ماخذ: Sachar Committee Report)*


- *مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ:* *3 فیصد*  

  *(ماخذ: Sachar Committee Report)*


- *شہری غربت کی شرح:* *38.4 فیصد*  

  جو کہ *SC/ST سے بھی بدتر* ہے  

  *(ماخذ: NSSO, 2011-12)*


5. تعلیمی اداروں کی موجودہ حالت:


- ہندوستان میں *ایک بھی وقف فنڈ سے چلنے والا* ایسا میڈیکل کالج نہیں جو غریب مسلم طلباء کو *سبسڈی کے ساتھ MBBS* تعلیم دے۔

- موجودہ مسلم پرائیویٹ کالجز عام کالجوں کی طرح *بھاری فیس* لیتے ہیں۔

- شمال و جنوب کے اکثر مسلم ادارے فیس کے معاملے میں قابل دسترس نہیں۔


6. ناکامی کی وجوہات:

- *70 فیصد وقف اراضی پر قبضہ یا غلط استعمال*  

  *(ماخذ: Times of India, 2021)*

- *وقف بورڈز میں بدعنوانی اور سیاسی اثرورسوخ*

- کوئی *اسٹریٹجک منصوبہ بندی* یا اجتماعی وژن موجود نہیں

- کوئی *احتساب* کا نظام نہیں


7. دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت:

- *عیسائی برادری:* CMC Vellore جیسا ادارہ - عالمی معیار اور کم خرچ

- *سکھ، جین کمیونٹیز:* ہاسٹل، تعلیمی ادارے، ہسپتال کامیابی سے چلاتے ہیں


8. ہماری حالت؟

- ہم بحث کرتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہیں کرتے۔

- ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہم پیچھے رہ گئے، مگر *اپنے ہی وسائل کو ضائع کر بیٹھے*


9. *وقف: ایک زمین نہیں، ایک لائف لائن، ایک امانت* 

وقف صرف چند ایکڑ زمین یا جائیداد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم دینی فریضہ، ایک سماجی لائف لائن، اور اللہ کی ملکیت ہے۔ اس پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل عالم اسلام کے ایک مقدس عمل پر حملہ ہے۔


آج، وقف کی اس قیمتی میراث پر اسلام دشمن اور ملک دشمن عناصر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جیسے بھارت کے بدھ مت کے ماننے والوں نے بدھ بہار کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی، ویسے ہی وقف کے تحفظ کی لڑائی بھی بین الاقوامی سطح پر لڑی جائے۔ کیونکہ یہ حملہ صرف ایک خاص قوم یا علاقے پر نہیں، بلکہ اللہ کی اس ملکیت پر ہے جو پوری امت مسلمہ سے جُڑی ہوئی ہے۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سیاسی، سماجی، اور عوامی ہر سطح پر اپنے وجود اور غیرت کا ثبوت دیں۔ نسل نو کو بیدار کرنا ناگزیر ہے۔ یہ لڑائی اگر قیامت تک بھی جاری رکھنی پڑے تو رکنی نہیں چاہیے، کیونکہ یہ کسی فرد کی ملکیت کی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی امانت کی بات ہے۔ اور اللہ کی امانت کے لیے اہل ایمان کو کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

 *یہ وقت ہے خود احتسابی کا* 

صرف کھانے، سونے اور شکایت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

ہمیں سوچنا ہوگا، منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔


آئیے مل کر ملک کی دیگر اقلیتوں کی طرح ہم بھی اپنی لڑائی خود لڑیں اور بیساکھیوں کا سہارا لینا بند کریں۔


خیر اندیش ۔ محمد شہادت حسین فیضی۔

کیا علماء کا وقار انحطاط پذیر ہے

 *کیا علماء کا وقار انحطاط پذیر ہے؟* 

(تیسری اور آخری قسط)

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں

خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں

اپنے ایک دیئے کو چاند بتانے کے لیے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

دُنیا اور دُنیا کے لوگوں سے ڈر اور خوف جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خود غرضی یہ سب انسانیت اور انسانوں کے لیے ہلاکت خیز بیماریاں ہیں۔ جس کی تباہی و بربادی سے دو چار ہو کر ہم *انحطاط پذیر* ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے زخموں اور مجروح اعضاء پر یہ کہہ کر نمک پاشی کی جاتی ہے کہ یہ ہمارے رہبر اور رہنما ہیں۔ ہمارے امام ہیں اور مدارس کے معلمین ہیں۔ دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور کیسے کر رہے ہیں؟


وہ ذوی الاحترام عہدے، منصب اور القابات جو ہمارے اسلاف کے لیے کبھی شان و عظمت کی علامتیں ہوا کرتی تھیں، آج ہمارے لیے طعن و تشنیع اور ضرب المثل کے الفاظ ہو گئے ہیں۔ مثلاً:


1۔اسٹیج سے لڑائی جھگڑے کے انداز میں ناسمجھ میں آنے والی گرجدار اور کریہہ آواز جب شریفوں اور بیماروں کے کانوں سے ٹکراتی ہیں۔تو بس صرف ان کی آه ہی نکلتی ہے اور طنز سے کہتے ہیں کہ وہ دیکھو یہ فلاں علامہ ہیں جو قوم و ملت کو دھوکا دے رہے ہیں۔


2۔رنگ برنگ کی ٹوپی اور کرتا کے ساتھ جب گویوں اور جوکروں کی ٹولی جو کسی نہ کسی مدرسے کی علامتی تخلص کے ساتھ گھنٹوں ممبر رسول کی حرمت پامال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی تعلیم یافتہ شریف لوگ اور دین و سنت کو سیکھنے کی نیت سے آنے والے حضرات یہ کہہ کر رخصت ہونے لگتے ہیں کہ جو وعظ و نصیحت سننے کا وقت تھا وہ تو برباد ہو گیا، اب یہاں کیا رکھا ہے؟


3۔کيا، یہ صحیح نہیں ہے؟ کہ ہم اپنی غلط روی کی وجہ سے منزل سے بہت دور ہو گئے ہیں؟ ہاں، یہ بھی صحیح ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کی دنیا چمک رہی ہے، لیکن آخرت کے لیے ان کے پاس بھی کچھ نہیں ہے ۔وہ کون سی عبادت و ریاضت اور دین و سنت کی خدمات ہیں جو ریا و سمہ سے پاک ہیں؟ جو خالصتاً لوجہ اللہ ہے؟


واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی


برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی


رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی نہ رہی


فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی


جلسوں کی روحانیت ختم ہو گئی۔ صرف تماشہ، ریاکاری، مکاری رہ گئی ہے، العیاذ باللہ۔ الا ماشاء اللہ۔


اپنے ایک دیئے کو چاند بتانے کے لیے


بستی کا ہر ایک چراغ بجھانا پڑا ہمیں


جلیل ہادی صاحب کا یہ شعر جب میں پڑھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ شعر ہم لوگوں کے لیے ہی لکھا تھا۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے ؟کہ ہم صرف اپنے ایک مدرسہ کو عظیم جامعہ (یونیورسٹی) اور بین الاقوامی سطح کا ادارہ بتانے کے لیے سینکڑوں مدارس کے پڑھائے ہوئے بچوں کو ہائی جیک کر کے داخلہ لیتے ہیں اور پھر ان بچوں کو اپنا پڑھایا ہوا طالب علم کہہ کر قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارا اور ہمارے ادارے کی شہرت و نامواری ہو۔ شاید ہم ایسا کر کے ان سيکروڑوں مدارس کا گلا گھوٹ رہے ہوتے ہیں، جو سو دو سو روپے کا چندہ کر کے انتہائی جانفشانی کے ساتھ کم وسائل میں بھی دین و سنت کی خدمت کر رہے ہیں۔


اور ٹھیک ایسا ہی ہم میں سے جو بڑے ہیں، خواہ وہ بڑے علمائے کرام، مدارس کے معلم ہوں یا شاعر و خطیب ہوں یا امام مسجد۔ ہم صرف ایک اپنی ذات کو چمکانے کے لیے اور خود کو فقیہ اعظم، مرشد اعظم یا شاعر اسلام اور خطیب اعظم بنا کر پیش کرنے کے لیے کبھی کسی کے جاسوسی کرتے ہیں، عیب جوئی کرتے ہیں اور پھر غیبت اور بہتان تراشی کر کے، کسی کو صلح کلی، کسی کو فاسق، گمراہ اور کافر و مرتد تک کہہ دیتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ، العیاذ باللہ۔


علامہ اقبال کے یہ اشعار بھی شاید ہمارے لیے ہی ہے۔


گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا


کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ


اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک


نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ


یا اللہ! اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے ہم سب کو ان موذی اور مہلک امراضِ ہوا و ہوس سے شفاء عطا فرما۔ ہم سب کو اخلاص و لِلّٰہیت کے ساتھ دین و سنت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بے شک تو ستار و غفار ہے اور کارساز و مالک ہے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔


 *محمد شھادت حسین فیضی* 

                              +91 94315 38584

مادر وطن میں مذہبی تعلیم اور اس کے اثرات

ہندوستان میں سینکڑوں مذاہب و مسالک ہیں۔گوناں گوں تہذیب و ثقافت اور زبانیں ہیں۔ ان میں ہندو، مسلم، سکھ ،عیسائی اور جین یہ پانچ مذاہب مشہور و معروف ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے درجنوں اور سینکڑوں فرقے ہیں۔ چونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اس لیے ہر ایک کو یہاں اپنے اپنے مذہب و مسلک اور فرقے کی تبلیغ و اشاعت کا حق حاصل ہے اور دستور اس کی آزادی دیتا ہے۔ اس میں سب سے بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہے، جس میں ہزاروں ذات، برادریاں اور فرقے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی، متحرک اور جامع تنظیم آر ایس ایس ہے جو بادل ناخواستہ ہی سہی تمام ذات برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتی ہے اور کوشش بھی کرتی ہے۔ ان کا نقطہ اتحاد ہندوتواد، ہندوازم یا سناتن ہے۔ جس میں وہ آج کافی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ یہ جماعت آج بھاری اکثریت کے ساتھ سینٹرل حکومت میں بھی ہے اور راجدھانی کی ریاستی حکومت میں بھی۔ یہ عدلیہ اور انتظامیہ میں نیچے سے اوپر تک ہر عہدوں پر ہندوتوادی وچار دھارا کے ساتھ مضبوط گرفت بنائے ہوئے ہیں۔ موجودہ وقت میں وہ اس قدر حاوی ہیں کہ اپنی پسند کے مطابق قانون بھی بناتے ہیں اور انتظامیہ اور عدلیہ کے ذریعے اسے نافذ بھی کرتے ہیں بلکہ جمہوریت کے چوتھے کھمبے پر چڑھ کر اپنے نظریات کا برملا اظہار اور اس کا پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی بھی مفاد کی من مانی توضیح و تشریح کے ساتھ اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔ عدالتوں سے اس کو قانونی جامہ پہناتے ہیں۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ آج عدالتیں ان کے حساب سے فیصلہ سناتی ہیں اور ملک کی دونوں ایوانیں ان کے اشاروں پر ناچتی ہیں۔ یہ آج کے ہندستان کی وہ حقیقت ہے جسے سیکولر ملک کی حکومت خود ہی چینخ چینخ کر بڑی بے شرمی اور دیدہ دلیری کے ساتھ خود ہی بیان کرتی ہے۔ اس کی سیکڑوں مثالیں آپ کو صرف گزشتہ ایک دہائی میں ہی مل جائیں گی۔ میرے عزیزو ، 2011 کی مردم شماری کے مطابق اس ملک میں ہندو – تقریباً 79.8% (تقریباً 96 کروڑ) ہیں، مسلمان – تقریباً 14.2% (تقریباً 17 کروڑ) ہیں، عیسائی – تقریباً 2.3% (تقریباً 2.9 کروڑ) ہیں ، سکھ – تقریباً 1.7% (تقریباً 2 کروڑ) ہیں، بدھ مت کے پیروکار – تقریباً 0.7% (تقریباً 85 لاکھ)، جین مت کے پیروکار – تقریباً 0.4% (تقریباً 45 لاکھ) ہیں، جبکہ دیگر مذاہب اور غیرمذہبی لوگ – تقریباً 0.9% ہیں۔ 

ملک میں دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں ملک کی دوسری اور تیسری سب سے بڑی اقلیت عیسائیوں اور سکھوں کی ہے، جو مسلمانوں کے مقابلے میں تعداد میں بہت کم ہیں لیکن تعلیم و تجارت میں یہ لوگ بہت آگے ہیں۔

 2019 کے عام انتخابات (17ویں لوک سبھا) میں مسلمان ایم پی 27 (تقریباً 5%)، جبکہ آبادی میں ان کا تناسب 14.2% ہے۔ عیسائی ایم پی 6-7 (تقریباً 1.2%)، جبکہ ان کی آبادی کا تناسب 2.3% ہے۔سکھ ایم پی 13 (تقریباً 2.4%)، جبکہ سکھ آبادی 1.7% ہے، اسی طرح ریاستی سطح پر دیکھیں تو ریاستی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی موجودگی مختلف ریاستوں میں مختلف ہے۔ لیکن ان میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔ اتر پردیش میں تقریباً 17% مسلمان ہیں، لیکن اسمبلی میں ان کا تناسب 6-8% کے قریب رہتا ہے۔بہار میں مسلم آبادی 16%، جبکہ نمائندگی 7-9%۔مغربی بنگال میں مسلم آبادی 27%، لیکن نمائندگی 15-18% کے درمیان ہے، گو کہ ہندوستان میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر کمیونٹیز کی سیاسی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے، لیکن ان میں مسلمانوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ عیسائیوں اور سکھوں کے پاس اپنی لیڈرشپ ہے اور ان کے ایم پی اور ایم ایل اے کافی مضبوط پاورفل ہیں۔ وہ انتظامیہ اور عدلیہ میں بھی اپنا بھاری وجود رکھتے ہیں۔ یہ لوگ مذہبی معاملات میں بھی میری ناقص رائے کے مطابق (باطل عقائد رکھنے کے باوجود) اپنے مذہب و کلچر کے حوالے سے مسلمانوں سے کہیں زیادہ پختہ ہیں اور اپنی مضبوط مذہبی شناخت بھی رکھتے ہیں۔ سکھ ہے تو سر پہ پگڑی ہوگی اور عیسائی ہے تو گلے میں نشان صلیب لازماً ہوگا۔ یہ اپنی شناخت کے ساتھ اس قدر منصف ہیں کہ رائٹ ونگ ہندوتوادی حکومت بھی ان کے پرسنل لاء اور مذہبی شعار میں مداخلت سے ڈرتی ہے ، ان کے خلاف یا ان کے مذہبی اداروں یا ثقافتی ورثوں کے خلاف کسی بھی طرح کا اقدام کرنے سے کوسوں دور رہتی ہے۔ ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ ہندؤں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آر ایس ایس اور ہندستان کی تین چھوٹی اقلیتیں سکھ عیسائی اور جین کے کامیابی کے راز کیا ہیں؟

قیامت کی دو اہم نشانیاں

دین اسلام میں ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اعتدال کو بنیادی صفات قرار دیا گیا ہے۔ شریعت نے ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں کو اہمیت دی ہے، لیکن بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی عمل کی اصل قدر و قیمت اس کی نیت، اخلاص اور ترجیحات میں توازن کے ساتھ ہے۔ یہی اصول مساجد کی تعمیر و تزئین اور دیگر دینی امور میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔


حسنِ تعمیر اور زیبائش خود شریعت میں ممنوع یا ناپسندیدہ نہیں، بلکہ جب معاشرہ اپنے فرائض، دین کی ضروریات اور اصل تقاضوں کی تکمیل کر رہا ہو تو ایسے مستحب اور تزئینی کام باعثِ اجر و سعادت ہیں۔لیکن یہ اس وقت متوازن ہے جب کمیونٹی کی اصل دینی فرائض ،اخلاقی اور تعلیمی ضروریات اور ترجیحات پسِ پشت نہ ڈال دی جائیں۔ مثال کے طور پر، اگر نمازیوں کی تعداد کم ہے، ائمہ و مؤذنین کی ضروریات اور حقوق پورے نہیں ہو رہے، غریب و نادار مسلمانوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا، دینی تعلیمات کمزور ہیں اور اصلاحِ اخلاق پر محنت نہیں ہو رہی تو محض ظاہری خوبصورتی پر زور دینا ہرگز مناسب نہیں۔


سیرتِ نبوی ﷺ پر غور کریں تو یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ تشکیل دیا تو سب سے پہلی توجہ شخصیت سازی، عدل و انصاف کے قیام اور اخلاق کی اصلاح پر دی۔ حضورِ اکرم ﷺ کو اقتدار و اختیار ملا، مگر آپ نے نہ کبھی عالی شان محل بنایا، نہ شاہی انتظامات قائم کیے، نہ حکومتی اندازِ حکمرانی کے دنیاوی پیمانے اپنائے۔ مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر بھی سادگی کا نمونہ تھی، اور اس کی چھت کھجور کی پتیوں سے بنی تھی۔ سہولت اور سادگی کا یہ منظر خود احادیث میں محفوظ ہے۔


عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قال:  

جَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ حَتَّى سَالَ السَّقْفُ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ  

(صحيح البخاري: ٦٣٨)

ترجمہ: ایک بادل آیا اور بارش ہوئی، حتی کہ مسجد کی چھت (جو کھجور کی شاخوں کی بنی تھی) ٹپکنے لگی۔ نماز قائم ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا، حتی کہ آپ کی پیشانی پر کیچڑ کا نشان دیکھا۔


عن عبدِ اللهِ بنِ أنيسٍ رضي الله عنه قال:  

أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأُرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ  

(صحيح مسلم: ١١٦٨)


قال أبو سعيد:  

فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ  

(السُّنن الكبرى للبيهقي: ٢٦٥١)

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی، اور اس کی صبح میں مجھے پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تیئسویں رات بارش ہوئی، آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، اور جب واپس لوٹے تو پیشانی اور ناک پر پانی و کیچڑ کے نشان تھے۔


بابُ تَرْكِ مَسْحِ الْجَبْهَةِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ  

(السُّنن الكبرى للنسائي: ١١٣٦)


ان تمام روایات سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اصل توجہ ظاہر پر نہیں، بلکہ عبادت میں خشوع، سادگی اور اخلاص پر دی۔ مسجد کی ظاہری تزئین اگر اصل مقصد اور ضرورتوں کے بعد ہو تو باعثِ اجرہے؛ بصورتِ دیگر یہ ترجیح دینا باعثِ نقصان و محرومی بھی بن سکتا ہے۔


حالاتِ حاضرہ خصوصاً بھارتی دیہی مسلمانوں کے ماحول میں مشاہدہ کیا جائے تو تعمیراتِ مساجد، مینار و محراب کی زیبائش اور دوسری طرف دین کے نام پر بے سود جلسے اور اعراس پر بہت مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں؛ جبکہ راست دینی اور اصلاحی مقاصد اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔مستحب امور پر اس قدر زور و شور ہے کہ فرائض اور ضروریات کمزور یا نظرانداز ہو چکے ہیں۔


یہ صورتحال نبی اکرم ﷺ کے اس تربیتی اسلوب سے مختلف ہے جہاں مسجد کی تعمیر سے بڑھ کر نمازیوں کی تعمیر کو فوقیت دی گئی۔ روحانی صفائی، اجتماعیت، تعلیمِ قرآن، اخلاقِ فاضلہ ، قیام عدل و انصاف،  تعلیم و تدریس اور تربیت کے شعبے ترجیحات میں رہے ہیں۔


اب اس ضمن میں علماء و مفتیان کرام سے نہایت ادب سے سوال ہے کہ  

اگر کوئی ایک سادہ مٹی کی مسجد ہو، دوسری مضبوط سیمنٹ کی، تیسری عالی شان قالین و سنگ مرمر اور قمقموں سے آراستہ ہو، تو سب سے زیادہ فضیلت کس میں؟  


ناچیز کی رائے میں تو اصل فضیلت اس جگہ ہے جہاں خلوص، عاجزی، جماعت کا اہتمام، قلبی خشوع اور فقر کا اثر ہو۔ جس جگہ سجدے کا نشان پیشانی پر باقی رہ جائے، جیسا کہ "من أَثَرِ السُّجود" سے بھی اشارہ ملتا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ان نمازیوں کے لیے جن کی پیشانی پر سجدے کے غبار ہوں، جب تک غبار ہو، فرشتے ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔

 *دوسری غلط ترجیح* 

دوسری طرف، ہمارے معاشرے میں بے سود  جلسے، جلوس اور اعراس جیسی رسوم زیادہ رائج ہو گئی ہیں بلکہ فرائض و ترجیحات پر غالب ہیں۔

ذرا اس عہدِ پر فتن کے رنگین دھوکے پر غور کیجیے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے علاقے میں ایک جلسہ ہوا، جس پر اندازاً دس لاکھ روپے بہا دیے گئے۔ غالباً یہ عظیم الشان منصوبہ اس طرح رچا گیا ہوگا کہ امام صاحب کے پاس ایک جوشیلے نوجوان نے آکر عرض کیا ہوگا: "حضور! ایک ایسا جلسہ ہونا چاہیے کہ پورے ضلعے میں گونج اٹھے، گاؤں کا نام روشن ہو جائے!" چنانچہ مقامی کمیٹی، امام صاحب، نوجوانانِ ملت اور قرب و جوار کے علما سب شریکِ مشورہ و مصرف ہوئے، طوعا کرھا ٹارگیٹڈ بجٹ سمیٹا گیا ہوگا۔ مقصد؟ بس نام، شہرت، تعریف اور داد! خطیب، نقیب، شاعر اور پیرانِ کرام ہر سُو سے آئے، لیکن نیتیں اکثراً "نذرانے" اور "لفافے" کی تھیں۔

سامعین بھی کچھ کم نہ تھے۔ مرد، عورتیں سب آئے، مگر جذبہ؟ صرف یہ کہ "فلاں صاحب کی تقریر سننی ہے"، یا "نعت کیسے پڑھتے ہیں دیکھیں!"

کاش کہ میرا یہ اندازہ غلط ہو! کاش کوئی ایک بھی ایسا نکلے جو اخلاص، للّٰہیت اور دین سیکھنے کے شوق سے آیا ہو۔ لیکن اگر یہ گمان درست ہے... تو پھر یاد رکھیے! وہ گھڑی قریب ہے جس کی خبر سرورِ کائنات ﷺ نے دی تھی *قیامت نزدیک ہے!*

 *حدیث پاک:*

يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ

(شعب الإيمان: ٣/٣١٧)

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا، قرآن میں صرف رسم و خط باقی رہ جائے گا، ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، انہی سے فتنہ پیدا ہوگا اور انہی میں واپس لوٹ آئے گا۔

اسی طرح:

السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ۔

(الکامل لا بن عدی)

سنت ان کے لیے بدعت اور بدعت ان کے لیے سنت بن جائے گی۔

ایک روایت ہے کہ؛ 

أَتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ هَمُّهُمْ بُطُونُهُمْ وَشَرَفُهُمْ مَتَاعُهُمْ وَقِبْلَتُهُمْ نِسَاؤُهُمْ وَدِينُهُمْ دَرَاهِمُهُمْ

(مسند الفردوس للديلمي)


یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگوں کی قدر و وقعت مال و دولت اور کھانے پینے تک محدود رہے گی، قبلۂ زندگی عورتیں ہوں گی اور دین فقط دنیاوی منفعت تک رہ جائے گا۔


ان سب مثالوں، احادیث اور معاشرتی پہلوؤں سے آج یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ  

تزئینِ مسجد و دینی عمارت و اعراس وغیرہ کوئی حرام یا مطعون کام نہیں، بلکہ اگر اصل دینی ترجیحات مضبوط ہوں تو یہ بھی باعثِ اجر ہیں، لیکن اگر فرائض اور ضروری حقوق نظرانداز ہو جائیں تو پھر یہ ترجیحات تبدیلی کی متقاضی ہیں۔


اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم شریعت کی اصل روح کو سمجھیں، اپنی ترجیحات کو درست رکھیں اور ظاہری کاموں کے ساتھ اصل دینی ضرورتیں، ایمانی صفائی اور معاشرتی فلاح کو کبھی نہ چھوڑیں۔ آمین۔


محمد شہادت حسین فیضی 

9431538584

Featured Post

 خوداحتسابی کا فقدان ہماری ناکامیوں کا سبب ہے ہم نے اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پر پھوڑنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی اجتماعی یا انفرادی ن...